آپ آف لائن ہیں
ہفتہ6؍ربیع الاوّل 1442ھ 24؍اکتوبر 2020ء
  • بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیئرمین و ایگزیکٹوایڈیٹر: میر جاوید رحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن
Jang Group

فیٹف مخصوص قوانین میں وہی سخت شق کی نقل شامل

اسلام آباد (طارق بٹ) اینٹی منی لانڈرنگ (اے ایم ایل) اور دہشت گردی کی مالی اعانت کے جرائم سے متعلق پارلیمان کے ذریعے حال ہی میں منظور کردہ دو قوانین میں بالکل وہی سخت اضافے کی نقل موجود ہے۔

ان میں بہت سارے قوانین شامل ہیں، جن کو فنانشل ایکشن ٹاسک فورس (ایف اے ٹی ایف) کے ذریعے پاکستان کو گرے لسٹ سے ہٹانے کا حکم دیا گیا ہے۔

دونوں نئی ​​شقوں کے درمیان فرق صرف ان میں بیان کردہ مختلف جرم ہے۔ انسداد دہشت گردی ایکٹ (اے ٹی اے) 1997 میں شامل ترمیم میں جرم ’دہشت گردی کی مالی اعانت‘ ہے جبکہ یہ اے ایم ایل قانون میں ’منی لانڈرنگ‘ ہے۔

اے ٹی اے میں ایک نئی دفعہ (19 سی) کا اضافہ کیا گیا ہے جو کہتی ہے کہ تفتیشی افسرعدالت کی اجازت سے 60 روز کے اندر ٹیکنیک استعمال کرے جن میں درپردہ کارروائی، مخبروں کو لپکنا، کمپیوٹر نظام تک رسائی اور نافذ العمل قانون کے تحت دہشت گردی کی مالی اعانت کی تفتیش کیلئے کنٹرولڈ ڈیلیوری شامل ہیں۔

اہم خبریں سے مزید