• بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن

شہباز شریف کے جسمانی ریمانڈ میں 7 روز کی توسیع



لاہور کی احتساب عدالت نے نیب کی درخواست پر محفوظ کیا گیا فیصلہ سناتے ہوئے صدر مسلم لیگ نون اور قومی اسمبلی میں قائدِ حزبِ اختلاف میاں شہباز شریف کے جسمانی ریمانڈ میں 7 روز کی توسیع کر دی۔

عدالت نے شہباز شریف کا 20 اکتوبر تک جسمانی ریمانڈ منظور کر لیا۔

لاہور کی احتساب عدالت نے شہباز شریف کے خاندان کے خلاف منی لانڈرنگ ریفرنس کی سماعت کے دوران نیب کی میاں شہباز شریف کے جسمانی ریمانڈ کی درخواست پر فیصلہ محفوظ کیا تھا۔

ریفرنس کی سماعت احتساب عدالت لاہور کے جج جواد الحسن نے کی۔

سماعت شروع ہوئی تو مسلم لیگ نون کے رہنما حمزہ شہباز کو پیش کر دیا گیا جبکہ قومی اسمبلی میں قائدِ حزبِ اختلاف اور صدر مسلم لیگ نون شہباز شریف کو پیش کرنے میں تاخیر ہوئی۔

دورانِ سماعت عدالت نے زیرِ حراست ملزمان کو کمرۂ عدالت میں پیش کرنے کا حکم دیا جس پر جیل حکام نے حمزہ شہباز کو احتساب عدالت پہنچا دیا۔

عدالت نے استفسار کیا کہ شہباز شریف کو ابھی تک کیوں پیش نہیں کیا گیا؟

نیب کے پراسیکیوٹر نے جواب دیا کہ کوشش تو ہوتی ہے کہ جلدی لایا جائے۔

عدالت میں قاسم قیوم، فضل داد عباسی، نثار احمد، مسرور انور، شعیب قمر، محمد عثمان و دیگر ملزمان کے علاوہ جویریہ علی کے پلیڈر محمد نعمان ایڈووکیٹ کی حاضری مکمل ہوئی۔

عدالت نے کیس کی سماعت کچھ دیر کیلئے ملتوی کرتے ہوئے حکم دیا کہ زیرِ حراست ملزمان کو دوبارہ پیش کیا جائے۔

کیس کی دوبارہ سماعت شروع ہونے پر شہباز شریف بھی احتساب عدالت میں پیش ہوئے۔

اس موقع پر شہباز شریف نے استدعا کی کہ میں فاضل جج صاحب سے کچھ کہنا چاہتا ہوں، اجازت دی جائے۔

عدالت کی جانب سے اجازت ملنے پر مسلم لیگ نون کے صدر نے کہا کہ عدالت نے گزشتہ سماعت پر کھانا دینے کا قابلِ ستائش حکم دیا۔

انہوں نے کہا کہ جج صاحب سب کو علم ہے کہ مجھے کمر کا درد ہے، کمر درد کے باعث جو اسپیشل کرسی گھر سے منگائی تھی وہ نیب والوں نے لے لی۔


شہباز شریف نے کہا کہ وزیرِ اعظم عمران خان اور شہزاد اکبر کے حکم پر نیب نے کرسی واپس لی، عام کرسی دی گئی ہے جس پر بیٹھ کر نماز پڑھتا ہوں اور کھانا کھاتا ہوں۔

انہوں نے استدعا کی کہ کمر درد میں مسلسل اضافہ ہو رہا ہے، لہٰذا اس حوالے سے عدالت نیب والوں کو قانون کے مطابق حکم دے۔

فاضل جج نے شہباز شریف کو ہدایت کی کہ آپ باقاعدہ درخواست لکھ کر دیں تفصیلی حکم عدالت جاری کر دے گی۔

عدالت نے شہباز شریف کو ریفرنس کی کاپیاں فراہم کر دیں۔

عدالت نے حمزہ شہباز سے سوال کیا کہ آپ کی عمر کتنی ہے۔

حمزہ شہباز نے جواب دیا کہ میری عمر 46 سال ہے۔

اس موقع پر شہباز شریف کی اہلیہ نصرت شہباز کے وکلاء نے ان کی عدالت میں مستقل حاضری سے معافی کی درخواست دائر کر دی۔

امجد پرویز ایڈووکیٹ نے عدالت کو بتایا کہ شہباز شریف کی اہلیہ بیمار ہیں، وہ عدالت پیش نہیں ہو سکتیں، لندن کے ڈاکٹرز نے میڈیکل رپورٹس دی ہیں جو عدالت میں جمع کرا دی ہیں۔

عدالت نے حکم دیا کہ ایک بار خاتون کو پیش کر دیں پھر جویریہ کی طرح حاضری سے معافی منظور کر لیں گے۔

عدالت نے نصرت شہباز کی حاضری سے معافی کی درخواست پر نیب سے جواب طلب کر لیا۔

عدالت نے سلیمان شہباز کو دوبارہ 27 اکتوبر کو پیش ہونے کا حکم دے دیا۔

دورانِ سماعت نیب حکام نے شہباز شریف کے مزید 15 روز کے جسمانی ریمانڈ کی استدعا کر دی۔

اس موقع پر شہباز شریف کے جسمانی ریمانڈ کے حق میں نیب پراسیکیوٹر عثمان جی راشد اور عاصم ممتاز نے دلائل دیئے اور کہا کہ دورانِ تفتیش شہباز شریف نے بیرونِ ملک پراپرٹی کا ریکارڈ تاحال نہیں دیا، بیرونِ ملک رقم 2 ماہ قبل تک اکاؤنٹس سے بیرونِ ملک جا رہی تھی۔

نیب پراسیکیوٹر نے کہا کہ شہباز شریف گزشتہ 6 ماہ کا ریکارڈ نیب کو فراہم نہیں کر رہے، انہیں چاہیئے کہ یہ ریکارڈ نیب کو فراہم کر دیں۔


نیب پراسیکیوٹر نے کہا کہ شہباز شریف نے الیکشن 2018ء کے کاغذاتِ نامزدگی میں اپنی آمدن میں بھی حقائق چھپائے، شہباز شریف بیرونِ ملک فلیٹس خریدنے کے ذرائع بتائیں۔

شہباز شریف نے روسٹرم پر دلائل دیتے ہوئے کہا کہ 2005ء میں، میں نے پہلی پراپرٹی باہر خریدی، میں کینسر کا علاج کرانے جاتا ہوں۔

انہوں نے کہا کہ میرا جینا اور مرنا پاکستان کے لیے ہے اس لیے 2004ء میں پاکستان آیا تھا، جنرل ریٹائرڈ پرویز مشرف نے 2005ء میں واپس سعودی عرب بھیج دیا۔

شہباز شریف نے کہا کہ جب میں لندن گیا تو وہاں سوچا کرایہ دے کر رہنا ممکن نہیں ہے، 2005ء میں فیصلہ کیا کہ، پیسے ختم ہو جائیں گے تو ملکہ کے آگے ہاتھ نہیں پھیلاؤں گا، اس لیے لندن میں پہلی پراپرٹی خریدی۔

فاضل جج نے نیب کے تفتیشی افسر سے استفسار کیا کہ شہباز شریف کا دوبارہ ریمانڈ کس بنیاد پر چاہیئے، جب شہباز شریف آپ کے سوالات کا جواب نہیں دیتے تو ملزم اپنا خود نقصان کریں گے۔

نیب کے تفتیشی افسر نے عدالت کو بتایا کہ جیل روڈ کے ایک بینک سے افضال بھٹی کو پیسے جاتے ہیں، افضال بھٹی برطانیہ کے ایک بینک میں اکاؤنٹنٹ ہے۔

انہوں نے عدالت بتایا کہ ہمیں سوال کرنا ہے کہ یہ رقم کن ذرائع سے باہر جاتی رہی ہے، شہباز شریف اس سوال کاجواب نہیں دیتے تو ہم کچھ ریکارڈ سامنے رکھیں گے۔

نیب کے تفتیشی افسر نے یہ بھی کہا کہ لندن کے بینک کو کاغذات اور دستاویزات کے لیے خط لکھ دیا ہے، لندن کے بینک کا جواب آنا ہے، وہ دستاویزات بھی سامنے لانی ہیں۔

لاہور کی احتساب عدالت نے نیب کی شہباز شریف کے جسمانی ریمانڈ کی استدعا پر فیصلہ محفوظ کر لیا۔

عدالت نے بعد میں محفوظ کیا گیا فیصلہ سناتے ہوئے میاں شہباز شریف کے جسمانی ریمانڈ میں 20 اکتوبر تک 7 روز کی توسیع کر دی۔

لاہور کی احتساب عدالت میں شہباز شریف اور حمزہ شہباز کی پیشی کے موقع پر جوڈیشل کمپلیکس کے اندر اور باہر سیکیورٹی کے سخت انتظامات کیئے گئے۔

اس موقع پر عدالت اور اطراف میں پولیس کی بھاری نفری تعینات کی گئی جبکہ رکاوٹیں لگا کر راستے بند کر دیئے گئے۔

سیکریٹریٹ چوک اور ایم اے او کالج چوک میں کنٹینر لگا دیئے گئے اور روڈ بلاک کر دیئے گئے جس کی وجہ سے شہریوں کو پریشانی کا سامنا کرنا پڑا۔

جوڈیشل کمپلیکس کے باہر پولیس کی جانب سے واٹر کینن بھی پہنچا دی گئی ہے۔

تازہ ترین