آپ آف لائن ہیں
منگل8ربیع الثانی 1442ھ 24؍نومبر 2020ء
  • بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیئرمین و ایگزیکٹوایڈیٹر: میر جاوید رحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن
Jang Group

وہ شرارتاً کہا کرتا تھا’’شرعی عیب تو صرف پانچ ہوتے ہیں، پانچ سات میں نے خود ایجاد کر رکھے ہیں‘‘ہمارا اجتماعی حال اس سے بھی بدتر اور گیا گزرا ہے۔ ہم نے خانہ خرابی کے لئے کیا کیا کچھ ’’ایجاد‘‘ نہیں کیا۔ قدرتی آفات اپنی جگہ کہ چند ایک ہی ہیں۔ باقی بیشمار اذیتیں اور ذلتیں ہمارے اپنے کارنامے ہیں جن پر آئندہ نسلیں بجا طور پر فخر کیا کریں گی۔ہماری کتابیں ایسٹ انڈیا کمپنی کی مذمت سے بھری پڑی ہیں۔

ہر سال چودہ اگست ’’یوم آزادی‘‘ کی آڑ میں جشن بدتمیزی منایا جاتا ہے جس کی 73سالہ باٹم لائن یہ ہے کہ بچوں کو ایسٹ انڈیا کمپنی کی انگلش میڈیم تعلیم دلائو، ہر حربہ استعمال کر کے بچوں کو یورپ، امریکہ،کینیڈا پڑھائو اور پھر ’’دعائیں‘‘ مانگو کہ علامہ اقبال کے ان شاہینوں کو کوئی ملٹائی نیشنل کمپنی ڈالروں کے عوض اپنی غلامی میں قبول کر لے۔ایسٹ انڈیا کمپنی سے کسی ملٹائی نیشنل کمپنی تک کی غلامی کو ہم ’’آزادی‘‘ کہتے ہیں اور اگر ہمارے آزاد ملک کو کسی گورے سیٹ اپ سے آسان شرائط پر مزید قرضہ مل جائے تو اسے اپنی مہارت سمجھ کر بغلیں بجاتے ہیں۔

اس پر دو لوگ یاد آتے ہیں۔ایک بیورلی نکلسن (VERDICT ON INDIA)جس نے لکھا تھا’’جلد یا بدیر ایک وقت آئے گا جب دنیا یہ محسوس کرے گی کہ برطانیہ کا ذہنی اور علمی اقتدار ہندوستان سے کبھی زائل نہیں ہو گا۔ اس میں کوئی شک نہیں کہ ہم سے کچھ کوتاہیاں اور غلطیاں سرزد ہوئیں، کبھی کبھی جذبات کی رو میں ہم آپے سے باہر بھی ہو گئے اور بارہا ہم تنگ خیال کے مرتکب بھی ہوئے لیکن ان سب کے باوجود ہم نے ہندوستان کو امن عطا کیا۔ ہم نے ہندوستان کو قانون دیا۔

وہ قانون جس میں جبر و تشدد کو دخل نہ تھا‘‘دوسرے شخص کا نام گاندھی ہے جس نے ایک جملے میں بات ختم کر دی کہ....’’یہاں پر انگریزوں کے بعد بھی انگریزی رائج قائم رہے گا‘‘۔معاف کیجئے 73سالہ مقروض آزادی کی باٹم لائن بیان کرتے ہوئے میں اک انتہائی اہم بات تو بھول ہی گیا اور وہ یہ کہ ہم ’’آزادوں‘‘ کی کل کمائی ہوتی کیا ہے؟

کسی گورے ملک کی شہریت کہ تیل میں لتھڑے ’’برادر‘‘ تو منہ نہیں لگاتے بلکہ الٹا ہم ’’رفیقوں‘‘ کے ساتھ حقارت سے پیش آتے ہیں جبکہ ’’ایسٹ انڈیا کمپنی‘‘ اور ان کے برادر ممالک ہم ’’آزادوں‘‘ کو اپنی ’’شہریت‘‘ سے لے کر ’’زوجیت‘‘ تک عطا کر دیتے ہیں۔ہماری ’’اشرافیہ‘‘ کی ہسٹری ہی نہیں کیمسٹری بھی گندی اور بدبو دار ہے جس نے آزاد رعایا کو اقتصادی ہی نہیں فکری اور اخلاقی، نفسیاتی اور روحانی طور پر بھی کنگال کر دیا کہ اندھوں کو دکھائی دینے والی ناقابل تردید حقیقتیں، سچائیاں اور ننگے ترین تضادات بھی دکھائی نہیں دیتے۔پوری مہذب و غیر مہذب.....ترقی یافتہ اور غیر ترقی یافتہ دنیا کا نقشہ سامنے رکھیں اور سوچیں کہ آج جو کچھ ’’اسلامی....جمہوریہ......پاکستان‘‘ میں ہو رہا ہے اور مدتوں سے ہوتا چلا آ رہا ہے، اس دنیا میں اور کہاں کہاں ہو رہا ہے؟؟؟

ہم جیسے دعوئوں کے ساتھ اور کتنے ملک ہیں جن پر ہم جیسے ’’لیڈرز‘‘ سوار ہیں لیکن سوچے کون کہ سوچنے سے بلڈ پریشر تہس نہس ہو جانے اور عارضۂ قلب کا خطرہ ہے جو اس لئے بھی برا ہے کہ دوائیاں جعلی اور مہنگی جبکہ ڈاکٹرز ان سے بھی مہنگے اور اکثر علاج نہیں احتجاج میں مصروف ہوتے ہیں۔قارئین!تہہ دل سے معذرت خواہ ہوں کہ تمہید ذرا لمبی ہو گئی لیکن کیا کروں مجبوری ہے حالانکہ مبارکباد صرف اس بات پر دینی تھی کہ باغوں کا شہر لاہور فضائی آلودگی کے حوالہ سے دنیا بھر میں پہلے نمبر پر آ گیا ہے۔ شہنشاہ ہندوستان نور الدین جہانگیر کی ملکہ نور جہاں کو لاہور بہت پیارا تھا۔ آج لحد میں ملکہ عالیہ کا دم گھٹ رہا ہو گا اور ہاں میں نے ملکہ نور جہاں کا ذکر کرتے ہوئے شہنشاہ جہانگیر کا حوالہ اس لئے ضروری سمجھا کہ کوئی نابغہ اسے ملکہ ترنم نور جہاں نہ سمجھ بیٹھے۔

لاہور ایئر کوالٹی انڈیکس کی روشنی میں 341 تک پہنچ چکا اور ڈیزاسٹر مینجمنٹ اتھارٹی مع محکمہ تحفظ ماحولیات کے دعوے دھرے کے دھرے رہ گئے۔ شہری پیٹ کی پیدائشی بیماری المعروف بھوک میں تو پہلے ہی مبتلا تھے، اب سانس، گلے، آنکھوں کی بیماریوں میں بھی مبتلا ہونے لگے ہیں۔ مبارک ہو !موت اک لفظ بے معانی ہےجس کو مارا حیات نے مارالیکن اگر صرف ’’سموگ‘‘کی شدت میں ہی اضافہ ہوتا تو رو پیٹ کر گزر بسر کر لیتے لیکن یہاں تو سوگ در سوگ اور سموگ در سموگ کا سامنا ہے۔

اقتصادی سموگ سے سیاسی سموگ تک، اخلاقی سموگ سے انتظامی سموگ تک، سماجی سموگ سے روحانی سموگ تک تم کتنے بھٹو مارو گےہر گھر سے بھٹو نکلے گامنیر نیازی کو اک دریا عبور کرنے کے بعد دوسرے دریا کے سامنا کا مسئلہ تھا۔ ہمیں ایک سموگ کے بعد دوسرے، تیسرے، چوتھے، پانچویں سموگ کا سامنا ہے تو خدا جانے اس ’’سلسلۂ سموگیہ‘‘ سے جان کب چھٹے گی؟ شاید کبھی نہیں کیونکہ نتیجہ چاہئے چین جیسا لیکن نظام رکھنا اپنے جیسا جو سرے سے کوئی نظام ہی نہیں ہے۔

(کالم نگار کے نام کیساتھ ایس ایم ایس اور واٹس ایپ رائے دیں 00923004647998)

تازہ ترین