آپ آف لائن ہیں
اتوار3؍جمادی الثانی 1442ھ 17؍جنوری2021ء
  • بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیئرمین و ایگزیکٹوایڈیٹر: میر جاوید رحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن
Jang Group

جنسی ہراسانی کا الزام لگانے والی خاتون کی علی ظفر سے معذرت

گلوکار و اداکار علی ظفر پر جنسی ہراسانی کا بے بنیاد الزام لگانے والی فیشن بلاگر حمنہ رضا نے معافی مانگتے ہوئے کہا کہ انہوں نے علی ظفر پر جھوٹا الزام ایک غلط فہمی کی بنیاد پر لگایا۔

حمنہ رضا نے ایک معافی نامے کی تصویر شیئر کرتے ہوئے علی ظفر سے معذرت کی، حمنہ کے مطابق 19 اپریل 2018ء کو میشا شفیع کے علی ظفر پر الزامات کے بعد انہوں نے بھی ان کی تائید میں ٹوئٹس کئے اور اداکار پر جھوٹے الزامات لگائے۔

حمنہ کا کہنا تھا کہ انہوں نے اپنے ٹوئٹس میں کہا تھا کہ بطور مداح میں نے علی ظفر کے ساتھ سیلفی لیتے ہوئے کچھ غیر آرام دہ محسوس کیا، اپنے اس ٹوئٹ کی وضاحت میں انہوں نے لکھا کہ اس وقت میں کچھ الجھاؤ کا شکار تھی اور غلط فہمی کی بنیاد پر میں نے وہ ٹوئٹ کیا۔

فیشن بلاگر نے لکھا کہ ’میری اس لاپرواہی نے اداکار کی ساکھ کو متاثر کیا، انہیں ذہنی پریشانی میں مبتلا کیا اور اہل خانہ کو بھی تکلیف پہنچی جس کے لیے میں تہہ دل سے معذرت خواہ ہوں۔‘

حمنہ رضا نے لکھا کہ آئندہ وہ سوشل میڈیا جیسے پلیٹ فارم پر غیر ذمہ داری کا مظاہرہ کرنے سے گریز کریں گی۔

اپنے پیغام کے آخر میں حمنہ نے علی ظفر کیلئے نیک خواہشات کا اظہار بھی کیا۔

علی ظفر نے حمنہ کے ٹوئٹ پر ردعمل دیتے ہوئے کہا کہ ’پبلک پلیٹ فارم پر یوں برملا معافی مانگنا عام طور پر کمزوری کی علامت سمجھا جاتا ہے حالانکہ یہ باہمت اور خوبصورت لوگوں کا فعل ہے۔

گلوکار نے بھی حمنہ کیلئے نیک خواہشات کا اظہار کیا۔

خیال رہے کہ پاکستان کے وفاقی تحقیقاتی ادارے (ایف آئی اے) نے گلوکار علی ظفر کے خلاف سوشل میڈیا پر چلائی جانے والی مبینہ مہم پر 9 ملزمان کے خلاف مقدمہ درج کیا تھا۔

ملزمان میں گلوکارہ میشا شفیع، حمنہ رضا سمیت 9 ملزمان شامل ہیں۔

ایف آئی اے لاہور کے سائبر کرائم کے عہدیداروں کا کہنا ہے کہ اُنہوں نے دو سال پر مشتمل تحقیقات کے بعد ملزمان کے خلاف ایف آئی آر درج کی ہے۔

سائبر کرائم ونگ کے مطابق ملزمان کو دفاع کے لیے تین سے زائد مواقع فراہم کیے گئے۔

حکام کا کہنا ہے کہ ایف آئی آر پریوینشن آف الیکٹرانک کرائمز ایکٹ 2016 کی دفعہ 20 کے تحت درج کی گئی ہے۔ ایف آئی آر کے متن کے مطابق میشا شفیع اپنے الزامات کو ثابت کرنے کے لیے کوئی گواہ یا ثبوت پیش نہ کر سکیں۔

علی ظفر نے مقدمہ درج ہونے سے چند روز قبل سوشل میڈیا پر اپنے اوپر تنقید کرنے والوں کے خلاف ایف آئی اے سے رابطہ کیا تھا۔

علی ظفر نے ایف آئی اے سائبر کرائم ونگ کو دی گئی درخواست میں کہا تھا کہ پرائیڈ آف پرفارمنس ملنے پر ان کے خلاف سوشل میڈیا پر نامناسب مہم شروع کی گئی ہے جس میں نازیبا زبان استعمال کی جا رہی ہے۔

گلوکار علی ظفر کا ایف آئی اے کو درخواست میں کہنا تھا کہ ان کے خلاف یہ مہم ایک سوچے سمجھے منصوبے کے تحت چلائی جا رہی ہے۔

درخواست کے مطابق اس سازش میں میشا شفیع، ان کی دوست اور وکیل شامل ہیں جبکہ ہراساں کرنے کے الزامات اور ان کے خلاف ’می ٹو‘ مہم چلانے کے لیے بے شمار جعلی اکاوئنٹس بھی بنائے گئے ہیں۔

انٹرٹینمنٹ سے مزید