آپ آف لائن ہیں
اتوار3؍جمادی الثانی 1442ھ 17؍جنوری2021ء
  • بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیئرمین و ایگزیکٹوایڈیٹر: میر جاوید رحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن
Jang Group

جلسے کی تیاریاں: یوسف رضا گیلانی پریس کانفرنس چھوڑ کر کیوں چلے گئے!

وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی ملتان میں پریس کانفرنس کرتے ہوئے اپوزیشن سے یہ اپیل کررہے تھے کہ وہ کوروناکی وجہ سے اپنے جلسوں کے شیڈول پر نظرثانی کرے ،لیکن اس سے صرف ایک دن پہلے ملتان میں 30 نومبر کے جلسہ کے لئے مسلم لیگ ن کی صوبائی قیادت ملتان آئی ہوئی تھی اور ایک بڑا تنظیمی اجلاس اس حوالے سے منعقد کیا گیا ،جس سے مسلم لیگ ن کے صوبائی صدر رانا ثناءاللہ نے خطاب کرتے ہوئے ایک بار پھر یہ دعویٰ کیا کہ ملتان کا جلسہ حکومت کے تابوت میں آخری کیل ثابت ہوگا۔

دلچسپ بات یہ ہے کہ اس اجلاس کے بعد مسلم لیگ ن کے سینئر رہنما جن میں مخدوم جاوید ہاشمی ،رانا ثناءاللہ ، عظمیٰ بخاری ،عطاء تارڑسمیت دیگر سابق وزیر اعظم سید یوسف رضا گیلانی کے گھر گئے ،یاد رہے کہ وہ پی ڈی ایم کے اس جلسہ کے لئے نگران کمیٹی کے سربراہ ہیں ،ان سے رہنماؤں کی ملاقات ہوئی ،لیکن جب پریس کانفرنس کی باری آئی ،تو سید یوسف رضا گیلانی وہاں سے اٹھ گئے اور پریس کانفرنس ن لیگ کے رانا ثناءاللہ اور پیپلزپارٹی جنوبی پنجاب کے صدر مخدوم احمد محمود نے دیگر رہنماؤں کے ساتھ کی ،اس بات کو وہاں موجود مسلم لیگی رہنماؤں نے خاصا محسوس کیا، کیونکہ وہ سید یوسف رضا گیلانی کے گھر بیٹھے تھے اور اخلاقاً بھی ان کا فرض تھا کہ وہ پریس کانفرنس میں ان کے ساتھ بیٹھتے ،اس سے اندازہ لگایا جاسکتا ہے کہ دونوں بڑی سیاسی جماعتیں دل سے ایک دوسرے کو قبول نہیں کرپائیں ، مجبوراً حکومت کی مخالفت میں ایک جگہ بیٹھی ہیں ،لیکن بوقت ضرورت دونوں ایک دوسرے کو نیچا دکھانے کا کوئی موقع ہاتھ سے نہیں جانے دیتیں۔

اس کے باوجود مسلم لیگ ن اور پیپلزپارٹی کی رہنماؤں کو پوری امید ہے کہ 30 نومبر کا جلسہ ملتان انہتائی کامیاب ثابت ہوگا اور جو توقعات وابستہ کی گئی ہیں ان پر پورا اترے گا ،لیکن یہ بات بھی شدت سے محسوس کی گئی کہ کہنے کو پی ڈی ایم کا اتحاد 11جماعتوں پر مشتمل ہے ،مگر درحقیقت صرف دو سیاسی جماعتیں ہی منظر عام پر آرہی ہیں ،حتی کہ ملتان میں ہونے والے اجلاس میں جمعیت علمائے اسلام کی بھی کوئی نمائندگی نہیں تھی جبکہ ملتان کو اس کا ایک بڑا گڑھ سمجھا جاتا ہے ،کیونکہ یہاں مدرسہ قاسم العلوم موجود ہے ،جو جمعیت علمائے اسلام کے حامیوں کی ایک بڑی درس گاہ سمجھی جاتی ہے۔

اس سے اندازہ ہوتا ہے کہ آنکھ مچولی کا عمل باوجود اتحاد کے جاری ہے اور اتحاد میں شامل ساری سیاسی جماعتیں مختلف تحفظات میں مبتلا ہیں، کورونا کے بڑھتے ہوئے کیسز خاص طور پر ملتان میں ان کیسوں کی شرح کا خطرناک حد تک بڑھ جانا ،اس امر کا متقاضی ہے کہ احتیاطی تدابیر کو زیادہ شدت سے اپنایا جائے ،مگر30 نومبر کو جلسہ ان ساری احتیاطی تدابیر کو اپنے ساتھ بہا لے جاسکتا ہے ،کیونکہ یہ جلسہ شہر کے عین بیچوں بیچ منعقد ہورہا ہے اور اس میں گردونواح سے ہزاروں افراد کی شمولیت متوقع ہے۔

اگر احتیاطی تدابیر اختیارنہ کی گئیں اور ایس او پیز کا خیال نہ رکھا گیا ،تو خطرناک نتائج بھی نکل سکتے ہیں ،تاہم اس وقت اپوزیشن اس حوالے سے کوئی بھی بات سننے کو تیار نظر نہیں آتی اور اس کے سر پر حکومت کو گھر بھیجنے کا خبط سوار ہے ،حکومت جاتی ہے کہ نہیں جاتی ،اس کا فیصلہ تو بعد میں ہوگا ،لیکن اپوزیشن کے اس خبط کے نتیجہ میں کورونا کی صورتحال کیا رخ اختیار کرتی ہے ،اس بارے میں تشویش بڑھتی جارہی ہے۔اسی دوران یہ واقعہ بھی پیش آیا کہ مسلم لیگ ن کے سابق رکن قومی اسمبلی عبدالغفار ڈوگرکو اینٹی کرپشن نے ڈپٹی کمشنر کے ریفرنس پر ایک پرانے مقدمہ میں گرفتار کرلیا ،اس گرفتاری سے یہ تاثر ابھرا کہ حکومت ملتان کے جلسہ کو ناکام بنانے کے لئے ایسے ہتھکنڈے استعمال کررہی ہے۔ 

اس پر مخدوم جاوید ہاشمی اور دیگر لیگی عہدے داروں و کارکنوں کی جانب سے شدیدردعمل بھی سامنے آیا اور احتجاجی مظاہرے بھی کئے گئے ، البتہ گلگت بلتستان کے نتائج کی وجہ سے پی ڈی ایم کی تحریک کا ایک دھچکا ضرور لگا ہے ،اگر وہاں سے پیپلزپارٹی اور ن لیگ کلین سویپ کرجاتیں ،تو شاید یہ تاثر پیدا ہوتا کہ تحریک انصاف ملک بھر میں غیر مقبول ہوچکی ہے ، اب چونکہ ایسا نہیں ہوا ،اور مریم نواز جس طرح کہہ رہی تھیں کہ گلگت بلتستان کے انتخاب ،پاکستان کے انتخابات ہیں۔

ان سے پاکستان میں جمہوریت کا فیصلہ ہوگا ، وہ بات اب باقی نہیں رہی ،تاہم اب اس کا مطلب یہ بھی نہیں ہے کہ ان انتخابات کے نتائج کو دیکھ کر اپوزیشن اپنی تحریک ختم کردے ،وہ اپنا دباؤ برقرار رکھے گیاور ملتان کے بعد لاہور کا جلسہ بھی ایک بڑٰ قوت کے ساتھ منعقد کیا جائے گا ، ملتان میں وزیراعلیٰ عثمان بزدار اچانک دورے پر آئے اور انہوں نے ناقص کارکردگی پر دو بڑے اداروں کے سربراہوں کو معطل کردیا ،یہ پہلا موقع ہے کہ وزیراعلیٰ عثمان بزدار نے ایسا کوئی ایکشن لیا ہے، ویسے وہ اب ملتان میں واقع اپنے گھر اکثر آتے رہتے ہیں ،لیکن اس بار انہوں نے بغیر کسی پروٹوکول کے شہرکا دورہ کیا۔

وہ جنوبی پنجاب کی سب سے بڑی علاج گاہ نشتر بھی گئے ،صفائی کی ناقص صورتحال پر انہوں نے سالڈویسٹ منیجمنٹ کے ایم ڈی اور نشتر ہسپتال میں مریضوں کو مناسب سہولیات نہ دینے پر ایم ایس نشتر کو معطل کردیا اور یہ عندیہ بھی دیا کہ وہ دوسرے شہروں میں بھی اسی طرح کے اچانک چھاپے ماریں گے اور کام نہ کرنے والے افسران کو گھر بھیج دیا جائے گا ،ملتان میں یہ بات واضح طور پر محسوس کی جاتی ہے کہ یہاں گورنیس کی صورتحال غیر تسلی بخش ہے ،خود پی ٹی آئی کے رہنما یہ الزام لگا چکے ہیں کرپشن اور بدانتظامی کے حوالے سے ملتان پورے پنجاب میں سب سے آگے جارہا ہے ،کیا اس صورتحال کا تدارک وزیراعلیٰ کے ایک دو چھاپوں سے ہوسکتا ہے ؟

تجزیے اور تبصرے سے مزید
سیاست سے مزید