اسرائیل نے ایران کی جوہری تنصیب نطنز پر حملے سے لاعلمی کا اظہار کردیا۔ اسرائیلی فوج کا کہنا ہے کہ ایران کی جوہری تنصیب نطنز پر حملے کا علم نہیں ہے۔
دوسری جانب عالمی جوہری توانائی ایجنسی کا کہنا ہے کہ ایران نے نطنز جوہری تنصیب پر حملے سے آگاہ کر دیا ہے۔
عالمی جوہری توانائی ایجنسی کا کہنا ہے کہ نطنز جوہری تنصیب کے مقام پر تابکاری کی سطح میں اضافے کی اطلاع نہیں، نطنز جوہری تنصیب پر حملے کے واقعے کا جائزہ لے رہے ہیں۔
روس نے ایرانی جوہری تنصیب نطنز پر حملے کی مذمت کی ہے، روسی وزارت خارجہ کا کہنا ہے کہ نطنز جوہری تنصیب پر حملہ عالمی قانون کی خلاف ورزی ہے۔
اس سے قبل ایران کی ایٹمی توانائی تنظیم (اے ای او آئی) نے باضابطہ تصدیق کی کہ اس کے ایک اہم جوہری مرکز پر حملہ کیا گیا ہے۔ تاہم ادارے کی جانب سے یہ واضح نہیں کیا گیا کہ حملہ کس طرح کیا گیا اور اس میں کس نوعیت کے ہتھیار استعمال ہوئے۔
اس کے ساتھ ہی حکام نے عوام کو یقین دہانی کروائی ہے کہ اس حملے کے نتیجے میں کسی قسم کی جوہری تابکاری خارج نہیں ہوئی، لہٰذا قریبی آبادیوں کو کسی خطرے کا سامنا نہیں۔
یہ بات قابلِ ذکر ہے کہ نطنز جوہری تنصیب ایران کی سب سے اہم جوہری تنصیبات میں شمار ہوتی ہے، جو ملک کے وسطی حصے میں واقع ہے۔ اس کے علاوہ اصفہان نیوکلیئر ٹیکنالوجی سینیٹر بھی ایران کے جوہری پروگرام میں مرکزی حیثیت رکھتا ہے۔
اس جنگ کے دوران امریکا اور اسرائیل کا ایک بڑا ہدف ایران کے جوہری پروگرام کو نقصان پہنچانا اور اسے ممکنہ طور پر جوہری ہتھیار بنانے سے روکنا رہا ہے۔
گزشتہ دنوں میں اصفہان کے قریب تنصیبات پر حملوں کی اطلاعات سامنے آتی رہی ہیں، تاہم نطنز پر اس نوعیت کے بڑے حملے کی یہ پہلی تصدیق ہے۔