آپ آف لائن ہیں
جمعہ11؍ربیع الثانی 1442ھ 27؍نومبر2020ء
  • بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیئرمین و ایگزیکٹوایڈیٹر: میر جاوید رحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن
Jang Group

میڈیکل یونیورسٹی میں ترامیم کیخلاف احتجاجی تحریک چلائی جائے گی،طلباءتنظیمیں

کوئٹہ(پ ر) پشتون سٹوڈنٹس فیڈریشن اور پشتونخوا سٹوڈنٹس آرگنائزیشن کا مشترکہ اجلاس پشتون ایس ایف کے صوبائی چیئرمین عالمگیر مندوخیل کی زیر صدارت پشتونخوا ملی عوامی پارٹی کے مرکزی سکرٹریٹ میں ہوا، اجلاس میں پشتونخوا ایس او کے زونل سیکرٹری کبیر افغان، پشتون سٹوڈنٹس فیڈریشن کے صوبائی ڈپٹی چیئرمین مزمل خان کاکڑ، ممبر معصوم خان میرزئی، محسن خان، نقیب کاکڑ، حسن خان کاکڑ، ڈاکٹر مزمل خان پانیزئی، لطیف خان کاکڑ، عبید اللہ کاکڑ، شیر اسلام، یار محمد بریال و دیگر شریک تھے، اجلاس کا ایجنڈا بولان یونیورسٹی آف میڈیکل اینڈ ہیلتھ سائنسز کے ایکٹ میں غیر قانونی، تعلیم اور طلباء دشمن ترامیم تھا جس میں ایکٹ میں ترامیم کو مکمل طور پر مسترد کیا گیا، اجلاس میں متفقہ لائحہ عمل طے کیا گیا کہ غیر قانونی ترامیم کے خلاف طلباء تنظیموں، سیاسی پارٹیوں، سول سوسائٹی سمیت معاشرے کے تمام طبقات اور سٹیک ہولڈرز کی تائید و حمایت سے منظم احتجاجی تحریک چلائی جائے گی، اور تعلیم دشمن حکمرانوں کا سیاہ چہرہ عوام پر آشکار کیا جائے گا، اجلاس میں بولان میڈیکل یونیورسٹی ایکٹ کے حوالے سے موقف اپناتے ہوئے کہا گیا کہ بلوچستان کی واحد میڈیکل یونیورسٹی کو متنازع بنانے سے گریز کیا جائے، اور کہا گیا کہ صوبے کے بلوچ و پشتون محکوم باسی اقوام

کے حقوق کی تحفظ پر یقین رکھتے ہیں، ایسے پراجیکٹ جس سے دونوں برادر اقوام کے مشترکہ مفادات منسلک ہوں کو متنازع بنانے سے ماضی میں بھی بہت سے نقصانات اٹھانے پڑے ہیں جس کی واضح مثالیں آج بھی موجود ہیں، میڈیکل یونیورسٹی نہ ہی صرف پی ایم سی اور ایچ ای سی کے اصولوں کے مطابق صوبے کیلئے لازم ہے بلکہ یونیورسٹی سے منسلک ڈاکٹرز، نرسنگ، فارمیسی، فزیوتھراپی و دیگر پیرا میڈیکل شعبہ جات کی فعالیت صوبے کو ہیلتھ کے حوالے سے درپیش مسائل کو حل کرنے میں بنیادی کردار ادا کرسکتے ہیں، لہٰذا بولان میڈیکل یونیورسٹی کا صوبے کی مرکز میں قائم رہنا نہ ہی صرف ایک اصولی قدم ہوگا بلکہ پشتون و بلوچ طالبعلموں کیلئے یکساں قابل رساں ہوگا، اس حوالے سے بولان میڈیکل یونیورسٹی اور صوبے کے طلباء کے مستقبل کے فیصلے لینے سے پہلے تمام سٹیک ہولڈرز اور بلوچ و پشتون اقوام کو اعتماد میں لیا جانا چاہیے تھا مگر حقائق کے برعکس ایکٹ کے تقاضوں اور اصولوں کو پورا کئے بغیر راتوں رات عجلت میں ترمیم کے نام پر ایکٹ کو سرے سے رد کردیا گیا ہے جو ادارے کا وجود مِٹانے کے مترادف ہے۔ اجلاس میں طلباء تنظیموں اور سیاسی پارٹیوں سے اپیل کی گئی کہ اس مسئلے کے بنیادی محرکات کو سمجھ کر بات چیت کیلئے راہ ہموار کریں اور صوبے کا مستقبل داؤ پر لگائے جانے سے بچائیں۔

کوئٹہ سے مزید