آپ آف لائن ہیں
ہفتہ6؍ربیع الاوّل 1442ھ 24؍اکتوبر 2020ء
  • بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیئرمین و ایگزیکٹوایڈیٹر: میر جاوید رحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن
Jang Group

مسئلہ کشمیر … چند سوالات!

ڈیٹ لائن لندن … آصف ڈار
اس میں کوئی شک نہیں کہ کشمیر پاکستان کے لیے سب سے بڑا مسئلہ ہونا چاہیے، کیونکہ خود قائداعظم نے کشمیر کو پاکستان کی شہ رگ قرار دیا تھا۔ ایسا ممکن ہی نہیں کہ پاکستان اس مسئلے پر کسی کوتاہی کا مرتب ہو، پاکستان کے عوام یقیناً اس مسئلہ کو اپنی زندگی و موت کا مسئلہ سمجھتے ہیں اور وہ کبھی کسی بھی صورت میں اس پر سمجھوتہ نہیں کریں گے، البتہ پاکستان کی مختلف ادوار میں آنے والی حکومتوں کی مسئلہ کشمیر پر پالیسیاں ایک دوسری سے مختلف رہی ہیں۔ تاہم اس کے باوجود پاکستان کے عوام کے سخت دبائو اور عزم کی وجہ سے کوئی بھی حکومت اس معاملے پر عوامی جذبات کو مجروح کرنے کی جرأت نہیں کرسکی، مگر اب ایسا لگتا ہے کہ دنیا کی بڑی طاقتوں کو کچھ اور ہی منظور ہے، امریکی صدر نے جس طرح اسرائیل کے ساتھ بعض مسلمان ممالک کے تعلقات بحال کرکے اور متحدہ عرب امارات اور اسرائیل کا سمجھوتہ کراکے کریڈٹ لیا ہے اسی طرح وہ شاید مسئلہ کشمیر کو بھی ’’حل‘‘ کرکے مزید کریڈٹ لینے اور امریکی انتخابات میں کامیابی حاصل کرنے کا خواب دیکھ رہے ہیں، اس کی واضح مثال یہ ہے کہ انہوں نے وزیراعظم عمران خان سے ملاقات کے دوران اپنی اس خواہش کا اظہار کیا تھا کہ وہ اس مسئلہ کا ’’حل‘‘ دیکھنا چاہتے ہیں جس کے بعد انہوں نے بھارتی وزیراعظم

نریندر مودی کے ساتھ بھی ملاقات کی تھی، ان دنوں آہستہ آہستہ سوشل میڈیا اور عالمی ذرائع ابلاغ میں بھی پاک بھارت کرکٹ کی بحالی کے معاملے پر بات ہورہی ہے، ایک برطانوی ٹی وی نے تو اس حوالے سے وزیراعظم عمران خان سے سوال بھی کر ڈالا تھا جس پر وزیراعظم نے فوری نرم رویہ اختیار کرتے ہوئے بھارت سے کرکٹ کی بحالی کوسیاسی تعلقات کی بحالی سے مشروط کردیا تھا۔ اب ان کی نظر میں ’’سیاسی تعلقات‘‘ سے مراد کیا ہے؟ اس بارے میں خود وزیراعظم کو ہی وضاحت کرنا ہوگی، مگرمیرے منہ میں خاک، مجھے ایسا لگ رہا ہے کہ مذاکرات کے بہانے دونوں ممالک کے تعلقات آگے بڑھیں گے۔ بات چیت ہوگی تو کرکٹ کی بحالی، ہاکی، کبڈی اور دوسرے کھیلوں کی بات بھی ہوگی، بزنس کمیونٹیز کو ویزوں کا اجرا اور ثقافتی وفود کا تبادلہ بھی ہوگا۔ اس کے ساتھ ساتھ مسئلہ کشمیر پر سیاسی بیان بازی بھی جاری رہے گی،مقبوضہ کشمیر میں کیا ہورہا ہے، اس پر سب آنکھیں موندلیں گے، اس حوالے سے پاکستان کے ممتاز اینکر پرسن، تجزیہ نگار اور کالم نویس سلیم صافی نے ’’دی نیوز‘‘ کے (Opinion Page) میں ڈپلومیٹک بلنڈرز کے نام سے27دسمبر2019ء کو لکھی گئی ایک تحریر کو برطانیہ میں مقیم لبریشن فرنٹ (امان اللہ) کے ایک ممتاز رہنما ظفر خان نے واٹس ایپ پر شیئرز کیا ہے جس میں انہوں نے ایسے چند سوالات اٹھائے تھے جن کا جواب ابھی تک نہیں مل سکا، نہ کسی سیاسی لیڈر نے ان سوالات کی توجیح کی، نہ عمران خان اور ان کی حکومت کے کسی ترجمان نے اس پر بات کی، ظفر خان کہتے ہیں کہ انہیں سلیم صافی کی اس تحریر کا لنک مقبوضہ کشمیر کے کسی دوست نے بھیجا ہے۔ (جو اپنا نام ظاہر نہیں کرنا چاہتے) جہاں پر بھارتی بربریت کا شکار ہونے والے70لاکھ سے زیادہ کشمیری ان سوالات کے جواب کے منتظر ہیں،ان میں سے چند سوالات یہ ہیں کہ5اگست2019ء کو جب بھارت نے مقبوضہ کشمیر کی خصوصی حیثیت ختم کی، اس کے حصہ بخرے کیے اور اسے عملاً ایک بڑی جیل تبدیل کردیا تو وزیراعظم عمران خان نے خود کو کشمیریوں کا سفیر قرار دے کر اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی میں خطاب کے لیے مسئلہ کشمیر کو واحد ایجنڈا قرار دیا تھا تو پھر وہ نیو یارک جانے کے لیے سعودی عرب کے راستے کیوں گئے اور سعودی ولی عہد کا خصوصی طیارہ کیونکر استعمال کیا، حالانکہ سعودی عرب کی مسئلہ کشمیر پر پالیسی واضح ہے اور اس نے بھارت کے اس اقدام کی ایک بار بھی مذمت نہیں کی، اس کی بجائے عمران خان کو ترکی، ایران اور ملائیشیا کا دورہ کرنے کے بعد امریکہ جانا چاہیے تھا، جنہوں نے چین کے ہمراہ بھارت کے اس اقدام کی شدید مذمت کی تھی اور بھارت کے ساتھ ایک قسم کی دشمنی مول لے لی تھی، ایک سوال یہ بھی ہے کہ مسئلہ کشمیر کو چھوڑ کر عمران خان نے امریکہ اور ایران کے درمیان ثالثی کرنے کی ذمہ داری کیوں لی جس سے نہ صرف مسئلہ کشمیر کو نقصان پہنچا بلکہ سعودی عرب نے بھی ناراض ہوکر اپنا طیارہ واپس بلوالیا، ایک سوال یہ بھی ہے کہ پاکستان نے کوالالمپور کانفرنس میں شرکت کیوں نہیں کی جس میں نہ صرف مسئلہ کشمیر پر بات ہوئی بلکہ ایک مشترکہ مسلم ٹی وی چینل کا قیام بھی عمل میں لانا تھا، یہ اور اس قسم کے دوسرے سوالات مقبوضہ کشمیر میں بسنے والے سارے کشمیریوں کے ذہنوں میں ہیں، جو ان کا جواب چاہتے ہیں، یقیناً دوسرے ممالک میں رہنے والے کشمیریوں اور پاکستانی عوام کے بھی یہی سوالات ہیں، تو پھر ان کا جواب کون دے گا۔

یورپ سے سے مزید