آپ آف لائن ہیں
اتوار7؍ ربیع الاوّل1442ھ 25؍اکتوبر2020ء
  • بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیئرمین و ایگزیکٹوایڈیٹر: میر جاوید رحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن
Jang Group

پارلیمنٹ میں FATFکے قانون کی منظوری میں اپوزیشن کی عددی اکثریت کے باوجود PTIکی حکومت کی سمجھدارانہ حکمت عملی سے بظاہر پاکستان پر بڑھتے ہوئے بین الاقوامی تجارت اور دیگر پابندیوں کے خدشات ختم ہو گئے ہیں۔ اس طرح NABکے حوالے سے حکومت پر بڑھنے والے دبائو میں بھی کمی آ گئی ہے۔ بین الاقوامی مالیاتی اداروں کی طرف سے پارلیمینٹ کے اس اقدام کو سراہا گیا ہے لیکن ساتھ ساتھ یہ وارننگ بھی دی گئی ہے کہ پاکستان ابھی سارے خطرات سے نکلا نہیں ہے، یہ بھی ہو سکتا ہے کہ اگلے ماہ کے وسط میں ہونے والے اجلاس میں چند نئی شرائط دے دی جائیں جس کے لئے پاکستان دشمن طاقتیں بین الاقوامی سطح پر خاصی سرگرم ہیں، جن کے بارے میں ملک کے دفاع کرنے والوں اور نظام حکومت چلانے والوں کو سب کچھ علم ہے۔ پارلیمنٹ کے بل کی منظوری میں اپوزیشن کی بظاہر شدید مخالفت کے باوجود اس کے کئی بحران کی غیرحاضری سے قومی سطح پر کئی شکوک وشبہات پیدا ہوگئے ہیں جن کو دور کرنے کے لئے اپوزیشن کو ہر سطح پر اپنی پوزیشن کلیئر کرنا ہوگی، صرف پارلیمنٹ کے اجلاس کے حوالے سے اسپیکر یا حکومتی رویے پر افسوس یا بلند آوازوں میں تنقید کرنے سے کام نہیں چلے گا۔ اسلام آباد میں اب ایسے لگ رہا ہے کہ کمزور ترین گورننس اور لاتعداد مسائل اور بدانتظامی کے واقعات کے باوجود PTIکی حکومت اپنا نظام چلاتی رہےگی۔ اسلام آباد کے کئی سفارتی حلقوں کے ماہرین کا خیال ہے کہ اپوزیشن کے پاس عوام اور بالخصوص سفارتی حلقوں میں اپنی اپوزیشن کلیئر کرنے کا ایک بہترین موقع ہاتھ سے کھو دیا گیا ہے، اب پارلیمنٹ کے باہر APCسے لیکر احتجاج کے مختلف طریقے اپنانے سے کوئی فائدہ نہیں ہو سکتا۔ حقیقت میں دیکھا جائے تو انتظامی گورننس کے لحاظ سے موجودہ حکومت کے پاس بیگیج میں کوئی بھی بڑا کارنامہ نہیں ہے جس پر وہ فخر کر سکے۔ یہ تو کورونا کے پہلے مرحلہ میں عوام کی توجہ بٹی رہی ورنہ حکومت پر عوامی دبائو مختلف اقتصادی مسائل حل کرنے کے حوالے سے مزید بڑھ سکتا تھا لیکن اللہ تعالیٰ نے حکومت کی تو شاید نہیں پاکستان کی بڑی مدد کی اور یہاں کورونا کے نقصانات وہ نہیں ہیں جو بھارت سے لیکر یورپ کے کئی ممالک میں ہوئے یا ہو رہے ہیں۔ اب تعلیمی ادارے کھلنے اور پوسٹ محرم کے ریفرنس میں اطلاعات ہیں کہ کورونا کا مسئلہ پھر سر اٹھا رہا ہے، خدارا

عوام اس سلسلہ میں حکومتی اور متعلقہ اداروں کو ہدایات اور طے شدہ SOPپر عملدرآمد کریں ورنہ خدانخواستہ ہماری صحت اور سماجی شعبوں اور اقتصادی حالات پر خاصے منفی اثرات مرتب ہو سکتے ہیں، اس لئے بحیثیت قوم ہم سب کو ذمہ داری کا مظاہرہ کرنا ہوگا جبکہ دوسری طرف ملک میں حکومت اور اپوزیشن کے درمیان ایشوز سے زیادہ نان ایشوز پر ہونے والی سیاسی کشیدگی کو ختم کرنے کیلئے قومی سطح پر کچھ کرنے کی ضرورت ہے، اس لئے کہ عوام کی اکثریت کو یہ بات سمجھ نہیں آ رہی کہ ملک کی سالمیت اور سلامتی کے اندر حکومت اور اپوزیشن میں اس طرح کی صورتحال پیدا نہیں ہونی چاہئے بلکہ قومی سطح پر اعتماد اور اتفاق رائے سے قومی امور چلانے کے لئے سوچ اجاگر کرنے کی ضرورت ہے۔ اکثر ہماری سیاسی لیڈر شپ ایسا کرنے میں ناکام رہی ہے تو بین الاقوامی سطح پر پاکستان پر FATFکے بعد کوئی اور نیا دبائو سامنے آ سکتا ہے جس سے حکومت، اپوزیشن سمیت سب کی پریشانیوں اور مشکلات میں اضافہ ہو سکتا ہے۔

(کالم نگار کے نام کے ساتھ ایس ایم ایس اور واٹس ایپ رائے دیں 00923004647998)