آپ آف لائن ہیں
منگل15ربیع الثانی 1442ھ یکم دسمبر 2020ء
  • بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیئرمین و ایگزیکٹوایڈیٹر: میر جاوید رحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن
Jang Group

کشمور واقعہ اور آرزو کیس میں سندھ پولیس کا کردار شاندار رہا، مرتضیٰ وہاب

سندھ حکومت کے ترجمان، مشیر قانون، ماحولیات و ساحلی ترقی بیرسٹر مرتضیٰ وہاب نے کہا ہے کہ کشمور واقعہ اور 13 سالہ بچی آرزو کے کیس میں سندھ پولیس کا کردار شاندار رہا ہے، معاشرے سے صنفی امتیاز سے متعلق رجحانات کے خاتمے کے لئے سب کو ملکر کام کرنا ہوگا۔

ان خیالات کا اظہار انہوں نے مقامی ہوٹل میں منعقدہ تقریب سے بحیثیت مہمان خصوصی خطاب کرتے ہوئے کیا۔ میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے انہوں نے مزید کہا کہ ہمیں صنفی امتیاز پر مبنی تشدد کی نوعیت کے مسائل اور تشدد کے رجحانات کو سمجھنے کی ضرورت ہے۔

صنفی تشدد کے رجحانات کے خاتمے کے لئے صرف حکومت نہیں تمام اسٹیک ہولڈرز کو اپنا اپنا کردار ادا کرنا ہوگا۔ سول سوسائٹی، حکومت، مقننہ اور عدلیہ سب ملکر کوشش کریں تو اس معاشرتی بُرائی پر قابو پایا جاسکتا ہے۔ پالیسی سازی کے حوالے سے سندھ حکومت ہمیشہ سول سوسائٹی کے ساتھ ہے، کشمور واقعے میں سندھ پولیس نے مثال قائم کیا۔

انھوں نے کہا کہ آرزو کے معاملے پر پولیس کا کردار شاندار رہا عدالتوں کو بھی اپنا کام بخوبی سرانجام دینا چاہیے۔ ایک جینڈر بیس کیس کو مکمل ہونے میں 17 ماہ لگتے ہیں، جو کہ تین مہینے میں فیصلہ ہونا چاہیے۔ سندھ حکومت نے اس حوالے سے قانون پاس کیا مگر افسوس ابھی تک ایک بھی کیس ریفر نہیں کیا گیا۔ 


مرتضیٰ وہاب نے کہا کہ شکر ہے اب معاشرے میں اس سے متعلق آگاہی پیدا ہوئی ہے، آگاہی کی وجہ سے معاشرہ اپنے حقوق کے لئے آواز بلند کررہا ہے۔ سندھ حکومت نے صنفی تشدد سمیت معاشرتی برائیوں سے متعلق کافی قانون سازی کی ہے۔ لیکن قانون سازی کو موثر بنانے کے لئے اس پر عملدرآمد ضروری ہے۔ عدلیہ کا بہت اہم رول ہے اگر مجھے پتہ ہو کہ غلط کام پر مجھے سزا ملے گی تو میں کبھی غلط کام نہیں کرونگا۔ 

انہوں نے کہا کہ قانون کی حکمرانی سے مسائل حل ہوسکتے ہیں اگر عدالتوں میں دس دس برس مقدمات چلنے کے بعد ملزمان باعزت بری ہوجائیں گے تو بجائے حوصلہ شکنی کے ان کی حوصلہ افزائی ہوگی۔ آرزو کا کیس ہمارے سامنے ہے۔

بیرسٹر مرتضیٰ وہاب کا کہنا تھا کہ سندھ اسمبلی اٹھارہ سال سے کم عمری کا قانون منظور کرچکی ہے، ریاست نے اپنی ذمہ داری نبھاتے ہوئے ملزم کے خلاف مقدمہ درج کیا۔ لیکن عدلیہ نے پہلے ملزم کی گرفتاری سے منع کیا اور انہیں تحفظ فراہم کرنے کا حکم دیا۔

انھوں نے کہا کہ آرزو کا پورا کیس پڑھنے کے بعد ہم نے عدلیہ کو دوبارہ درخواست کی سندھ حکومت کی درخواست پر عدلیہ نے آرزو کو بازیاب کرنے کا حکم دیا۔ ہمیں صرف ایک آرزو یا زینب کے لئے نہیں بلکہ سب کے بارے میں سوچنا ہوگا۔ قانون پر عملدرآمد نہ ہونے سے نجانے کتنی آرزوؤں کے والدین کی آرزو دفن ہوجاتی ہیں۔ بہتر معاشرے کی تشکیل کے لئے قانون کی حکمرانی پر عمل کرنا ہوگا۔ 

بیرسٹر مرتضٰی وہاب نے کہا کہ سندھ حکومت اس حوالے سے مزید قانون سازی کریگی۔ پیپلزپارٹی کی اعلیٰ قیادت انصاف و قانون کی حکمرانی پر یقین رکھتی ہے۔ ہماری قیادت کی واضح ہدایت ہے کہ قانون کی حکمرانی قائم کرنا ہے۔

قومی خبریں سے مزید