• بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن

’’انسانی تھری ڈی پرنٹر‘‘ منفرد صلاحیت کی حامل چینی خاتون

فوٹو: سوشل میڈیا
فوٹو: سوشل میڈیا

چین میں ایک خاتون کو اس کی منفرد صلاحیت کی وجہ سے ’’انسانی تھری ڈی پرنٹر‘‘ کا لقب دیا گیا ہے، وہ اپنے دانتوں کی مدد سے گاجروں پر نہایت پیچیدہ مجسمے تراشتی ہیں۔ اس پورے تخلیقی عمل میں وہ کسی قسم کے چاقو یا دیگر اوزار استعمال نہیں کرتی۔

25 سالہ چن چن کو  ’’دنیا کی واحد دانتوں سے نقش و نگار بنانے والی فنکار‘‘ بھی کہا جاتا ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ یہ ہنر مکمل طور پر اتفاقاً دریافت کیا۔

گزشتہ سال اسپرنگ فیسٹیول کے دوران لائیو اسٹریمنگ کرتے ہوئے وہ گاجر کھا رہی تھیں کہ انہوں نے اپنے دانتوں سے اسے ایک سادہ شکل دینے کی کوشش کی۔ ان کی اس تخلیق کو ناظرین نے بہت سراہا، جس کے بعد انہوں نے مختلف سبزیوں پر تجربات شروع کر دیے۔

اس نوجوان اسٹریمر نے سفید اور سبز مولی پر بھی کام کیا، لیکن وہ ان کے معدے کے لیے موزوں نہیں تھیں، اس لیے وہ دوبارہ گاجر کی طرف لوٹ آئیں۔ گاجر نہ صرف ان کے معدے کے لیے بہتر ہے بلکہ اس کا شوخ نارنجی رنگ اور سختی بھی اسے تراشنے کے لیے موزوں بناتی ہے۔

کھانے کے قابل فن پارے بناتے وقت چن چن پہلے سے گاجر کو نہیں کاٹتیں یا اس کی شکل نہیں بناتیں، بلکہ صرف اپنے دانتوں، خاص طور پر اگلے دانت اور بعض اوقات کینائن دانت، کا استعمال کرتی ہیں اور باریک ترین تفصیلات کے لیے نہایت احتیاط سے کام لیتی ہیں۔ یہ پورا عمل زیادہ تر ان کے تجربے اور احساس پر منحصر ہوتا ہے تاکہ وہ شکل اور باریکیوں کو کنٹرول کر سکیں۔

اب تک چن چن 100 سے زائد گاجر کے فن پارے بنا چکی ہیں، لیکن ان کی سب سے مقبول تخلیقات میں دیوارِ چین اور یلو کرین ٹاور کے ماڈل شامل ہیں۔

دلچسپ و عجیب سے مزید