• بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن

پاکستان ٹیم کے ساتھ کام کے دوران مداخلت و بیرونی دباؤ نے خاصی مشکل کردی تھی، گیری کرسٹن

گیری کرسٹن : فائل فوٹو
گیری کرسٹن : فائل فوٹو 

پاکستان کرکٹ ٹیم کے سابق ہیڈ کوچ گیری کرسٹن نے پاکستان میں اپنے مختصر دورِ کوچنگ کے حوالے سے کہا ہے کہ پاکستان ٹیم کے ساتھ کام کے دوران باہر سے غیر معمولی مداخلت اور بیرونی دباؤ نے ان کے لیے حالات کو خاصا مشکل بنا دیا تھا۔

ایک انٹرویو میں گیری کرسٹن کا کہنا تھا کہ کوچ کے لیے اس وقت مؤثر انداز میں کام کرنا دشوار ہو جاتا ہے جب باہر سے مسلسل شور اور دباؤ موجود ہو۔

انہوں نے کہا کہ ایسے ماحول میں کھلاڑیوں کے ساتھ واضح حکمت عملی ترتیب دینا اور اس پر عملدرآمد کروانا ایک بڑا چیلنج بن جاتا ہے۔

سابق کوچ کے مطابق ٹیم کی خراب کارکردگی پر فوری اور سخت ردعمل، تادیبی اقدامات، مجموعی ماحول کو متاثر کرتے ہیں اور عدم استحکام پیدا کرتے ہیں۔

گیری کرسٹن نے کہا کہ جب ٹیم توقعات پر پورا نہ اترے تو کوچ کو محدود کردینا یا اسے تبدیل کرنا آسان سمجھا جاتا ہے، تاہم گیری کرسٹن کے مطابق یہ رویہ فائدہ مند ثابت نہیں ہوتا۔ 

ان کا کہنا تھا کہ اگر کسی کوچ کو ذمہ داری سونپی جائے تو اسے اپنی حکمت عملی کے مطابق کام کرنے کی مکمل آزادی دی جانی چاہیے۔

تاہم انہوں نے پاکستانی کھلاڑیوں کی پیشہ ورانہ صلاحیتوں کو سراہتے ہوئے کہا کہ انہیں ٹیم کے ساتھ کام کرنے کا تجربہ خوشگوار رہا۔ ان کے مطابق دنیا بھر کے کرکٹرز کی طرح پاکستانی کھلاڑی بھی باصلاحیت اور پیشہ ور ہیں اور ان کے ساتھ کام کرنا ایک مثبت تجربہ تھا۔

انہوں نے مزید کہا کہ اگرچہ زبان کا فرق موجود تھا، تاہم کرکٹ ایک ایسی زبان ہے جو سب کو جوڑتی ہے اور میدان میں بہتر رابطے میں مدد دیتی ہے۔

کھیلوں کی خبریں سے مزید