آپ آف لائن ہیں
بدھ6؍ جمادی الثانی 1442ھ 20؍جنوری 2021ء
  • بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیئرمین و ایگزیکٹوایڈیٹر: میر جاوید رحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن
Jang Group

سعودی ولی عہدشہزادہ محمد بن سلمان کے وژن سے گزشتہ برسوں کے دوران سعودی عرب میں بڑی تبدیلیاں آئیں۔آنے والے برسوں میں بھی زندگی کے مختلف شعبےمیں تبدیلیاں جاری رہیں گی ۔ شہزادہ محمد بن سلمان سہ نکاتی فارمولے کے ذریعے اقتصادی، سیاسی، سماجی اور ترقیاتی پروگرام روبہ عمل لا رہے ہیں. ولی عہد نے پبلک انویسٹمنٹ فنڈ قائم کرکےبہت بڑا قدم اٹھایا ہے، سعودی شہریوں کو یقین ہے کہ شہزادہ محمد بن سلمان خادم حرمین شریفین شاہ سلمان کی سرپرستی میں ملک میں جو تبدیلیاں لا رہے ہیں ان کی بدولت ملک نئے دور میں داخل ہورہا ہے.سعودی میڈیا کے مطابق ولی عہد شہزادہ محمد بن سلمان امریکہ، روس اور چین تینوں بڑی طاقتوں کے ساتھ متوازن سیاسی تعلقات کے فارمولے پر عمل پیرا ہیں۔ 

انہوں نے ایک طرف تو امریکہ کے ساتھ اسٹراٹیجک تعلقات کو مضبوط اور مستحکم کیا تو دوسری جانب روس کے ساتھ سیاسی محاذ پر تعلقات کو نیا موڑ دیا ہے جبکہ تیسری جانب چین کےساتھ سعودی عرب کے تعلقات کو نقطہ عروج تک پہنچا دیا . ولی عہد نے متوازن پالیسی اپنا کر سعودی دارالحکومت ریاض کو عالمی برادری سے کچھ اس طرح جوڑ دیا ہے کہ مشرق اور مغرب کے اہم فیصلوں میں ریاض کو شامل کیا جارہا ہے.بڑی قوتوں کے ساتھ متوازن سیاسی تعلقات کے فارمولے پر عمل پیرا ہیں.سعودی ولی عہد شہزادہ محمد بن سلمان کثیر جہتی سماجی اصلاحات کی پالیسی پر گامزن ہیں. انہوں نے کئی قوانین و ضوابط میں ترامیم کروائیں۔ 

مستقبل کے منصوبوں کی نئی منصوبہ بندی کی.مبصرین کا کہناہے کہ سعودی عرب میں مقامی شہریوں اور مقیم غیرملکیوں کی زندگی پر سماجی اصلاحات کے خوشگوار اثرات مرتب ہورہے ہیں.سعودی شہری بڑی تعداد میں سیر و سیاحت کے لیے بیرون ملک کا رخ کیا کرتے تھے اب منظر نامہ بدلنے لگا ہے. بہت بڑی تعداد میں سعودی سالانہ تعطیلات اندرون ملک پرکشش سیاحتی مراکز و مقامات پر گزارنا پسند کرنے لگے ہیں۔ 

مقامی شہری اس تبدیلی سے بے حد خوش ہیں کہ ولی عہد نے ملک کا ماحول وہی بنادیا جو اب سے چند عشرے قبل تھا. جب سعودی شہری معمول کی زندگی گزارا کرتے تھے. کورونا وباء سے قبل مملکت میں عجائب گھر، سینما گھر اور غنائی تقریبات کا سلسلہ چل رہا تھا درمیان میں یہ منقطع ہوگیا تھا جو اب بحال کردیا گیا ہے. ریاض، جدہ اور ملک کے دیگر شہروں کے باشندے فنون و ثقافت کے ستاروں کو اپنے درمیان دیکھ رہے ہیں۔

سعودی شہری بڑے فخر سے اس بات کا تذکرہ کرنے لگے ہیں کہ ولی عہد شہزادہ محمد بن سلمان کے جراتمندانہ فیصلے کی وجہ سے 35 برس کے بعد معاشرے میں سینما گھر بحال ہوئے. 2030ء تک 300 سینما گھر کھل جائیں گے.خواتین کو ڈرائیونگ کی اجازت ملنے، خاندان کے سربراہ کی منظوری کے بغیر سفر کی اجازت، خاندان اور معاشرے کی تعمیر و تشکیل میں وسیع البنیاد کردار ادا کرنے کے مواقع ملنے پر بھی خوشی کا اظہار کیا جارہاہے ۔