آپ آف لائن ہیں
جمعہ11؍ربیع الثانی 1442ھ 27؍نومبر2020ء
  • بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیئرمین و ایگزیکٹوایڈیٹر: میر جاوید رحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن
Jang Group

کہیں لندن پولیس چھٹیوں پر نہ چلی جائے!

پہلے بات کر لیتے ہیں ریفرنس کی،آپ کو یاد ہوگا جیسے ہی جسٹس فائز عیسیٰ کیخلاف ریفرنس دائر ہوا،شور مچ گیا، کوئی بولا، ریفرنس بدنیتی پر مبنی، کسی نے کہا، ریفرنس جج صاحب کے فیض آباد دھرنے کے فیصلے کا نتیجہ، کسی نے فرمایا،ریفرنس سازش، آزاد عدلیہ پر حملہ، آپ کو یاد ہوگا، ریفرنس خبر سنتے ہی ایک ایڈیشنل اٹارنی جنرل نے استعفیٰ دے دیا، وکلا برادری کی اکثریت تالہ بندی، مرنے مارنے پر تل گئی، ایسا شور، ایسا شور، سمجھ نہ آئے مسئلہ کیا۔

کیا کوئی جج قابلِ احتساب نہیں، اگر ہے تو انہونی کیا،اگر جج کا احتساب جج صاحبان نے کرنا تو ساز ش کیسی، اگر عدلیہ کا فیصلہ عدلیہ نے کرنا تو یہ عدلیہ پر حملہ کیسا، خیر جسٹس عمر عطا بندیال کی سربراہی میں 10رکنی بنچ نے 24ستمبر 2019سے باضابطہ کیس سننا شروع کیا، 41سماعتیں ہوئیں، 19جون 2020کو مختصر فیصلہ، 23اکتوبر 2020کو 224صفحاتی تفصیلی فیصلہ، 11وجوہات کی بنا پر ریفرنس غیرآئینی و غیرقانونی قرار پایا۔

جہاں اس فیصلے میں، صد ر نے اختیارات سے تجاوزکیا، ناقابلِ قبول شواہد قبول کئے، تھرڈ پارٹی سے قانونی رائے نہیں لی، جہاں اسی فیصلے میں جج صاحب، انکی اہلیہ کے ٹیکس ریکارڈ تک غیرقانونی رسائی حاصل کی گئی، فردوس عاشق نے جج صاحب کیخلاف توہین آمیز الفاظ استعمال کئے۔

کارروائی کی جائے، جہاں اسی فیصلے میں جسٹس یحییٰ آفریدی کے مطابق خفیہ معلومات افشا کرنے پر فروغ نسیم، شہزاد اکبر، چیئرمین ایف بی آر کیخلاف کارروائی کی جائے، وہاں اسی فیصلے میں یہ بھی کہ ریفرنس فیض آباد دھرنے فیصلے پر نہیں، لند ن جائیدادوں پر بنا، ریفرنس بدنیتی پر مبنی نہیں، کسی ریفرنس سے جوڈیشری کی آزادی، ججز کے وقار پر کوئی فرق نہیں پڑتا،جج صاحب کی جاسوی نہیں ہوئی اور اسی فیصلے میں یہ جملہ بھی کہ ’’ضروری ہے جج صاحب مالی معاملے پر سوال کا داغ دھوئیں‘‘۔

اب سازشی تھیوریوں والوں سے پوچھنا، اب تو فیصلے میںہے کہ ریفرنس فیض آباد دھرنے فیصلے کی وجہ سے نہیں، لندن جائیدادوں کی وجہ سے بنا، ریفرنس بدنیتی پر مبنی نہیں، ریفرنس آزاد عدلیہ پر حملہ نہیں اور جج صاحب مالی معاملات پر سوالا ت کے جواب دیں، تو اب بھی آپ کو یہ ریفرنس سازش لگے، ہم یہ کیوں بھول جائیں کہ اگر فیض آباد دھرنا فیصلہ جسٹس فائز عیسیٰ کا تو حدیبیہ پیپرز مل فیصلہ بھی انہی کا، وہ کیس جو ہاؤس آف شریف کیخلاف مضبوط ترین کیس تھا۔

وہ کیس جسٹس فائز عیسیٰ نے نہ صرف خارج کردیا بلکہ دورانِ کیس یہ حکم بھی دیا کہ میڈیا اسے ڈسکس ہی نہ کرے، خیر چھوڑیںیہ سب، کہنایہ، اگر سالن میں مرچ زیادہ لگے تو فوراً نہ کہہ دیا کریں ’’ارے یہ تو سازش ہو گئی‘‘، اگر گاڑی کا ٹائر پنکچر ہو جائے تو فوراً فتویٰ نہ جاری کردیا کریں، ارے یہ تو فلاں کی کارستانی، برائے کرم تھوڑی سی تحقیق کر لیا کریں۔

اب چند باتیںکراچی واقعے پر، پہلی بات، مزار کس کا تھا،محمد علی جناح ؒ کا، ہم انہیں کیا کہتے ہیں، قائداعظمؒ، ہم انہیں کیا سمجھتے ہیں، بابائے قوم، مطلب سب سے بڑے رہنما اور قوم کے باپ کی قبرپرجوتوں سمیت دھاوا، بدتمیزی، بدتہذیبی، نعر ے اور نعروں کی آڑ میں تضحیک آمیز نعرے،شاباش، ہماری غیرت اِس پر نہ جاگی کہ مزارِ قائد پر کیا ہوا، ہماری غیرت اِس پر نہ جاگی کہ مرنے کے بعد بھی قائداعظم، قوم کا باپ جیرے بلیڈوں سے محفوظ نہیں، ہماری غیرت اِس پر جاگی کہ آئی جی سے زبردستی ایف آئی آر کٹوائی گئی۔

شاباش، کوئی ہوٹل کے ٹوٹے دروازے میں پھنسا ہوا، کوئی آئی جی سے ہوئی زبردستیوں میں مغز ماری کررہا، کسی کو پروا نہیں کہ قائداعظم کے ساتھ کیا ہوچکا، اِس سانحے پر اعتزاز احسن کا ردِعمل سن لیں، مستنصر حسین تارڑ کا خط پڑھ لیں، کتنے دکھ کی بات، مریم نواز، کیپٹن صفد رکے ساتھ پوری اپوزیشن، سندھ پولیس کے ساتھ سندھ حکومت، ابھی تین چاردن پہلے سینیٹ میں علامہ اقبال کے پوتے سینیٹر ولید اقبال کو کہتے سنا ’’اگر کوئی ایسی حرکت علامہ اقبال کے مزار پر کرے تو میں اس کا گریبان پھاڑ دوں‘‘۔ مطلب سب وارثوں والے، بس لاوارث قائداعظم، سب کا کوئی نہ کوئی، اگر کسی کا کوئی نہیں تو وہ بابائے قوم کا۔

ویسے تو مریم نواز سندھ پولیس کو شاباش دے چکیں، لیکن ایک شاباش سندھ پولیس کو میری طرف سے بھی، کیوں؟ اس لئےکہ جب سندھ حکومت ان کے آئی جی اے ڈی خواجہ کو کام نہیں کرنے دے رہی تھی، جب اے ڈی خواجہ کو زبردستی 15دن چھٹیوں پر بھیج دیا گیا، تب سندھ پولیس چھٹیوں پر نہ گئی، ان کے آئی جی کلیم امام کے ساتھ کیا کیا نہ ہوا، سندھ پولیس چھٹیوں پر نہ گئی، عزیر بلوچ اپنی مرضی سے پولیس تقرریاں کرواتا، بھتے لیتا، قبضے کرتا، پولیس گاڑیوں میں وارداتیں ڈالتارہا، سندھ پولیس چھٹیوں پر نہ گئی۔

اومنی گروپ خدمتیں ہوں، زرداری صاحب کی شوگر ملوں تک گنا پہنچانا ہو، سندھ پولیس چھٹیوں پر نہ گئی، گٹکے کا کاروبار ہو یاایرانی تیل دھندا، پٹرول پمپ کہانیاں ہوں یا بڑے گھروں کی منتھلیاں، سندھ پولیس چھٹیوں پر نہ گئی، باقی چھوڑیں، آئی جی مشتاق مہر جب سی سی پی اوکراچی تھے تب انہوں نے اومنی گروپ کیلئے کیا کیا اور سپریم کورٹ نے کیا کہامگر سندھ پولیس چھٹیوں پر نہ گئی، سندھ پولیس چھٹیوں پر کب گئی جب اس سے قائداعظم توہین پر زبردستی ایف آئی آر کٹوائی گئی، شاباش تو بنتی ہے ۔یہاں نعرہ بازوں سے پوچھنا، کیا وہ ایوب خان کی قبر تھی، جہاں آپ ووٹ کو عزت دو کے نعرے مار رہے تھے، کیا وہ ضیاء الحق کی قبر تھی جہاں آپ ووٹ کی حرمت پر اپنی دیوانگی نچھاور کررہے تھے۔

کیاوہ پرویز مشرف کے گھر کا دروازہ تھا کہ جہاں پہنچ کر آپ ہوش وہواس کھو بیٹھے، مجھے معلوم نعرے باز ایوب خان کی قبر پر نعرے نہیں مار سکتے کیونکہ ایوب کی پیداوار کے تو وہ مہمان تھے، مجھے معلوم وہ ضیاء الحق کی قبر پر نعرے نہیں مار سکتے تھے کیونکہ ضیا ء الحق کی پیداوار تو وہ خود، مجھے معلوم وہ پرویز مشرف کے گھر کے باہر نعرے نہیں مار سکتے کیونکہ مشرف صاحب سے تو ڈیلیں فرمائی ہوئیں۔

ہاں البتہ نعرے باز یہ ضرور کر سکتے ہیں کہ لندن جائیں، ایون فیلڈ فلیٹس کے سامنے کھڑے ہو کر نعرے ماریں، کورٹ کو عزت نہیں دینی، نہ دیں مگر ووٹ کو عزت دیں اور واپس آئیں لیکن اتنی سی گزارش کہ ایون فیلڈ کے سامنے نعرے ذرا آہستہ، کہیں لندن پولیس چھٹیوں پر نہ چلی جائے۔

تازہ ترین