آپ آف لائن ہیں
جمعرات17؍ربیع الثانی 1442ھ3؍دسمبر 2020ء
  • بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیئرمین و ایگزیکٹوایڈیٹر: میر جاوید رحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن
Jang Group

80 فیصد ریونیو دینے والے کراچی کی محرومیاں کب ختم ہوں گی؟

پورے ملک کی طرح سندھ بھی انتہائی نازک دور سے گزررہا ہے حکومت، اپوزیشن کے درمیان لفظوں کی جنگ اب کارکنوں کے درمیان تصادم کی جانب بڑھ رہی ہے۔ سیاست دانوں کے لہجہ میں دھمکیاں درآئی ہیں۔ شیعہ، سنی فسادات کی کوششیں اور سازشیںتو ہو ہی رہی تھیں اب سندھ میں لسانی فسادات کا خطرہ بڑھتا جارہا ہے ۔ایم کیو ایم نے جنوبی سندھ صوبے کا ناصرف شدومد سے مطالبہ کردیا ہے بلکہ حیدرآباد ریلی میں یہاں تک کہہ دیا ہے کہ جتنی لاشیں گراؤ ہم صوبہ لے کر رہیں گے یہی نہیں ایم کیو ایم کے رہنماؤں نے یہ بھی کہہ دیا ہے کہ جنوبی سندھ صوبے سے سندھودیش کا خواب چکناچور ہوجائے گا۔ 

حیدرآباد ریلی سے خطاب کرتے ہوئے ایم کیوایم پاکستان کے کنوینر خالد مقبول صدیقی، عامر خان اور خواجہ اظہار کے لہجے انتہائی سخت تھے خواجہ اظہار نے مطالبہ کیا کہ پی پی پی کی کراچی ریلی میں جو زبان استعمال کی گئی اس پر ان کے خلاف مقدمہ بننا چاہیئے۔ جبکہ خالد مقبول صدیقی نے سخت لہجہ اختیار کرتے ہوئے کہاکہ ایم کیو ایم اب میدان میں آگئی ہے اب جاگیردار وڈیرے حکمران نہیں بچیں گے۔ 

عامرخان نے کہاکہ پی پی پی اور جئے سندھ میں کوئی فرق نہیں پی پی پی بھی سندھودیش کے لیے کام کررہی ہے۔ پی پی پی کی حکومت کے ہوتے ہوئے ملک کبھی ترقی نہیں کرسکے گا۔متحدہ قومی موومنٹ کے صوبے کے مطالبے پر سندھ کے صوبائی وزیر سردار شاہ نے کہاکہ متحدہ رہنماؤں میں الطاف حسین کی روح آگئی ہے جبکہ ڈاکٹر فاروق ستار نے پی پی پی اور ایم کیو ایم دونوں کی ریلیوں کو نشانے پر لیتے ہوئے کہا کہ گونگے حیدرآباد میں ریلی نکال رہے ہیں تو بہرے کراچی میں ریلی نکال رہے ہیں انہیں کراچی کے حقوق اب یاد آئے چار سال تک یہ بولےبھی نہیں یہ سب آپس میں ملے ہوئے ہیں اصل مسئلہ یہ ہے کہ 1100 ارب روپے کون ہڑپ کرے گا یہ اس بات کی لڑائی ہے ۔

انہوں نے دعویٰ کیا کہ کڈنی ہل پارک سے ایسی ریلی نکلی گی جو سب کو بہادے گی پی ایس پی کے چیئرمین مصطفیٰ کمال نے بھی دونوں جماعتوں پر شدید تنقید کرتے ہوئے کہاکہ کراچی کے مرض کو ہم سمجھتے ہیں اور ہم ہی اس کے بہترین طبیب ہیں عوام نے سندھ کا رڈ اور مہاجرکارڈ کو مستردکردیا ہے ایم کیو ایم کراچی کی میئرشپ ختم ہونے کے بعد مسلسل صوبے کا مطالبہ کررہی ہے آئینی وقانونی ماہرین کے مطابق ایم کیو ایم جنوبی سندھ صوبہ کس طرح حاصل کرے گی سندھ اسمبلی اور ایوان زیریں وبالا میں جنوبی سندھ صوبے کی حمایت کس طرح حاصل کرے گی ۔سیاسی مبصرین کے مطابق سندھ صوبے کے حصول کا نعرہ محض سیاسی ہے جسے ووٹ حاصل کرنے کے لیے لگایا گیا ہے ۔

یہ بھی کہاجارہا ہے کہ پی ڈی ایم کی احتجاجی سیاست کا محور چونکہ سندھ رہے گا لہذا جنوبی سندھ کا شوشہ چھوڑ کر پی ڈی ایم میں شامل ایک بڑی جماعت کو ٹرک کی لال بتی کے پیچھے لگانے کی کوششیں کی جارہی ہیں ۔

جبکہ ایک خیال یہ بھی ہے کہ پی پی پی کے دس بارہ سالہ دور میں کراچی کو مسلسل نظرانداز کئے جانے کے بعد صوبہ کامطالبہ کیا گیا ہے سندھ کا اسی فیصد سے زیادہ ریونیو کراچی سے اکھٹاہوتا ہے تاہم اس کے بدلے کراچی کو ٹرانسپورٹ، پانی، بجلی، سڑکوں ، نوکریوں سے محروم رکھا گیا ہے کراچی سے کبھی وزیراعلیٰ کا چناؤ بھی نہیں کیا گیا جبکہ نوازشریف دور میں ایک بار ایم کیو ایم اکثریتی پارٹی تھی تاہم وزیراعلیٰ نوازشریف نے بھی کراچی سے لینے کے بجائے لیاقت جتوئی کو بنادیا ۔

مبصرین کے مطابق یہ نعرہ احساس محرومی کا شاخسانہ ہے جبکہ بعض مبصرین اسے سیاسی نعرہ قرار دے رہے ہیں ۔سندھ کی دیگر جماعتیں بھی گزشتہ ایک ماہ سے کراچی حقوق کے نام سے ریلیاں منعقدکررہی ہیں وہاں پی پی پی بھی کراچی یکجہتی ریلی کا انعقاد کیا پاکستان پیپلزپارٹی کے رہنماؤں نے کہاہے کہ کراچی یکجہتی ریلی نفرت، لسانیت اور تقسیم کی سیاست کے خلاف عوامی ریفرنڈم تھی۔ کراچی والوں نے سندھ کی تقسیم کو مسترد اور تعصب کی سیاست کو دفن کردیا ہے۔ پیپلزپارٹی بلدیاتی انتخابات میں کراچی سمیت صوبے بھر سے کامیابی حاصل کرکے عوام کا مقدمہ لڑے گی، کراچی کی ریلی احتجاج کی ابتدا ہے۔ 

اگر ہم نے سندھ بھر میں احتجاج کی کال دی تو عوام حکمرانوں کے خلاف سڑکوں پر ہوں گے۔ کراچی یکجہتی ریلی صرف پیپلزپارٹی کا اجتماع ہے۔ جب 11 جماعتیں یکجاہوکر سڑکوں پر طاقت دکھائیں گی تو حکمرانوں کی نیندیں حرام ہوجائیں گی، ریلی سے پیپلزپارٹی کے رہنماؤں نثاراحمد کھوڑو، سعید غنی، وقار مہدی نے خطاب کیا۔ بظاہر ایسا محسوس ہورہا ہے کہ اگر لفظوں میں تلخیاں بڑھی تو سیاسی کارکنوں کے درمیان تصادم کا بھی امکان ہے۔ ادھر کچھ عرصہ سے بعض ملک دشمن قوتیں ملک میں عدم استحکام پیدا کرنے کے لیے شیعہ سنی فسادات کی راہ ہموار کررہی ہے۔ 

جس کا اظہار وفاقی وزیر مذہبی امور پیر نورالحق قادری نے پاکستان صوت اسلام کے تحت منعقدہ عظمت صحابہ واہلبیت کانفرنس کے دوران کیا کانفرنس سے مفتی ابوبکر محی الدین اور دیگر نے بھی خطاب کیا اس کانفرنس میں تمام مکاتب فکر کے علما موجود تھے جنہوں نے تفرقہ پھیلانے والوں سے لاتعلقی اور بے زاری کا اظہار کیا وفاقی وزیر نے کہاکہ ملک میں مسلکی ہم آہنگی کے لیے پیغام پاکستان کانفرنس سے منظور ہونے والے فتاویٰ جات کو قانونی شکل دینے کے بعد جلد اسمبلی میں بل کی شکل میں منظور کرلیا جائے۔وفاقی وزیر نے کانفرنس کو مسلکی ہم آہنگی کے لیے سنگ میل قرار دیا۔

تجزیے اور تبصرے سے مزید
سیاست سے مزید