آپ آف لائن ہیں
اتوار13؍ ربیع الثانی1442ھ 29؍ نومبر2020ء
  • بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیئرمین و ایگزیکٹوایڈیٹر: میر جاوید رحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن
Jang Group

ابھی نندن پاکستان مٹھائی بانٹنے نہیں، حملہ کرنے آیا تھا: ایاز صادق


رکن قومی اسمبلی اور سابق اسپیکر قومی اسمبلی ایاز صادق کا کہنا ہے کہ بھارتی میڈیا نے میرے الفاظ کو تبدیل کرکے اس سے کھیلنے کی کوشش کی، ایک چیز واضح ہے کہ ابھی نندن پاکستان مٹھائی بانٹنے نہیں آیا تھا بلکہ اس نے پاکستان پر حملہ کیا تھا۔

ایاز صادق نے اپنے ویڈیو بیان میں کہا ہے کہ ابھی نندن کے جہاز کو گرانا پاکستان کی فتح تھی۔

انہوں نے کہا کہ وزیراعظم نے پارلیمانی رہنماؤں کی ابھی نندن سے متعلق میٹنگ بلائی جو تاخیر کا شکار ہوئی، وزیراعظم کی کیا سوچ تھی وہ کس سے اور کس ملک سے ڈکٹیشن لے رہے تھے؟

انہوں نے سوال کیا کہ کیا وزیر اعظم مودی سے براہ راست رابطے میں تھے، کیا ان پر کوئی ایسا دباو تھا جوہم سے شیئر کرنا مناسب نہیں سمجھا؟

ایاز صادق نے بتایا کہ وزیراعظم نے وزیر خارجہ کے توسط سے کہلوایا کہ ابھی نندن کو فوری رہا کرنا ہے۔

انہوں نے کہا کہ وزیراعظم کا ابھی نندن کی رہائی کا فیصلہ سراسر غلط تھا، اس فیصلے کی کیا منطق تھی یہ اُن کے سوا پاکستان میں کوئی نہیں جانتا۔

خیال رہے کہ بدھ کے روز قومی اسمبلی کے اجلاس میں معمول کی گرما گرمی دیکھنے میں آئی اور حکومت و اپوزیشن نے ایک دوسرے پر الزامات عائد کیے۔

اس دوران مراد سعید نے مسلم لیگ (ن) پر تنقید کرتے ہوئے انہیں بھارتی مبینہ جاسوس کلبھوشن کا ساتھی قرار دیا۔

اس معاملہ پر ایاز صادق نے ایوان میں بات کرتے ہوئے کہا کہ کلبھوشن  کے لیے آرڈیننس ہم نہیں لائے بلکہ موجودہ حکومت لائی ہے۔

ابھی نندن کے معاملے پر ایاز صادق نے کہا کہ 27 فروری کے واقعہ کے بعد ایک اجلاس منعقد ہوا جس میں پارلیمانی رہنما شریک تھے۔ اس اہم اجلاس میں وزیراعظم عمران خان نہیں آئے، لیکن آرمی چیف اس اجلاس میں شریک تھے۔

ایاز صادق نے کہا کہ اس اجلاس میں وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی موجود تھے۔ ’ان کے پیر کانپ رہے تھے اور ماتھے پر پسینہ تھا۔ شاہ محمود قریشی نے کہا کہ خدا کا واسطہ ہے ابھی نندن کو جانے دیں کیونکہ بھارت رات نو بجے حملہ کر دے گا۔‘

ایاز صادق نے مزید کہا کہ ’بھارت نے کوئی حملہ نہیں کرنا تھا۔ کچھ نہیں ہونا تھا۔ صرف گھٹنے ٹیک کر ابھی نندن کو واپس بھیجنا تھا جو انہوں نے کیا۔ یہ ایسی باتیں نہ کیا کریں جن کی وجہ سے ہم بھی یہ باتیں بتانے پر مجبور ہو جائیں۔ کچھ ایسی بات کیا کریں جس سے اس ایوان میں قانون سازی ہو سکے۔‘

27 فروری 2019 کا واقعہ کیا ہے؟

27 فروری 2019 کو پاکستانی فوج کے بیان کے مطابق پاکستانی فضائیہ نے پاکستان کی فضائی حدود کی خلاف ورزی کرنے والے بھارتی فورسز کے 2 لڑاکا طیاروں کو مار گرایا تھا تاہم بھارت صرف ایک جہاز گرنے کی تصدیق کرتا ہے۔

اس روز کے واقعات پر پاکستانی فوج کے ترجمان نے بتایا تھا کہ فضائی حدود کی خلاف ورزی پر دونوں طیاروں کو مار گرایا، جس میں سے ایک کا ملبہ پاکستان کے زیر انتظام کشمیر جب کہ دوسرے کا ملبہ بھارت کے زیر انتظام کشمیر میں گرا تھا۔

ترجمان نے کہا تھا کہ بھارتی طیاروں کو مار گرانے کے ساتھ ساتھ ایک بھارتی پائلٹ ونگ کمانڈر ابھی نندن کو بھی گرفتار کیا گیا۔

تاہم یکم مارچ کو گرفتار کیے گئے بھارتی پائلٹ ابھی نندن کو تمام کاغذی کارروائی کے بعد واہگہ بارڈر پر بھارتی حکام کے حوالے کر دیا گیا تھا۔ ابھی نندن کی رہائی سے متعلق وزیراعظم عمران خان نے قومی اسمبلی میں خطاب کے دوران اعلان کیا تھا۔

قومی خبریں سے مزید