آپ آف لائن ہیں
جمعرات10؍ربیع الثانی 1442ھ26؍نومبر 2020ء
  • بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیئرمین و ایگزیکٹوایڈیٹر: میر جاوید رحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن
Jang Group

سوشل میڈیا جمہوریت کا ایک نیا رُوپ

چین دنیا میں ہمارا سب سے قریبی دوست ہے، لیکن شاید ہی کسی کو یہ جاننے میں دِل چسپی ہو کہ وہاں انتخابات کب اور کیسے ہوتے ہیں؟قیادت کیسے تبدیل ہوتی ہے؟ اور اس تبدیلی کے چین، خطّے اور دنیا پر کیا اثرات مرتّب ہوتے ہیں؟ اِس وقت چین میں چَھٹی جنریشن قیادت سنبھال چُکی ہے۔ شی جن پنگ تاحیات صدر کے عُہدے پر فائز ہیں۔یہ بات پورے وثوق سے کہنا تو ممکن نہیں، لیکن غالب گمان یہی ہے کہ پاکستان کے تعلیم یافتہ شہریوں اور سیاست پر تبصرے کا شوق رکھنے والوں میں سے بہت کم کو چین کے وزیرِ اعظم اور وزیرِ خارجہ کے نام معلوم ہوں گے، بلکہ سُنا تو یہ بھی ہے کہ پارلیمان کے بیش تر ارکان اور معروف تھنک ٹینکس کے کرتا دھرتا اِن ناموں کو جاننے کے لیے ہر ضرورت کے وقت انٹرنیٹ سرچ کا سہارا لیتے ہیں۔

اس کے برعکس، اگر امریکا کا معاملہ دیکھا جائے، تو پاکستانی وہاں کی سیاست اور سیاست دانوں کے بارے میں چین کے مقابلے میں زیادہ معلومات رکھتے ہیں۔پاکستانی میڈیا میں وہاں کے انتخابات کا بہت چرچا ہوتا ہے اور عام افراد بھی حیرت انگیز طور پر صدارتی امیدواروں کے حق یا مخالفت میں بولتے نظر آتے ہیں۔ خاص طور پر سوشل میڈیا پر نظر ڈالیں، تو ایک سے بڑھ کر ایک امریکی سیاست کا’’ماہر‘‘ ٹکرائے گا۔امریکا ایک سال قبل پاکستان کا نمبر وَن دشمن سمجھا جاتا تھا۔ آج بھی پاکستانی اُسے شک کی نگاہ سے دیکھتے ہیں۔ وہ اسے اپنے خلاف ہونے والی سازشوں اور ساری خرابیوں کا ذمّے دار ٹھہراتے ہیں۔ 

اُن کے مطابق یہ ہر معاملے میں ٹانگ اَڑاتا ہے۔ نواز شریف کی لندن روانگی ہو یا مُلک میں آٹے، چینی کا بحران، سب میں امریکا ہی کا ہاتھ ہے۔کبھی کبھی تو ایسا لگتا ہے کہ امریکا کے عوام اور اُن کی حکومت کو پاکستان کے معاملات میں دل چسپی لینے کے علاوہ اور کوئی کام ہی نہیں۔ حیرت ہے، اس’’ مصروفیت‘‘ کے باوجود وہ سُپر پاور کیسے بن گیا؟خود امریکا میں مقیم پاکستانیوں کے تبصروں سے منفی تاثر مزید تقویّت پاتا ہے۔یہ تارکینِ وطن بھی اپنا کام کرنے کی بجائے اسی شغل میں مست ہیں، جس کی ہماری حکومتیں، سیاست دان اور اہلِ دانش حُب الوطنی کے نام پر حوصلہ افزائی کرتے ہیں۔آخر ایسا کیوں ہے؟ہمیں اِس’’ کیوں‘‘ کا جواب تلاش کرنے کی ضرورت ہے۔’’ دشمن مُلک‘‘ امریکا کے انتخابات میں اِس قدر غیر معمولی دل چسپی اور دوست مُلک، چین کی سیاست سے عدم واقفیت یقیناً حیرت انگیز ہے۔ 

امریکا کی 30 کروڑ کی آبادی میں پاکستانیوں کی تعداد بمشکل دس لاکھ ہے، جو زرِ مبادلہ بھی نہ ہونے کے برابر بھیجتے ہیں۔ اُن کی سماجی اور مالی حیثیت بھی قابلِ رشک نہیں۔ نیز، وہاں جانے والے طلبہ اور افسران جن اداروں میں تعلیم و تربیت پاتے ہیں، وہ پاکستان دشمن قرار دیے جاچُکے ہیں، لیکن پھر بھی وہ یہاں آکر نیشنل سیکوریٹی تک کے ایکسپرٹ لگ جاتے ہیں۔ہمارے مُلک میں کسی سے بھی پوچھ لیں کہ ڈونلڈ ٹرمپ نے پاکستان کے خلاف کیا کچھ کیا؟ اُس کی مسلم دشمن پالیسیز کی نوعیت کیا ہے؟وہ مسلم دنیا کو کس طرح نقصان پہنچانے کے درپے ہے؟یہاں تک کہ ٹرمپ کو کورونا کب ہوا اور کب صحت پائی؟ وہاں کے وزیرِ خارجہ کون ہیں؟ اِس طرح کی سب باتیں عوام کو گویا ازبر ہیں۔آخر ایک’’ دشمن‘‘ میں اِتنی غیر معمولی دل چسپی کا راز کیا ہے؟

ماہرین کے مطابق، اس میں مغربی، امریکی میڈیا اور انٹرنیٹ پر مبنی سوشل میڈیا کا بہت بڑا کردار ہے۔ جسے ہم رات دن کوستے ہیں، مُلک دشمن اور سازشی قرار دیتے ہیں، لیکن اُسی کی جاری کردہ خبروں اور تجزیوں کو معتبر مانتے ہیں۔جو خبریں اور تجزیے، جس کے فائدے میں ہوں، وہ انھیں خُوب اُچھالتا ہے، جب کہ مخالفین اُسے یہودی، بھارتی یا امریکی سازش کہہ کر رَد کردیتے ہیں۔ یہ اکیسویں صدی ہے، اِس میں سولھویں اور اٹھارویں صدی کے فارمولے اور دانش وَری جھاڑنا سمجھ سے باہر ہے۔عام لوگوں کو تو چھوڑیے، اچھے خاصے تعلیم یافتہ افراد پر حیرت ہوتی ہے کہ اُنھوں نے کیا پڑھا اور سیکھا ہے؟ بطورِ مثال صرف اقتصادی صُورتِ حال پر تجزیوں کو دیکھ لیں۔اس سے متعلق اچھی، بُری ساری خبریں باہر کے میڈیا ہی کے ذریعے ہم تک پہنچتی ہیں اور عام آدمی تو کیا، وزیرِ اعظم اور صدر تک اُنہیں فخریہ انداز میں مستند کہہ کر بیان کرتے ہیں۔

ہمارا میڈیا بھی بہت حد تک اسی پر انحصار کرتا ہے، حد تو یہ کہ جو منفی، مثبت تجزیہ پیش کیا جاتا ہے، وہ بھی اسی مغربی میڈیا کے کسی ماہر کے قلم سے نکلا ہوتا ہے۔ہمارے اخبارات کا انداز، ریڈیو کی خبریں، ٹیلی ویژن کا اسٹائل اور اب سوشل میڈیا پر عام آدمی کی شمولیت سب مغربی انداز کی نقالی نہیں، تو کم ازکم اس کی تقلید ضرور ہے۔ حیرانی ہوتی ہے، جب جیّد اہلِ دانش اور تجزیہ نگار بھی ہوبہو مغربی میڈیا کے تجزیوں کو اپنا کہہ کر پیش کر رہے ہوتے ہیں۔ ہم یہاں یہ بھی ذکر کرتے چلیں کہ چین کے سرکاری خبر رساں ادارے’’ زن ہوا‘‘ کی خبریں شاید ہی کبھی ہمارے میڈیا کی زینت بنتی ہوں، حالاں کہ اُس کے بہت سے تجزیے غور وفکر سے بھرپور ہونے کے علاہ ایک علیٰحدہ نقطۂ نطر پیش کرتے ہیں، جو کم ازکم ہمارے لیے اِس لیے بھی قابلِ توجّہ ہیں کہ چین نہ صرف ہمارا قریبی دوست ہے، بلکہ ہم نے اپنی پالیسی کا زیادہ وزن اُسی کے پلڑے میں ڈال رکھا ہے۔

میڈیا اور خاص طور پر سوشل میڈیا نے کیا رنگ دِکھائے ہیں؟ اس کا اندازہ کرنا ہو، تو گزشتہ دس سال کے عالمی حالات پر نظر ڈال لی جائے۔عرب اسپرنگ سے لے کر شام کے محاذ تک، مِڈل ایسٹ کی ہر دَم بدلتی صُورتِ حال، امریکا کا دوسرا صدارتی الیکشن اور بریگزٹ کے معاملات تو صرف چند مثالیں ہیں، جن کا ہم اکثر ذکر بھی کرتے رہے ہیں، لیکن جس اَمر پر غور نہیں کیا گیا، وہ ہمارے اپنے مُلک پر سوشل میڈیا کے اثرات اور اردگرد سے ہونے والی میڈیا شورش ہے۔ جب میڈیا ماہرین کسی دوسری جانب سے میڈیا پر یلغار یا پراپیگنڈے کا ذکر کرتے ہیں، تو اُن کے ذہن میں وہی پرانے زمانے کے فرسودہ، خاص طور پر دوسری عالمی جنگ کے پراپیگنڈے کا طریقۂ کار ہوتا ہے اور وہ اُسی انداز میں کسی ٹیم یا گروپ کی تشکیل کی باتیں کرتے ہیں، جو مخالفین کا ڈٹ کر مقابلہ کرے۔

ہماری حکومتں بھی ابھی تک اسی اندازِ فکر سے باہر نہیں نکل سکیں اور وہ اس سلسلے میں اربوں روپے کے فنڈز اور ادارے قائم کردیتی ہیں، جو دشمن کو دندان شکن جواب دے سکیں۔ اس کے ساتھ ہی مین اسٹریم میڈیا کو خاص قسم کی ہدایات دی جاتی ہیں اور اس مقصد کے لیے خبریں بھی لیک کی جاتی ہیں۔ اُنھیں بتایا جاتا ہے کہ کس طرح دشمن یا مخالف کو زیر کرنا ہے اور پھر آخر میں یہ خبر’’ بڑے صاحب‘‘ کو سُنا کر ستائش وصول کرلی جاتی ہے کہ کام یابی ہوگئی۔ کیا واقعی ایسا ہو جاتا ہے اور ہو رہا ہے؟ اِس سوال پر بہت ہی سنجیدگی سے غورکی ضرورت ہے۔درحقیقت، یہ کام تو یونی ورسٹیز کے میڈیا کے شعبوں میں ہونا چاہے تھا، جہاں غیر جانب دارانہ، علمی اور سائنسی طریقوں سے اس پر تحقیق کی جاتی۔

آج میڈیا جتنا تھیوری ہے، اس سے زیادہ پریکٹس اور ٹیکنالوجی ہے، لیکن اسے ہماری یونی ورسٹیز میں قبولیت نہیں مل سکی، کیوں کہ کوئی بھی اپنی اجارہ داری سے دست بردار نہیں ہونا چاہتا۔یہاں ہر شخص خود کو ارسطو اور افلاطون سمجھتا ہے، لیکن’’تحقیق‘‘ کے نتائج دیکھیں، تو صرف بہانے ہی بہانے ہیں۔ افسوس! اُنہوں نے خود کو صرف’’ پی ایچ ڈی فیکٹری‘‘ ہی تک محدود کرلیا ہے؟ اور تحقیق کی یہ ذمّے داری ٹی وی اینکرز اور ان پلیٹ فارمز پر بیٹھے ماہرین کے سپرد کردی ہے کہ وہ بتائیں کہ میڈیا آج دنیا پر کس طرح اثر انداز ہو رہا ہے؟ حالاں کہ وہ تو معمول کی خبروں ہی پر تجزیوں، تبصروں تک محدود رہتے ہیں۔ 

شاید اُن کا یہ خیال ہے کہ یہ وہی زمانہ ہے، جب مُلک میں صرف ایک قومی ٹی وی ہوتا تھا اور لوگ چھے بجے سے رات کے کھانے تک مل کر ٹی وی دیکھتے اور جھوٹی، سچّی خبروں پر تبصرے کرتے۔ نیز، اپنے مُلک کے ڈراموں کو دنیا کے سب سے اعلیٰ ڈرامے قرار دیتے۔خبروں کا بھرم تو سوشل میڈیا نے بکھیر دیا اور ڈراموں کے لیے اب خود ہمارے وزیرِ اعظم تُرکی کے ڈراموں کا نسخہ تجویز کر رہے ہیں، جس پر بحث کرنا بھی غدّاری اور بغاوت کے زمرے میں آگیا ہے، کیوں کہ اُن کے چاہنے والوں کے مطابق، یہی ڈرامے ہمارا درخشندہ ماضی ہیں، جو بہت جلد مستقبل میں تبدیل ہوجائے گا۔

ذکر ہو رہا تھا کہ سوشل میڈیا نے دنیا کے سیاسی منظر نامے کو کس طرح بدل ڈالا ؟یہ حقیقت ہے کہ اِس نے نیشنل ازم یا قوم پرستی کو دوبارہ مغربی اقوام میں زیرِ بحث لانے میں مرکزی کردار ادا کیا۔اب اس کا عمل دخل امریکا سے لے کر یورپ تک کی سیاسی و سماجی زندگی میں دیکھا جاسکتا ہے۔ڈونلڈ ٹرمپ کا آنا، بریگزٹ، بورس جانسن کی پالیسیز،جرمنی میں سیاسی تبدیلیاں، جاپان میں فوجی کردار پر بحث کیا کیا گنوایا جائے؟سب اسی سوشل میڈیا کی طاقت کے مظاہر ہیں۔قوم پرستی قبل ازیں سوشلسٹ ممالک تک محدود تھی اور ان کے بڑے لیڈرز، کاسترو سے چی گویرا تک اسی قوم پرستی کے لیے مشہور تھے۔ 

صدر پیوٹن کی مثال ہمارے سامنے ہے کہ شام کے محاذ اور یوکرین پر اُنہوں نے کس طرح ایک’’ آئرن مین‘‘ کا رُوپ دھارا، لیکن شاید وہ یہ اداراک نہ کرسکے کہ یہ سوشل میڈیا کا دَور ہے اور جن ممالک کی انٹرنیٹ پر اجارہ داری ہے، وہ بہت جلد اس کا توڑ دریافت کرلیں گے۔اسی قسم کی غلطی سوویت یونین سے ہوئی تھی، جب اُس نے اسپیس ریس میں شامل ہوتے وقت یقین کرلیا تھا کہ صرف چاند پر اُترنا ہی فتح ہے۔وہ مواصلاتی سیّاروں اور میڈیا کے کردار کو یک سَر نظر انداز کرگئی، جس کا خمیازہ اُسے پہلے افغان وار اور پھر مشرقی یورپ میں بھگتنا پڑا۔سوشل میڈیا ہی نے’’ عرب اسپرنگ‘‘ کو جنم دیا۔یہ کہانی بہت پرانی نہیں اور کم ازکم ہمارے مُلک کے لوگ تو بخوبی جانتے ہیں کہ کس طرح نظریے بدلتے گئے، بغاوتیں ہوئیں اور وہ بڑے بڑے لیڈرز، جنھیں مِڈل ایسٹ کا ستون کہا جاتا تھا، ایک ایک کرکے دھڑام سے گرتے گئے۔یہ اچھا ہوا یا بُرا؟عوام نے اسے کس طرح بھگتا یا بُھگت رہے ہیں؟مشرقِ وسطیٰ کی موجودہ صُورتِ حال پر اس کے کیا اثرات رہے؟ 

یہ بحث تو جاری رہے گی، کیوں کہ عرب اسپرنگ جیسے انقلاب ایک ہی مرحلے میں ختم نہیں ہوجاتے، ان کی سیریز چلتی ہے۔ انقلابِ فرانس چوتھے مرحلے میں مکمل ہوا تھا۔تیل کی کم قیمتیں، عربوں کا اسرائیل کے نزدیک جانا، ایران کی نیوکلیر ڈیل کا ختم ہونا، افغانستان اور عراق سے امریکی فوجوں کی واپسی اور خاص طور پر جنوب مشرقی ایشیا میں بڑی طاقتوں کا کردار، یہ سب اُسی قوم پرستی کا نتیجہ ہے، جو مغربی دنیا میں سوشل میڈیا کے ذریعے زور پکڑ رہی ہے۔اب عام آدمی سوشل میڈیا کے ذریعے ہر معاملے میں دخل دے رہا ہے۔لہٰذا، وہی لیڈر کام یاب ہیں، جو اس تبدیلی کو سمجھ کر پالیسیز بنا رہے ہیں۔ جو عوام کو طاقت کے ذریعے یا کسی جذباتی نظریے کی بنیاد پر یہ باور کروا رہے ہیں کہ عقلِ کُل صرف حکم ران ہی ہیں یا وہ سمجھتے ہیں کہ صرف پراپیگنڈے سے عوام کو بے وقوف بنایا جا سکتا ہے، وہ رہنما سوشل میڈیا کی رفتار اور ٹیکنالوجی کی طاقت کو سمجھنے سے قاصر ہیں یا پھر عوام کی طاقت کو، جو اُنھیں سوشل میڈیا نے دی ہے، سمجھ نہیں پارہے۔ 

حکومتوں اور مین اسٹریم میڈیا کو یہ بات سمجھنے کی ضرورت ہے کہ سوشل میڈیا کا پلیٹ فارم دراصل ایک عوامی پلیٹ فارم اور ایک نئی قسم کی جمہوریت ہے۔اِس ضمن میں ہم کووِڈ 19 پر ہونے والے بحث مباحثے کا ذکر کریں گے، جو فروری سے سوشل میڈیا پر چھایا ہوا ہے۔دیکھنے کی بات یہ ہے کہ کیا اس حوالے سے عوام کو بنیادی آگاہی حکومتوں نے فراہم کی یا لوگوں کو خود احساس ہوا کہ یہ کس نوعیت کی وبا ہے؟ کیا ہر گھر پر پہرے لگانے پڑے یا عام آدمی نے دوسرے کو بتایا کہ اس سے بچائو کے طریقے کیا ہیں؟ اس اَمر میں دو رائے نہیں کہ لاکھوں افراد اس عالمی وبا کا شکار ہوئے، لیکن اِس پر جس طرح قابو پایا گیا، وہ بھی اپنی مثال آپ ہے۔عالمی معیشت کو بچایا گیا، انتشار کو پھیلنے سے روکا گیا، تو کیا اس میں سوشل میڈیا کا کردار واضح طور پر نظر نہیں آتا؟ 

بالکل یہی ماڈل سیاست، سیاسی تحریکوں اور سوچ پر بھی اپلائی کریں، تو اندازہ ہوگا کہ مین اسٹریم میڈیا اپنی تمام تر خُوبیوں کے باوجود آج قدرے پیچھے جاچُکا ہے۔اب سچّائی یا بہتر طور پر حقائق جاننے کے لیے بہت انتظار نہیں کرنا پڑتا۔اب مختلف امور پر تجزیے اور تبصرے ماہرین کی بجائے خود عوام کی طرف سے آرہے ہیں، جو ذاتی مشاہدے یا تجربات کی بنیاد پر ہوتے ہیں۔ اِس وقت کسی بھی ماہر کے لیے یہ کہنا تو مشکل ہوگا کہ اس غیرمعمولی رفتار اور وسعت کے ساتھ سوشل میڈیا کن کن شعبوں کو اپنی گرفت میں لے گا؟ لیکن ایک بات ضرور واضح ہوتی جارہی ہے کہ اب طاقت حکومتوں کے ہاتھوں سے لوگوں کے پاس جا رہی ہے۔یہی جمہوریت ہے یا اس کا کوئی اور رنگ بھی دیکھنے کو ملے گا؟ 

یہ وقت ہی بتائے گا۔سوشل میڈیا سے قبل کہا جاتا تھا کہ تنقید برداشت کرنے کی عادت ڈالو اور تنقید کرنے والوں کے لیے’’ تعمیری تنقید‘‘ کی اصطلاح ایجاد کی گئی، جو درحقیقت تنقید کو دبانے یا اپنی مرضی کے مطابق بنانے کی کوشش تھی۔ سوشل میڈیا کے دبائو اور پھیلائو نے اب یہ تکّلف تقریباً ختم کردیا ہے۔ تنقید، تنقید ہے اور تجزیہ، تجزیہ۔ آپ کو پسند ہے یا نہیں، آپ کی مرضی، لیکن اسے دبانا یا چُھپانا ممکن نہیں، کیوں کہ یہ’’ اِدھر ڈوبا، اُدھر نکلا‘‘ کے مِصداق سامنے آتا ہی رہے گا۔سمجھنے کی بات یہ ہے کہ ہر تنقید جنگ ہوتی ہے اور نہ ہی دشمنی۔