آپ آف لائن ہیں
جمعہ5؍ربیع الاوّل 1442ھ 23؍اکتوبر2020ء
  • بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیئرمین و ایگزیکٹوایڈیٹر: میر جاوید رحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن
Jang Group

انگلینڈ میں قرنطینہ قواعد کی خلاف ورزی پر 10 ہزار پونڈ کا جرمانہ عائد کیا جاسکے گا

لندن (نمائندہ جنگ) انگلینڈ میں پیر سے قرنطینہ قواعد کی خلاف ورزی کرنے والوں پر10ہزار پونڈ تک کا جرمانہ عائد کیا جاسکے گا۔ یہ جرمانہ ایسے افراد پر لاگو ہوگا جن کا کورونا ٹیسٹ مثبت آنے کے بعد قرنطینہ میں رہنے کو کہا جائے گا لیکن وہ قواعد کی خلاف ورزی کے مرتکب ہوں گے۔ حکومت کی ایک ریسرچ رپورٹ کے مطابق صرف18فیصد ایسے افراد جن میں کورونا کی علامات ظاہر ہوتی ہیں، وہ قرنطینہ میں جاتے ہیں۔ تفصیل کے مطابق گزشتہ روز پیر سے جن افراد کو کورونا کا ٹیسٹ مثبت آنے کی صورت میں تنہائی میں رہنے کو کہا جائے گا اگر وہ اس پر عمل نہیں کریں گے تو ان پر ایک ہزار پونڈ جرمانہ عائد ہوگا۔ قواعد کی دوبارہ سنگین خلاف ورزی پر جرمانہ کی حد10ہزار پونڈ تک بڑھائی جاسکتی ہے، پولیس ’’لوکل انٹیلی جنس‘‘ کے تحت وائرس کے ہاٹ اسپاٹ اور خطرے سے دوچار گروپس کی نگرانی کرے گی۔ قانون کا اطلاق ایسے افراد پر ہوگا جن کا یا تو کورونا ٹیسٹ مثبت آیا ہو یا پھر وہ ایسے افراد کے ساتھ تعلق میں رہے ہوں جو کورونا میں مبتلا تھے اور

ٹیسٹ اینڈ ٹریس نے انہیں قرنطینہ میں جانے کو کہا ہے۔ مثبت کورونا ٹیسٹ آنے والے شخص کو رابطے میں رہنے والے افراد کی تفصیلات کے متعلق بھی این ایچ ایس ٹیسٹ اینڈ ٹریس کو قانونی طور پر مطلع کرنا ہوگا۔ ایسے افراد جن کی آمدن کم ہے یا وہ جن کے قرنطینہ میں رہنے کے سبب انکم نہیں ہوگی، حکومت انہیں پانچ سو پونڈ ادا کرے گی۔ انگلینڈ میں تقریباً4ملین ایسے افراد جو بینیفٹ لیتے ہیں وہ اس رقم کے حق دار ہوں گے۔ ہوم سیکرٹری پریتی پیٹل نے کہا کہ نیا جرمانہ اس بات کا غماز ہے کہ ہم چند افراد کی لاپروائی کو اکثریت کی مشترکہ کاوش کو تباہ نہیں کرنے دیں گے۔ ہیلتھ سیکرٹری میٹ ہینکاک نے کہا ہے کہ اگر کورونا کے کیسز بڑھے تو حکومت سخت اقدامات کرنے سے گریز نہیں کرے گی۔ انہوں نے کہا کہ موسم سرما میں فرنٹ لائن ورکرز کے لیے پی پی وی کی سپلائی بغیر کسی تعطل کے جاری رہے گی۔ نومبر میں چار ماہ کی سپلائی این ایچ ایس کے پاس ہوگی۔ این ایچ ایس پرو وائیڈرز کے چیف ایگزیکٹو کرس ہوپسن نے کہا اب ٹیسٹ اینڈ ٹریس کو انتہائی اہمیت حاصل ہوگی، کیونکہ اگر اس نے فعال طریقے سے کام نہ کیا تو اس کا نقصان ہم سب کو ہوگا۔ انہوں نے کہا کہ اگر کسی شخص میں کورونا کی علامات ہیں تو اسے چاہیے کہ وہ فوراً ٹیسٹ کرائے اور رابطوں میں رہنے والے افراد کی معلومات شیئر کرے۔ انہوں نے کہا کہ موسم سرما شروع ہورہا ہے، جب ہمیں ٹیسٹ کی چار گنا زائد صلاحیت در کار ہوگی اور کوشش ہوگی کہ ٹیسٹ سینٹر والوں کے گھر یا دفاتر کے قریب ہوں۔ انگلینڈ اور ویلز میں کورونا قواعد کی خلاف ورزیوں کے19ہزار جرمانے کیے گئے۔ برطانیہ کی حکومت کو توقع ہے کہ انگلینڈ میں متعارف کرائے جانے والیے جرمانوں کو ویلز، اسکاٹ لینڈ اور ناردرن آئر لینڈ بھی تقلید کریں گے۔ ویلز میں وائرس پھیلنے کے سبب مزید مقامات پر بھی لوکل ڈائون لگا دیا گیا ہے جس کے بعد ویلز کی دو تہائی آبادی لاک ڈائون میں رہنے پر مجبور ہے۔ لوگ بغیر کسی ضروری کام کے دوسری کائونٹی میں نہیں جاسکتے اور گھرانوں کی ملاقات پر بھی پابندی ہے۔ انگلینڈ میں جن افراد پر قرنطینہ میں رہنے کی پابندی عائد ہوگی وہ ضروری اشیا لینے یا ورزش کرنے گھر سے باہر نہیں جاسکیں گے، جب کہ ان کے ساتھ رہنے والے افراد یا رابطے میں رہنے والے افراد کو بھی14دن قرنطینہ میں رہنا ہوگا۔ ڈپارٹمنٹ فار ہیلتھ کی ریسرچ کے مطابق علامات ظاہر ہونے کے بعد بھی لوگ تنہائی اختیار نہیں کرتے۔ این ایچ ایس ٹیسٹ اینڈ ٹریس کی ہدایت کے بعد صرف11فیصد نے تنہائی اختیار کی۔ اکثر افراد کا یہ بہانہ ہوتا ہے کہ کیونکہ اب وہ بہتر محسوس کررہے ہیں، اس لیے وہ مقامی شاپ یا فارمیسی تک گئے، نوجوان اور بال افراد کی اکثریت قرنطینہ قواعد کی خلاف ورزی کی مرتکب ہوتی ہے۔ 

یورپ سے سے مزید