آپ آف لائن ہیں
ہفتہ6؍ربیع الاوّل 1442ھ 24؍اکتوبر 2020ء
  • بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیئرمین و ایگزیکٹوایڈیٹر: میر جاوید رحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن
Jang Group

کراچی،سوشل میڈیا پر نوکری کا جھانسہ،بدفعلی،2افراد گرفتار

کراچی (اسٹاف رپورٹر) ایف آئی اے سائبر کرائم سرکل نے مختلف علاقوں میں کارروائیوں کے دوران سوشل میڈیا پر نوکری کا جھانسہ دے کر اسلحے کےزور پر بدفعلی کرنے والے 2 کارندوں کو گرفتار کرلیا ، گرفتار کارندوں نے کئی نوجوانوں سے زیادتی کا انکشاف بھی کیا ہے۔ تفصیلات کے مطابق سوشل میڈیا پر نوکری کا جھانسہ، اور انٹریو پر پہنچنے والے نوجوانوں سے اسلحے کے روز پر بدفعلی کا انکشا ف ہوا ہے ، ویڈیو بنا کر بلیک میلنگ اور ویڈیوز انٹرنیشل پورن ایپلیکشن پر اپ لوڈ کرنے والا گروہ بے نقاب فیسبک، واٹس ایپ اور دیگر سوشل میڈیا ایپلی کیشنز کے ذریعے نوکری کا جھانسہ دے انٹریو پربلانے کے بعد نوجوانوں سے اسلحے کے روز پر زیادتی کی ا یک شخص نے ویڈیو بنائی اور بلیک میلنگ شروع کردی، کر اچی کال سینٹر جابز کے نام گروپ میں شامل ہونے والے15سالہ نوجوان کے ساتھ زیادتی ایف آئی اے سائبر کرائم سرکل نے مختلف علاقوں میں کارروا ئیوں میںگروپ کے 2 کارندوں کو گرفتار کرلیا ،گروپ کے گرفتار کارندوں نے کئی نوجوانوں سے زیادتی کے واقعات کا انکشاف کردیا،گرو ہ کے کارندوں سے ملنے والے موبائل فون سے کئی غیر اخلاقی ویڈیوز برآمد کر لیں ، متاثرہ نوجوان نے ایف آئی اے سائبر کرائم سرکل سے چند روز پہلے رابطہ کیانوجوان کو واٹس ایپ پر کراچی کال سینٹر جوبز کے

گروپ کے ذریعے نوکری کی آفر ہو ئی نوجوان کو انٹرویو کے لیے ڈرگ روڈ پر واقع فلیٹ پر بلایا گیا جہاں اس کے ساتھ زیادتی کی گئی اور اسے بلیک میل کرنے کے لئے ویڈیو بھی بنائی گئی گرو ہ کے کارندے نوجوان کو بلیک میل کرکے ویڈیو اس کے گھر والوں کو بھیج رہے تھے،یہ گروپ ویڈیوز دیگر انٹرنیشنل سوشل میڈیا ایپلیکیشنز پر بھی اپ لوڈ کر چکا ہےگروپ کے کارندوں کو گلستان جوہر اور دیگر روڈ سے گرفتار کیا گیاملزمان کے قبضے سے ملنے والے موبائل فون سے زیادتی کی ویڈیوز بنا کر بلیک میلنگ کے شواہد اور کئی متاثرہ لوگوں کی درجنوں ویڈیوز ملی ہے، ایف آئی اے سائبر کرائم سر کل کے مطابق گروپ کے نوجوان بچوں کو نوکری کا جھانسہ، دے کر غیر اخلاقی ویڈیوز بنا کر انٹرنیشنل ایپ پر اپلوڈ کردیا کرتا ہےبیشتر متاثرہ لڑکوں نے بدنامی سے بچنے کے لیے نہ ہی پولیس کو اور نہ ہی ایف آئی اے کو شکایت کی،یہ گروپ ہوموسیکس ایپ گرنڈر پر ویڈیوز اپ لوڈ کرتا تھا۔

اہم خبریں سے مزید