آپ آف لائن ہیں
جمعرات17؍ربیع الثانی 1442ھ3؍دسمبر 2020ء
  • بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیئرمین و ایگزیکٹوایڈیٹر: میر جاوید رحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن
Jang Group

جاعت اسلامی اپوزیشن اتحاد سے الگ تھلگ کیوں؟

پاکستان ڈیموکریٹک موومنٹ(پی ڈی ایم)نے کراچی میں حکومت کے خلاف دوسرا بڑا جلسہ کیا اس ۔جلسہ کو گرچہ کامیاب جلسہ قرار دیا جاسکتا ہے۔ تاہم یہ جلسہ جے یو آئی کے 12 جنوری 2012 کے جلسے کے مقابلے میں شرکاء کی تعداد کے لحاظ سے کم رہا ۔گیارہ جماعتوں کے مشترکہ جلسے میں عوام کی گرچہ کثیرتعداد آئی تاہم سوائے پی پی پی کے علاوہ کسی جماعت نے جلسہ کے لیے عوامی مہم نہیں چلائی ۔جے یو آئی کراچی میں دھڑے بندے کے سبب عوام کا جم غفیر نہیں لاسکی وگرنہ باغ جناح گراؤنڈ کو صرف جے یو آئی کے کارکن بھر سکتے تھے ۔

جلسے کا تمام تربوجھ پی پی پی پر تھا کراچی کے جلسے سے ملک کے تمام اہم رہنماؤں نے خطاب کیا ۔جنہوں نے اسٹیبلشمنٹ سے شکوے شکایات کئے اور انہیں سیاسی معاملات میں دخل اندازی ناکرنے کا مشورہ دیا ۔محسن داوڑ اورامیرحیدرہوتی کا خطاب شاندار رہا۔ جلسہ میں پی پی پی اور جے یوآئی کےجھنڈوں کی بہار تھی ،تاہم پختون خواہ ملی عوامی پارٹی، اے این پی، اور کہیں کہیں مسلم لیگ(ن) کے جھنڈے بھی نظرآتے رہے۔ پی ڈی ایم گرچہ اپوزیشن جماعتوں کا اتحاد ہے تاہم اتحاد میں تال میل نظرنہیں آتا جلسہ گاہ میں موجود کارکن اپنے اپنے قائدین کاخطاب سننے کے بعد جلسہ گاہ سے چلے جاتے ہیں۔ 

کراچی کے جلسے میں بھی بلاول بھٹو کے بعد پی پی پی کی تمام خواتین جلسہ گاہ سے چلی گئی تھی ۔پی ڈی ایم نے کراچی جلسے میں جہاںوزیراعظم عمران خان پر کڑی تنقید کی وہاں انہوں نے اسٹیبلشمنٹ کو بھی کئی پیغامات دیئے۔پی ڈی ایم کے سربراہ مولانا فضل الرحمن نے کہا کہ جب معیشت تباہ ہوتی ہے، معیشت کی کشتی ڈوبتی ہے تو ریاستیں اپنا وجودکھوبیٹھی ہے، پیپلزپارٹی کے چیئرمین بلاول بھٹو زرداری نے شہدائے کارساز کو خراج عقیدت پیش کرتے ہوئے کہاکہ سانحہ کارساز کا غم ہمیشہ ہمارے ساتھ رہے گا، لیکن ہمیں اس غم کو اپنی طاقت میں بدلنا ہے، جزائرآرڈیننس پر سندھ میں ایک طوفان اٹھ رہا ہے، حکومت نے اگر بدھ تک جزائر سے متعلق آرڈیننس واپس نہ لیا تو ارکان اسمبلی سے کہتاہوں کہ سینیٹ میں اس آرڈیننس کو لات مار باہر کردیں۔ 

مسلم لیگ(ن) کی نائب صدر مریم نواز نے کہاکہ فوج سب کی ہے، شہیدوں کو سلام پیش کرتی ہوں، ، کل ایک شخص چیخ کر اپنی ناکامی کا ماتم کررہا تھا، تم کہتے ہو جلسے اور تحریکوں سے حکومت نہیں جاتی، یہ بھی ہوجائے گا، بلوچستان نیشنل پارٹی کے سربراہ سردار اختر خان مینگل نے کہاکہ عوام سنگل توڑے تو چالان ہوجاتا ہے، آئین توڑنے والے غدار کیوں نہیں؟ اے این پی کے امیر حیدرخان ہوتی نے کہاکہ پی ڈی ایم آئین کی بالادستی کی تحریک ہے، نیامیثاق بنانا ہوگا، پشتون خواہ ملی عوامی پارٹی کے سربراہ محمودخان اچکزئی نے کہاکہ بغیر خون گولی کے انقلاب لانا چاہتے ہیں، طاقت سرچشمہ عوام ہے۔جلسے میں مولانافضل الرحمن نے 25 اکتوبر کو کوئٹہ میں پی ڈی ایم کے تیسرے جلسے کا بھی اعلان کیا۔کہاجارہاہے کہ تحریک جیسے جیسے آگے بڑھے گی تحریک میں شدت آتی جائے گی۔ 

اپوزیشن کے مطابق عوام کو اس تحریک سے بہت سی امیدیں وابستہ ہیں۔ ماضی میں بھی حکومت مخالف تحریکیں آہستہ آہستہ زور پکڑتی رہی ہے۔ جماعت اسلامی نے اپوزیشن اتحاد سے خود کوالگ کررکھا ہے اورانہوں نے یکم نومبر سے حکومت کے خلاف تحریک چلانے کا اعلان کیا ہے۔ امیرجماعت اسلامی سراج الحق کا کہنا ہے کہ نئے اورپرانے حکمرانوں کے درمیان لڑائی مفاد عامہ کے لیے نہیں اپنی باری کے لیے ہے۔ 

عوام کی بات صرف جماعت اسلامی کررہی ہے ، 23 اکتوبر کو مرکزی ذمہ داران کے اجلاس میں تحریک کے مکمل شیڈول اور قوم کے لیے آئندہ کے لائحہ عمل کا اعلان کریں گے۔یہ بھی کہاجارہا ہے کہ جماعت اسلامی کی جانب سے علیحدہ تحریک چلانے کا اعلان حکومت کی بلواسطہ مدد کے زمرے میں آتا ہے، جب مقصد ایک ہے تو پھر علیحدہ تحریک کے کیا معنی؟

دوسری جانب مریم نوازکی کراچی آمد کے موقع پر مزارقائد پر حاضری کے دوران احاطہ مزارمیں ان کے شوہر کیپٹن (ر) محمدصفدر نے نعرے بازی شروع کردی۔ کیپٹن(ر) محمدصفدر نے مزارقائد کے احاطے میں "ووٹ کو عزت دو" کے نعرے لگانے شروع کر دیے۔کیپٹن(ر) محمدصفدربانی پاکستان قائداعظم محمدعلی جناح کی قبر کے احاطے میں داخل ہوگئے، انہوں نے بانی پاکستان کی قبرکے اطراف لگی جالیوں کو عبورکرلیا اورقبر کے ساتھ کھڑے ہوکر نعرے بازی کی اور کرائی۔ ۔ مزارکے احاطے میں نعرے بازی پر پی ٹی آئی کے رہنماؤںخرم شیرزمان ، حلیم عادل شیخ اور راجہ اظہر نے اس عمل کو مزارقائد کے تقدس کی پامالی قرار دے کر تھانہ بریگیڈ میں کیپٹن صفدر اور دیگر پر مقدمہ درج کرنے کے لیے درخواست دی جبکہ پی ٹی آئی نے اس ضمن میں سندھ اسمبلی میں قراردادبھی جمع کرادی ۔ 

پولیس نے پی ٹی آئی کی درخواست کو خارج کردیا ۔ بعدازاں قائداعظم پبورڈنے مجسٹریٹ کے سامنے پولیس کو درخواست دی جس پر رات گئے ہوٹل کا دروازہ توڑ کر کیپٹن صفدر کو گرفتار کرلیا گیا ۔کیپٹن صفدر کی گرفتاری کی پی ڈی ایم کے رہنماؤں مولانافضل الرحمن، مریم نواز، بلاول بھٹو، میاں افتخار حسین، سعیدغنی، ناصرحسین شاہ، محمودخان اچکزئی نے سخت الفاظ میں مذمت کی اور بلاول بھٹو نے مریم نواز سے فوری ٹیلی فونک رابطہ قائم کیا اور کہاکہ اس گرفتاری پر سندھ حکومت کو بے خبرر کھا گیا چادرچاردیواری کا تقدس پامال کیا گیا یہ سندھ کی روایت کے خلاف ہے پی ڈی ایم کے سربراہ مولانافضل الرحمن نے مریم نوازاور راجہ پرویز اشرف کے ہمراہ پریس کانفرنس کرتے ہوئے کہاکہ یہ ایف آئی آر مقتدرہ حلقوں نے زبردستی درج کرائی ہے مہذب معاشروں میں ایسا نہیں ہوتا یہ بدمعاشی ہے۔

وزیراعلیٰ سندھ اس واقعہ کی انکوائری کا حکم دے دیا ہے۔مریم نواز نے کہاکہ اس کیس کا مدعی خودکرمنل ہے اور اس حرکت سے پی ڈی ایم میں دراڑ نہیں ڈالی جاسکتی۔بعض حلقوں کے مطابق یہ صورتحال اداروں اور عوام کے درمیان تصادم کی جانب بڑھ رہی ہے فریقین کو اس جانب توجہ دینی ہوگی اس صورتحال سے ملک دشمن قوتیں فائدہ اٹھاسکتی ہے جو ملک کے لیے بہتر نہیں۔ 

ادھر جامعہ فاروقیہ کے مہتمم ڈاکٹرعادل کے قاتلوں کی عدم گرفتاری کے خلاف اتحاد تنظیمات المدارس نے جمعہ کو ہڑتال کی کال دی تاہم اپنی حلقوں مذہبی جماعتوں ، جے یو آئی، جماعت اسلامی، جے یو پی، جمعیت اہلحدیث کی جانب سے ہڑتال کی حمایت کا اعلان نہیں کیا گیا اور ناہی ہڑتال کے لیے تاجروں ، ٹرانسپورٹروں اور دیگر حلقوں سے رابطہ کیا گیا ہڑتال کی کامیابی کا تمام تربوجےھ اہلسنت والجماعت پرڈال دیا گیا جنہوں نے اپنے نامساعد حالات میں ہڑتال کا میاب بنانے کی کوشش کی تاہم ہڑتال کوئی اثر نہیں چھوڑ سکی ہڑتال کال کے بعد تنظیمات المدارس نے بھی خاموشی اختیار کرلی ہے اورکسی ایسے ایک اور سانحہ کا انتظار کررہی ہے۔

تجزیے اور تبصرے سے مزید
سیاست سے مزید