آپ آف لائن ہیں
جمعرات17؍ربیع الثانی 1442ھ3؍دسمبر 2020ء
  • بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیئرمین و ایگزیکٹوایڈیٹر: میر جاوید رحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن
Jang Group

پہلا جلسہ: پی ڈی ایم کی سیاسی مقبولیت کا فیصلہ کرے گا

پاکستان مسلم لیگ (ن) جمعہ 16 اکتوبر کو گوجر نوالہ میںجلسہ عام کا اعلان کر چکی ہے ،جس میں مریم نواز کے علا وہ پاکستان پیپلز پارٹی کے چیئر مین بلاول بھٹو زرداری بھی خطاب کی دعوت قبول کر چکے ہیں ،مریم نواز اس جلسہ میں شرکت کے لیے اپنی رہائش گاہ ’’جاتی عمرہ‘‘ سے احتجاجی جلوس کی قیا دت کرتے ہو ئے جلسہ گاہ پہنچیں گی،سیا سی تجزیہ نگا روں کا کہنا ہےکہ حکومت یو ں تو جمہو ریت اور جمہو ری روایات کی دعویدار بنتی ہے مگر اپوزیشن کے پہلے جلسہ عام میں کتنی رکا وٹیں ڈالتی ہے اور اپوزیشن ان رکاوٹوں کو توڑ تے ہو ئے کتنی مذاحمت کے مرتکب قرار پاتے ہیں،کوئی زیادہ دور کی بات نہیں، 24 گھنٹوں میں عوام حقا ئق اپنی آنکھوں کےدیکھ لیں گے،گو جر نوالہ کے ڈپٹی کمشنر کے انکار کے باوجود بھی پاکستان مسلم لیگ (ن) گو جر نوالہ میں جلسہ عام کے عزم کا اظہار کر چکی ہے۔

وفا قی وزیر شیخ رشید احمد کورونا میں اضا فہ اور اجتماع میں دہشت گر دی کا خدشہ بھی ظا ہر کر چکے ہیں، پی ڈی ایم کے کارکن کتنے خوفزدہ ہوتے ہیں ،پہلے جلسے سے ہی پتہ چل جا ئے گا ، پہلا جلسہ ہی پی ڈی ایم کے سیاسی مستقبل کا فیصلہ کرے گا گو کہ حکومت نے اپوزیشن کو جلسوں کی اجازت دے دی ہے لیکن حکومت مخا لف بعض تجز یہ نگا روں کا کہنا ہےکہ مریم نواز کی ریلی کو روکے جانے کا خدشہ ہے جو صوبائی دارالحکومت میں امن وامان کی صورتحال مخدوش بنا نے کا موجب بن سکتی ہے۔

18اکتوبر کو کراچی میں پی ڈی ایم کا جلسہ ایک تاریخ ساز دن کے موقع پر منعقد ہو رہا ہے ،18اکتوبر 2007ء کو پاکستان پیپلز پارٹی کی شہید چیئر پرسن محترمہ بے نظیر بھٹو جب جلا وطنی ختم کر کے کراچی ایئر پورٹ سے ایک بڑے جلوس کی شکل میں اپنی رہا ئش گاہ جا رہی تھیں تو کار ساز کے مقام پر جلوس پر نہ صرف فائرنگ ہو ئی بلکہ دھماکوں سے بھی درجنوں افراد شہید و زخمی ہو گئے۔

بے نظیر بھٹو کو ہنگا می طور پر استقبالیہ کنٹینر سے نکال کر ان کی رہا ئش گاہ منتقل کیا گیا ،بعض سیا سی تجزیہ نگار سا نحہ کارساز کو (ر) صدر جنرل پرویز مشرف کی طرف سے پہلی عملی دھمکی قرار دیتے ہیںمگر پاکستان پیلز پارٹی کی چیئر پرسن نے خوف زدہ ہونے کی بجا ئے شہا دت کو تر جیح دی اور 27 دسمبر 2007 ء کو صرف سوا دو ماہ بعد راولپنڈی کے لیا قت باغ میںانتخا بی جلسہ عام سے خطاب کے بعد دہشت گردی کا نشانہ بنا دیا گیا اور کئی جیا لوں نے اپنی قائد کے ساتھ شہا دت کا رتبہ حا صل کیا۔ 

تحریک آزادی کشمیر سے منسلک گلگت بلتستان میں انتخابات کا شیڈول جاری ہو چکا ہے جبکہ آزاد جموں و کشمیر میں بھی انتخابات مئی 2021 ء میں متوقع ہیں ،بعض تجزیہ نگاروں کا کہنا ہےکہ گلگت بلتستان کے لوگ علا قے کی تعمیرو تر قی کے لیے اسے پاکستان کا با قا عدہ عا رضی صوبہ بنوا نے کے خواہاں ہیں ، پی ٹی آئی کی حکومت اس ضمن میں اپوزیشن کے ساتھ مل کر آئینی ترا میم منظور کرنے کی خوا ہاں تھی مگر حکومت اپوزیشن ڈیڈ لاک کی وجہ سےبظا ہر رابطے منقطع ہیں، پی ٹی آئی ،(ن) لیگ اور پی پی پی بڑی جما عتو ں کی حیثیت سے امیدوار میدان میں اتار چکی ہے۔ 

سیاسی حلقو ں کاخیا ل ہے کہ ما ضی کی مخا لف (ن) لیگ اور پی پی پی گلگت بلتستان انتخابات میں اکھٹی بھی -ہو سکتی ہیں،آزاد جمو ں وکشمیر کے انتخابات کے بھی سیا سی صف بندی شروع ہو چکی ہے ،(ن) لیگ کے وزیر اعظم راجہ فا روق حیدر، پی پی پی ،آل جمو ںوکشمیر مسلم کانفرنس، پی ٹی آئی پر مشتمل اپوزیشن کی رہنما ئی میں حکومت چلا رہے ہیں ،بعض سیا سی تجز یہ نگا روں کا دعویٰ ہے کہ پی ٹی آئی ،پی پی پی ،مسلم کانفرنس اور (ن) لیگ کے بعض رہنما کوآزاد جموں وکشمیر کی سیا ست میں حصہ لینے کی دعوت دی جا رہی ہے ،جس کے نتیجے میں آزادجمو ںو کشمیر کی سیاست میں بڑی تبدیلی کو خارج از امکان قرار نہیں دیا جا سکتا۔

حکمران جما عت کی طرف سےاپوزیشن لیڈرشہباز شریف سمیت (ن) لیگ کے رہنما ئوں کی اسٹیبلشمنٹ سے خفیہ ملاقا تیں منظر عام پرلائے جا نے کے بعد سابق وزیر اعظم میاں محمد نواز شریف نے (ن) کے رہنما ئوں پر فوجی حکام سے خفیہ ملاقاتوں پر پابندی عائد کر دی تھی مگر بعض حلقے دعویدار ہیں کہ (ن) لیگ کے کئی رہنما ئوں کے آج بھی پہلے کی طرح اسٹیبلشمنٹ سے رابطے موجود ہیںاور انہی رابطوں کے ذریعے پیغا مات کا تبا دلہ جا ری ہے ،کیونکہ کوئی سیا سی جما عت نہ صرف بر سراقتدار حکومت بلکہ مقتدر حلقوں سے قطع تعلق کرنا ’’افورڈ‘‘ نہیں کر سکتی،جس طرح مولانا فضل الرحمان کی ضد کے باوجود (ن) لیگ اور پی پی پی نے انتخابی نتائج کو تسلیم نہ کرنے باوجو د پارلیمنٹ کا حلف اٹھا نے کو تر جیح دی ،اسی طرح 2018ء سے قبل عمران خان تبدیلی کے نام پر اپنی انتخابی مہم چلا تے رہے ،انہوں نے عوام کو روزگار میں اضا فے ،مہنگا ئی میں کمی اور فوری انصاف کے وعدے کیے ،پہلے سال 50 لاکھ گھر اور ایک کروڑ نو کریوں کی بجا ئے بے روز گاروں کی تعداد میں اضا فہ ہو گیا۔ 

ڈالر آسمان سے باتیں کرنے لگا ،اشیا ء خودنوش عام آدمی کی پہنچ سے نکل گئیں، دوسرے سال بھی مہنگا ئی میں اضا فہ ہوا ،رہی سہی کسر کورونا وائرس نے نکال دی ،کاروبار بند ہوگئے ،نوکریاں ختم ہو گئیںاور اچھے بھلے خاندان بھی سرکار سے بھیک مانگنے پر مجبور ہو گئے،4ماہ کےلاک ڈائون نے ایک طرف لوگوں کا کچو مر نکال دیا تو دوسری طرف حکمران جما عت کے کرتا دھر تا پٹرولیم ،چینی اور آٹا سکینڈلز سے ملک کو تین سو ارب کا جھٹکا دینے میں کامیاب ہوگئے۔

اپوزیشن جما عتوں نے حکومت کی کارکردگی اور معیشت کے بحران کو انتخابات کے شفاف نہ ہونےکا نتیجہ قرار دیا اور اسٹیبلشمنٹ کو اس کا ذمہ دار قرار دیا ،اب دیکھنا یہ ہےکہ اپوزیشن جما عتیں اپنے احتجاج کے ذریعے پاکستان میں موجود جمہو ریت میں مداخلت کو ختم کرا نے میں کامیاب ہوتے ہیں یا اس حکومت کے اختتام پر ہونے والے انتخابات کے نتا ئج بھی متنا زعے ہی قرار پا ئیں گے۔

تجزیے اور تبصرے سے مزید
سیاست سے مزید