آپ آف لائن ہیں
ہفتہ6؍ربیع الاوّل 1442ھ 24؍اکتوبر 2020ء
  • بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیئرمین و ایگزیکٹوایڈیٹر: میر جاوید رحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن
Jang Group

سندھ ہائیکورٹ، حفاظتی اقدام کے بغیر تعلیمی ادارے کھولنے پر سیکرٹری تعلیم طلب

کراچی (اسٹاف رپورٹر) سندھ ہائی کورٹ کے جسٹس محمد علی مظہر کی سربراہی میں دو رکنی بینچ نے کورونا وبا کے دوران حفاظتی اقدام کے بغیر تعلیمی ادارے کھولنے پر سیکرٹری تعلیم سندھ کو6 اکتوبر تک طلب کرلیا ہے۔ تفصیلات کے مطابق درخواست گزار فضل الرحمن صدیقی نے اپنے وکیل شارق ایڈووکیٹ کے توسط سے چیف سیکرٹری سندھ، سیکرٹری تعلیم سندھ، سیکرٹری اسکولز اینڈ کالجز، سیکرٹری بورڈ اینڈ یونیورسٹیز، ڈائریکٹر پرائیویٹ اسکولز، آئی جی سندھ کو فریق بناتے ہوئے موقف اختیار کیا گیا ہے بغیر پالیسی ترتیب دیئے حکومت سندھ کی طرف سے تعلیمی ادارے کھولنے کا اعلان کر دیا ہے جسکے نتیجے میں عالمی وبا کورونا تیزی سے پھیل سکتی ہے حکومت نے جو پالیسی واضح کی ہے وہ صرف بچوں کے والدین تک محدود ہے جبکہ اسکولز اور طلبہ کیلئے کوئی ایس او پیز نہیں ہیں، کلاسز اور ان میں بچوں کی تعداد کا تعین نہیں کیا گیا، ہاتھوں کو سیناٹائز کرنے کیلئے کیا طریقہ ہوگا ؟ ناقص پالیسی کے باعث حکومتی اعلان کے دو روز بعد ہی 24 اور 25 اگست کو کچھ تعلیمی ادارے بند کرنے پر حکومت خود ہی مجبور ہوگئی کیونکہ کورونا وبا بغیر ایس او پیز کے تیزی سے پھیلنے لگا۔لہٰذا عدالت عالیہ سے استدعا ہے کہ تعلیمی ادارے کھولنے سے قبل صورتحال کے پیش نظر باضابطہ طور پر حکمت عملی تیار کی جائے۔

اہم خبریں سے مزید