آپ آف لائن ہیں
ہفتہ19؍ربیع الثانی 1442ھ 5؍دسمبر 2020ء
  • بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیئرمین و ایگزیکٹوایڈیٹر: میر جاوید رحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن
Jang Group

خواتین مردوں کی نسبت زیادہ اخلاقی خوبیوں کی مالک ہوتی ہیں، تحقیق

لندن(اے پی پی)برطانوی اخبارٹائمزمیں شائع ہونے والی ایک سائنسی تحقیق میں کہا گیا ہے کہ خواتین مردوں کی نسبت زیادہ اخلاقی خوبیوں کی مالک ہوتی ہیں، وہ مردوں کی نسبت دوسروں کے ساتھ زیادہ شفقت اور حسن اخلاق سے پیش آتی ہیں۔رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ خواتین کی خوبی ان کی خوبصورتی ہی نہیں بلکہ مردون کی نسبت نرم مزاجی بھی ان کا خاصہ ہوتی ہے۔ سائنسی مطالعےسے معلوم ہوتا ہے کہ خواتین دوسروں کےساتھ حسن سلوک کے معاملے میں زیادہ حساس ہوتی ہیں،اگرانہیں کوئی اذیت نہ پہنچائے تو وہ حتی الامکان دوسرے کو اذیت دینے سے گریز کرتی ہیں۔اس سائنسی مطالعے کے دوران 67 ممالک میں 3لاکھ 30ہزارسے زیادہ افراد کے اخلاقی رویوں کا جائزہ لیا گیا۔ مطالعے کے نتائج سے یہ بات سامنے آئی ہے کہ عورتیں مردوں کے مقابلے میں اخلاص ، مہربانی اور اخلاقی پاکیزگی کی خوبیوں کے حوالے سے زیادہ فکر مند رہتی ہیں۔تحقیق میں کہا گیا ہے کہ جن معاشروں میں خواتین اور مردوں کے درمیان نسبتا ًزیادہ مساوات پائی جاتی ہے وہاں مردوں کے مقابلے میں خواتین کی اخلاقی خوبیاں مردوں کی نسبت زیادہ ہوتی ہیں۔یہ ریسرچ جنوبی کیلیفورنیا کی سازرن یونیورسٹی کے زیراہتمام کی گئی ہے۔سروے کے دوران پتا چلا کہ نگہداشت ، اخلاص اور اخلاقی پاکیزگی جیسی خوبیاں مردوں میں‌کم اور خواتین میں

زیادہ ہیں۔تحقیق میں انکشاف کیا گیا ہے کہ اظہار رائے کی آزادی انسانی اخلاق پر اثرات مرتب کرتی ہے۔ جہاں آزادی اظہار رائے موجود ہے وہاں پر خواتین اور مردوں کے درمیان اختلاف کی زیادہ توقع کی جاسکتی ہے۔ وہاں خواتین اپنے فیصلوں اور آرا کا آزادانہ اظہار کر سکتی ہیں۔

یورپ سے سے مزید