آپ آف لائن ہیں
ہفتہ6؍ربیع الاوّل 1442ھ 24؍اکتوبر 2020ء
  • بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیئرمین و ایگزیکٹوایڈیٹر: میر جاوید رحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن
Jang Group

حکمران آنے والا دسمبر نہیں دیکھیں گے، فضل الرحمان


سربراہ جے یو آئی (ف) مولانا فضل الرحمان نے کہا ہے کہ عظیم الشان اجتماع کی نگرانی پر پاکستان مسلم لیگ (ن) کا شکریہ ادا کرتا ہوں، آج عوام کا بپھرا ہوا سمندر جعلی حکمرانوں کی کشتی کو غرقاب کرکے دم لے گا، جمہوریت کے خوبصورت چہرے کو گرد آلود کیا گیا، اب جمہوریت کی صبح طلوع ہونے والی ہے۔

اپوزیشن جماعتوں کے پاور شو کے دوران گوجرانوالہ کے جناح اسٹیڈیم میں خطاب کرتے ہوئے مولانا فضل الرحمان کا کہنا تھا کہ عوام اپنے خون پسینے سے جمہوریت کی خوبصورتی کو تابناک کرنے نکلے ہیں، آنے والے دنوں میں جمہوریت تابناک ہوگی،ان کو پوچھنے والا کوئی نہیں ہوگا، جعلی حکمران اپنے انجام کو پہنچنے والے ہیں، انشاﷲ یہ آنے والا دسمبر نہیں دیکھیں گے۔

انہوں نے کہا کہ جمہوریت پسند قوتیں پی ڈی ایم کے پلیٹ فارم پر جمع ہوگئی ہیں، ان کے اوسان خطا ہوچکے، ہمت جواب دے چکی ہے، پہلوان اکھاڑے میں اتر چکے ہیں، آپ کو پچھاڑنا آتا ہے۔

پی ڈی ایم کے سربراہ نے کہا کہ اب عوام کا سمندر کراچی، کوئٹہ، لاہور، ملتان اور  پشاور میں آئے گا ، جعلی حکمران کو تخت پر بٹھایا ہے، اس کا ذمہ دار کون ہے؟ جمہوریت کے قتل کا مجرم کون ہے؟ تحریک اب چل پڑی ہے، یہ سفر منزل پر جا کر ہی دم لے گا۔

مولانا فضل الرحمان کا کہنا تھا کہ جب اے پی سی ہوئی انہوں نے کہا کہ آج انڈیا بڑا خوش ہے، تم نے کشمیر کو انڈیا کے ہاتھوں بیچا،انڈیا نے تو اس دن عید منائی تھی، انڈیا نے کشمیر پر قبضہ کیا، تم نے اسے خاموشی سے قبول کرلیا، اے پی سے پر انڈیا خوشی نہیں منا سکتا، انڈیا نے پاکستان کے عام انتخابات میں دھاندلی پر خوشیاں منائیں۔ آج انڈیا میں ماتم بچھ رہا ہے کہ آج پاکستان میں پھر جمہوریت کی بات کی جارہی ہے۔

اپوزیشن اتحاد پی ڈی ایم کے سربراہ نے کہا کہ گلگت بلتستان کو پانچواں صوبہ بنا کر انڈیا کو جواز فراہم نہیں کروگے؟ آج آپ خطے میں جغرافیائی تبدیلیاں لانا چاہتے ہیں، جغرافیائی تبدیلیاں لانا امریکہ کا ایجنڈا ہوسکتا ہے، آپ کس کے ایجنڈے کی تکمیل کے لیے بات کررہے ہیں۔

انہوں نے کہا کہ دو سالوں میں آپ نے جو بجٹ پیش کیے وہ آئی ایم ایف کا تیار کردہ ہے، آپ نے جو قانون سازی کی وہ ایف اے ٹی ایف کے دباؤ کی وجہ سے کی، ہم پاکستان کے اداروں کا احترام کرتے ہیں۔ فوج سے ہماری کوئی لڑائی نہیں، فوج ہمارا ادارہ ہے۔

مولانا فضل الرحمان نے مزید کہا کہ پاکستانی قوم کے حق پر ڈاکہ ڈالا گیا ہے، آج معیشت زبوں حالی کی انتہا پر ہے، ساحلی اور سمندری علاقوں کو صوبوں کے اختیار سے باہر کیا جارہا ہے جو آئین کے خلاف ہے،ہر صوبے کے عوام اپنے صوبے کے وسائل کے مالک ہیں، ہم کسی کو صوبے کے وسائل پر قبضے کا حق دینے کو تیار نہیں، تصادم سے ملک نہیں چلا کرتے۔

قومی خبریں سے مزید