آپ آف لائن ہیں
جمعہ11؍ربیع الثانی 1442ھ 27؍نومبر2020ء
  • بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیئرمین و ایگزیکٹوایڈیٹر: میر جاوید رحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن
Jang Group

چاند کے روشن حصے پر پہلے سے زیادہ پانی کے مالیکول دریافت

پیرس(جنگ نیوز) چاند سے متعلق حیران کن نئی دریافت کے بارے میں اشارہ دینے کے بعد امریکی خلائی ادارے ناسا نے اعلان کیا ہے کہ اسے چاند پر پانی کی موجودگی کے فیصلہ کن ثبوت مل چکے ہیں،مالیکیولر پانی کی غیرمبہم دریافت سے چاند پر خلائی اڈہ بنانے کی ناسا کی امیدوں کو فروغ ملے گا،مقصد یہ ہے کہ چاند کے قدرتی وسائل کا استعمال کرتے ہوئے اس بیس کو قائم رکھا جا سکے،تحقیق کے نتائج دو مختلف ریسرچ پیپرز کی صورت میں جریدے ’نیچر ایسٹرونامی‘ میں شائع ہوئے ،غیر ملکی نشریاتی ادارے کے مطابق ویسے تو چاند کی سطح پر پہلے بھی پانی کی موجودگی کی علامات ملتی رہی ہیں لیکن نئی دریافتوں سے معلوم ہوتا ہے کہ یہ پچھلے تصورات سے کہیں زیادہ مقدار میں یہاں موجود ہے۔ملٹن کینیس اوپن یونیورسٹی کی پلینٹری سائنسدان ہینا سارجنٹ نےبتایا ہےکہ اس دریافت سے چاند پر پانی کے ممکنہ ذرائع کے بارے میں مزید آپشن دستیاب ہوئے ہیں،امریکی خلائی ادارے نے کہا ہے کہ وہ چاند کی سطح پر سنہ 2024 میں ایک مرد اور عورت کو بھیجے گا تاکہ ʼاگلی بڑی چھلانگ یعنی

2030 کی دہائی میں مِریخ پر انسان کو اتارنے کے لیے تیاری کی جا سکے۔انہوں نے کہا کہ چاند پر خلائی بیس کہاں بنانی ہے اس کا دارومدار اس بات پر ہوگا کہ چاند پر پانی کہاں ہے،ان نئی دریافتوں میں سے پہلی دریافت صوفیہ ٹیلی سکوپ نامی رصدگاہ سے کی گئی۔ یہ رصدگاہ ایک بوئنگ 747 طیارہ ہے جو زمین کی 99.9 فیصد فضا سے اوپر پرواز کرتا ہے۔انفراریڈ شعاعوں کو دیکھ پانے والی یہ ٹیلی سکوپ فضا سے اوپر ہونے کی وجہ سے نظامِ شمسی کا بلارکاوٹ مشاہدہ کر سکتی ہے۔چاند کی سطح پر انفراریڈ شعاعیں پھینکنے اور ان کے منعکس ہونے کا مشاہدہ کر کے سائنسدان یہ پتہ لگا سکتے ہیں کہ درحقیقت کیا چیز اس روشنی کو منعکس کر رہی ہے۔ مختلف مادے مختلف رنگوں کی صورت میں نظر آتے ہیں اور اس کیس میں سائنسدانوں کو بالکل وہی رنگ ملے جو پانی کے مالیکیولز کی پہچان ہیں۔سائنسدانوں کا خیال ہے کہ یہ سطح پر موجود ذرات کے اندر پھنسا ہوا ہے جس کی وجہ سے یہ سخت ماحول کے باوجود اب بھی موجود ہے۔ایک دوسری تحقیق میں سائنسدانوں نے دائمی طور پر اندھیرے میں موجود علاقوں کا مشاہدہ کیا جنھیں کولڈ ٹریپ کہا جاتا ہے۔ کولڈ ٹریپس میں ہو سکتا ہے کہ پانی پھنس جائے اور ہمیشہ کے لیے موجود رہے۔سائنسدانوں کو یہ کولڈ ٹریپس چاند کے دونوں قطبوں پر ملے اور انھوں نے نتیجہ اخذ کیا کہ ʼچاند کی سطح کا تقریباً 40 ہزار مربع میٹر علاقہ پانی کو پھانسنے کی صلاحیت رکھتا ہے۔

اہم خبریں سے مزید