آپ آف لائن ہیں
جمعرات10؍ربیع الثانی 1442ھ26؍نومبر 2020ء
  • بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیئرمین و ایگزیکٹوایڈیٹر: میر جاوید رحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن
Jang Group

پیرس، کشمیری و پاکستانی کمیونٹی 25 اکتوبر کو یوم سیاہ منائےگی

فرانس کے درالحکومت پیرس میں مقیم کشمیری و پاکستانی کمیونٹی 25 اکتوبر کو یوم سیاہ کے طور منائے گی،  جموں و کشمیر فورم کے چیئرمین نعیم چوہدری،صدرمرزا آصف جرال، انٹرنیشنل کشمیر پیس فورم کے چیئرمین زاہد اقبال ہاشمی کی طرف سے تمام کشمیری کمیونٹی 25 اکتوبر ایفل ٹاور کے سامنے احتجاجی مظاہرہ کریں گے۔

فرانس میں مقیم پاکستانی کمیونٹی اس موقع پر کشمیری بھائیوں سے بھر پور اظہار یکجہتی کے لیے مظاہرے میں شرکت کریں گے۔

زاہد اقبال ہاشمی نے اپنے بیان میں کہا ہے کہ 27 اکتوبر 1947ء کو ہندوستانی فوج نے جموں و کشمیر پر حملہ کیا اور برصغیر کے تقسیمِ ہند منصوبے کی خلاف ورزی اور کشمیریوں کی امنگوں کے خلاف اس پر قبضہ کر لیا۔

ہندوستانی فوج نے علاقے پر قبضہ کر کے ایسی صورتحال کو جنم دیا جہاں لوگوں کو روزانہ کی بنیاد پر قتل کیا آج بھی جاری ہے جس کی جتنی مزمت کی جائے کم ہے۔

انہوں نے 27 اکتوبر کو جنوبی ایشیا کی تاریخ کا یوم سیاہ قرار دیتے ہوئے کہا کہ 1947ء سے لے کر آج تک یہ دن بدحالی کا باعث بنا ہوا ہے کیونکہ ہندوستان اس وقت سے پورے خطے میں اپنے غیر اخلاقی ایجنڈے کو نافذ کرنے کی کوشش کر رہا ہے۔

انہوں نے کہا ہے کہ اگر 27 اکتوبر 1947ء کو ہندوستانی فوج تمام اصولوں کی خلاف ورزی نہ کرتی تو نا تو خونریزی ہوتی اور نہ ہی کوئی مسئلہ ہوتا بلکہ جنوبی ایشیا کے عوام استحکام اور امن کے ثمرات سے لطف اندوز ہوتے اور شہید منان وانی اور شہید سبزار صوفی جیسے کشمیر کے علماء بھی جنگ آزادی کو ترجیح نہ دیتے۔

انہوں نے27 اکتوبر کو کشمیر کی تاریخ کا سیاہ ترین دن قرار دیا اور کہا کہ بھارتی فوجیوں نے کشمیری عوام کی مرضی کے خلاف کشمیر پر قبضہ کیا۔

نعیم چوہدری اور مرزا آصف جرال کشمیری رہنماوں نے کہا کہ کشمیری گذشتہ سات دہائیوں سے اپنے پیدائشی حق خود ارادیت کے حصول کے لیے جدوجہد کر رہے ہیں اور اس وقت تک تحریک آزادی جاری رکھیں گے جب تک کہ یہ منطقی انجام تک نہ پہنچ پائے۔

ان کا کہنا ہے کہ لائن آف کنٹرول اور دنیا بھر کے کشمیری ہر سال 25 اکتوبر کو یوم سیاہ کے طور پر مناتے ہیں۔

انہوں نے کہا کہ کشمیری عوام کبھی بھی اپنی سرزمین پر بھارت کے زبردستی قبضے کو قبول نہیں کریں گے اور نئی دہلی اور انسانی حقوق کی تنظیموں اور بین لاقوامی طاقتوں کو زمینی حقیقت کا ادراک کرنا چاہیے اور کشمیریوں کی امنگوں کے مطابق جاری تنازعہ کو طے کرنا چاہیے۔

ان رہنماوں کا کہنا ہے کہ گزشتہ سال 5 اگست کے بعد کشمیر کی صورتحال ابتر سے ابتر ہوتی جارہی ہے، انہوں نے کہا کہ فرانس سمیت یورپ بھر میں بھی بھارت کے خلاف یوم سیاہ منایا جائے گا۔

بین الاقوامی خبریں سے مزید