آپ آف لائن ہیں
بدھ9؍ربیع الثانی 1442ھ25؍نومبر 2020ء
  • بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیئرمین و ایگزیکٹوایڈیٹر: میر جاوید رحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن
Jang Group

محمد شعیب

  طنزیہ و مزاحیہ شاعری کے جدید ترین عہد کا آغاز ۱۹۸۰ء سے ہوتا ہے۔ اس عہد میں مزاحیہ مشاعروں کی دھوم دنیا کے کئی ممالک تک پھیل گئی۔ جہاں جہاں اردو سمجھنے اور بولنے والا طبقہ موجود تھا، وہاں مزاحیہ مشاعروں کا اہتمام ہونے لگا۔ ان چند نامور شعرا ءکا تذکرہ ہے، جنھوں نے مزاحیہ شاعری کو کسی نہ کسی حوالے سے نئی جہت دی۔

سیّد ضمیر جعفری

طنزیہ و مزاحیہ اردو شاعری کے جدید ترین دور کا ایک معتبر نام سیّد ضمیر جعفری ہے۔ ان کی غزلیں اور نظمیں زندگی کے بہت سے موضوعات اور انسانی کیفیات کو اپنے دامن میں سموئے ہوئے ہیں۔ ان کے اسلوب کی خوبصورتی اور تہ داری ان کی طنزیہ و مزاحیہ شاعری کو ایک منفرد پہچان دیتی ہے، جس کا دھیما پن ہر مصرعے سے جھانک کر تبسم و لطافت کے بے شمار زاویوں کو جنم دیتا ہے۔

ان کی نظمیں ’’بفے ڈنر، شہر کا بڑا بازار، ضمیر کا گھر،سابق منسٹر، پرانی موٹر، یہ کوہاٹ ہے ، وبائے الاٹمنٹ‘‘ وغیرہ کو انہوں نے بڑے دلچسپ انداز میں پیش کیا۔ ضمیر جعفری کی تقریباً تمام طنزیہ و مزاحیہ شاعری میں ہمیشہ مزاح نے طنز کو دبائے رکھا۔ذیل میں ان کے چند اشعار ملاحظہ کیجیئے:

ایک چمچہ دال کا اور ایک ٹکڑا نان کا

امتحاں روزانہ لیتا ہے مرے ایمان کا

……٭٭……٭٭……

اس کو کون کہے گا تحفہ، خالص کھرے نصیبوں کا

ایک امیر کے گھر میں رزق پچاس ہزار غریبوں کا

سیدّ ضمیر جعفری نے ما فی الضمیر، ولایتی زعفران، ضمیریات، ضمیرِ ظرافت، بے کتابے، شناخت پریڈ، دست و داماں وغیرہ جیسے طنزیہ و مزاحیہ شعری مجموعے یادگار چھوڑے جو ’’نشاطِ تماشا‘‘ کے نام سے کلیات کی صورت میں بھی چھپ چکے ہیں۔

دلاور فگار

دلاور فگار کے کلام میں سماجی، سیاسی اور قومی مسائل کا ہنگامی پن جھلکتا ہے۔ ان کی طنزیہ و مزاحیہ نظمیں اور غزلیں بھی اپنی مثال آپ ہیں۔دلاور فگار کی قادرالکلامی کے چنداشعار ملاحظہ کریں :

نہ اردو ہے زباں میری،نہ انگلش ہے زباں میری

زبان مادری کچھ بھی نہیں،گونگی ہے ماں میری

……٭٭……٭٭……

اک بار ہم بھی راہنما بن کے دیکھ لیں

پھر اس کے بعد قوم کا جو بھی حال ہو

ان کےقطعاتِ میں کوئی نہ کوئی اہم مسئلہ کھل کر سامنے آ تا اور مزاح کی چاشنی طنز کی دوا میں شامل ہو کر اسے پُر لطف بنا دیتی ہے۔ ایسا ہی ایک قطعہ ملاحظہ کریں : رشوت

حاکم رشوت ستاں فکر گرفتار ی نہ کر

کر رہائی کی کوئی آسان صورت، چھوٹ جا

میں بتاؤں تجھ کو، تدبیر رہائی مجھ سے پوچھ

لے کے رشوت پھنس گیا ہے دے کے رشوت چھوٹ جا

انور مسعود

روز مرہ معمولات میں پیش آنے والے انتہائی چھوٹے چھوٹے واقعات جن کو بظاہر معمولی سمجھ کر نظر انداز کر دیا جاتا ہے ان کی اہمیت انور مسعود کے مشاہدے میں آ کر بڑھ جاتی ہے۔ہمارے معاشرے کی قدریں آہستہ آہستہ دولت کی ریل پیل میں بہتی چلی جا رہی ہیں جن کا اظہار انور مسعود نے کھل کر کیا ہے۔ چند مثالیں درج ذیل ہیں :

بھینس رکھنے کا تکلف ہم سے ہو سکتا نہیں

ہم نے سوکھے دودھ کا ڈبّا جو ہے رکھا ہوا

گھر میں رکھیں غیر محرم کو ملازم کس لیے

کام کرنے کے لیے اَبا جو ہے رکھا ہوا

……٭٭……٭٭……

ذرا سا سونگھ لینے سے بھی انور

طبیعت سخت متلانے لگی ہے

مہذب اس قدر میں ہو گیا ہوں

کہ دیسی گھی سے بُو آنے لگی ہے

انور مسعود کی طنزیہ و مزاحیہ شاعری میں روحِ عصر کی پرچھائیں بہت نمایاں ہیں۔ان کی مزاحیہ شاعری میں عصری ثقافت کا موازنہ اس بنیادی فکر کے ساتھ کیا جاتا ہے ۔معاشرے میں پھیلی ہوئی نفسا نفسی، خود نمائی، بے فکری،سُستی، کام چوری، رشوت، سفارش،ڈاکہ زنی، اقربا پروری، ملاوٹ، بدمعاشی، سیاسی ہیرا پھیری وغیرہ پر انور مسعو د مزاح کے پردےمیں چوٹ لگاتے ہیں۔ اسی کی مناسبت سےان کے چند طنزو مزاح سے پر اشعار ملاحظہ کریں :

آؤ اس کے اصل گورے رنگ سے

اب تصوّر میں ملاقاتیں کریں

آؤ پھر ماضی کی یادیں چھیڑ دیں

آؤ خالص دودھ کی باتیں کریں

……٭٭……٭٭……

افسوس کہ کچھ اس کے سوا ہم نہیں سمجھے

دیکھے ہیں علاقے کی سیاست کے جو تیور

’جمہوریت اک طرزِ حکومت ہے کہ جس میں ‘

والد کی جگہ لینے کو آ جاتی ہے دختر

……٭٭……٭٭……

نیاز سواتی

نیاز کی طنزیہ و مزاحیہ شاعری میں طنز کا عنصر اس وقت آب دار ہو جاتا جب وہ معاشرے میں مغربی تہذیب کو پھلتے پھولتے دیکھتے۔ معاشرتی و اخلاقی برائیوں پر چُپ نہیں رہ سکے۔نیاز سواتی تحریف کے ماہر تھے اور انھوں نے کئی ایسی غزلیات کی پیروڈیاں بنائیں، جسں کی وجہ سے انہیںشہرت حاصل ہوئی۔

باس کے آ گے جھکا تو بھی نہیں،میں بھی نہیں

اس لیے پھولا پھلا تو بھی نہیں،میں بھی نہیں

آؤ ہم دھندا کریں دونوں، سیاست کا نیاز !

گاؤں میں لکھا پڑھا

تو بھی نہیں میں بھی نہیں

بشیر احمد

طنزیہ و مزاحیہ شاعری کے صفِ اوّل کے شعرا ءمیں شمار ہوتے ہیں۔ غربت اور پیٹ کے دھندوں کے ساتھ مہنگائی پر متواتر اشعار ان کے مجموعہ کلام ’’ منقار‘‘ میں ملتے ہیں۔مثال کے طور پر:

چونچال خوب گزریں گے دن اپنے جیل میں

روٹی پکی پکائی ملے گی تنور کی

……٭٭……٭٭……

ہم ہیں کہ ناز اُٹھاتے ہیں مسری کی دال کے

وہ ہیں کہ روز کھاتے ہیں انڈے ابال کے

……٭٭……٭٭……

چور بازاری، گرانی، قتل و غارت، لوٹ مار

کیا کمی ہے اپنے ہاں ہر چیز کی بہتات ہے

ضیا ء الحق قاسمی

ان کی طنزیہ و مزاحیہ شاعری ،معاشرے میں پائے جانے والی بے اعتدالیوں سے جنم لیتی ہے۔ روزمرہ واقعات و معاملات ان کی ظرافت کا شکار بنتے ہیں۔ضیاء الحق قاسمی کی اکثر نظمیں واقعہ نگاری کی حامل ہیںنظم، غزل اور قطعہ میں ان کی ظرافت کے گلہائے رنگا رنگ ملتے ہیں۔ تحریف کے فن میں کمال رکھتے تھے اور کئی معروف و مقبول غزلیات اور نظموں کو تحریف کے پیکر میں ڈھال کر نئے معانی دیے۔ زندگی کی تلخ حقیقتوں کا بڑے ہلکے پھلکے الفاظ میں ایسے بیان کر دینا کہ تہ داری بھی برقرار رہے،ان ہی کا فنی کمال تھا۔

جب بھی چاہیں مرغ کھا لیتے ہیں دولت مند لوگ

دن کی پابندی نہیں منگل ہو یا اتوار ہو

ہاں، مگر مفلس کو کب ہوتا ہے یہ کھانا نصیب

مرغ ہو بیمار یا وہ خود کبھی بیمار ہو

……٭٭……٭٭……

ڈونگے کی طرف ہاتھ بڑھاتے نہیں دیکھا

اور مرغ پلاؤ کو اڑاتے نہیں دیکھا

جس شوق سے کل لنچ کی دے ڈالی ہے دعوت

لگتا ہے کہ تم نے اسے کھاتے نہیں دیکھا

پروفیسر عنایت علی خاں

اردو کے اہلِ زبان شاعر ہیں اور مزاحیہ مشاعروں میں ان کا لب و لہجہ اپنی انفرادیت کی وجہ سے سامعین کی توجہ اپنی جانب منتقل کرنے میں ہمیشہ کامیاب رہا ہے۔ بیگم، فیشن اور مہنگائی کی مثلث ان کے موضوعات پر چھائی ہوئی ہے لیکن اس کے علاوہ بھی کئی موضوعات پر پُر مزاح اشعار کہتے ہیں۔ ’’از راہِ عنایت ‘‘ اور ’’عنایات‘‘ کے نام سے شعری مجموعے شائع ہو کر اہلِ سخن سے داد وصول کر چکے ہیں۔ انہوں نےمزاح کےساتھ طنز کے تیکھے تیر بھی چلائے۔

مجھے ہمسائے کے گھر میں جونہی شعلے نظر آئے

تو قبل اس سے کہ یہ آتش مرے گھر تک پہنچ جائے

بہ عجلت تھانے اور فائر بر گیڈ فون کھڑکائے

مگر دونوں جگہ سے یہ جواب لاجواب آئے

ذرا یہ ورلڈ کپ ہو لے تو اس کے بعد دیکھیں گے

اطہر شاہ خاں جیدی

یہ مزاح کے مختلف حربوں میں طاق تھے لیکن موضوعات کی تشنگی صاف محسوس ہوتی ہے۔ ان کی توجہ کسی ایک جانب مستقل مرکوز نہیں تھی۔ان کی طنزیہ شاعری زیادہ تر عشق اور اس کے متعلقات کے گرد گھومتی رہی۔گھریلو زندگی کی چھوٹی چھوٹی ناہمواریوں کو مزاح کے لبادے میں سامنے لاتے رہے۔ایک قطعہ کی صورت میں مثال درج ذیل ہے :

ناکام محبت کا ہر اک دکھ سہنا

ہر حال میں انجام سے ڈرتے رہنا

قدرت کا بڑا انتقام ہے جیدی

محبوبہ کی اولاد کا ’’ماموں‘‘ کہنا

اس عہد کی سب سے بڑی خوبی، جس نے مزاحیہ شاعری کو یکساں طور پر ملک بلکہ دنیا کے کونے کونے تک پہنچایا،وہ الیکٹرانک میڈیا (ٹیلی ویژن، ریڈیو،کیبل،ٹیپ ریکارڈر، انٹرنیٹ وغیرہ) ہے، جہاں سے مزاحیہ مشاعروں کے توسط سے اس شاعری کو دوام حاصل ہوا۔اخبارات ورسائل نے بھی ان مشاعروں کی کوریج میں نمایاں خدمات انجام دیں ہیں۔اب ہر قومی اور مذہبی دن کی مناسبت سے مزاحیہ مشاعرے منعقد ہوتے ہیں۔