آپ آف لائن ہیں
اتوار13؍ ربیع الثانی1442ھ 29؍ نومبر2020ء
  • بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیئرمین و ایگزیکٹوایڈیٹر: میر جاوید رحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن
Jang Group

PDM کو جلسے سے روکنے کیلئے اسپیکر سے اجلاس کی گزارش کی ہے، اسد عمر


کراچی (ٹی وی رپورٹ)این سی او سی کے سربراہ وفاقی وزیر منصوبہ بندی اسد عمر نے کہا ہے کہ پی ڈی ایم کو پشاور میں جلسے سے روکنے کے لیے اسپیکر قومی اسمبلی سے فوری اجلاس بلانے کی گزارش کی ہے جبکہ ترجمان پی ڈی ایم میاں افتخار حسین نے کہا کہ ہم اسپیکر کے اجلاس میں نہیں جائیں گے اگر کسی نے ہم سے بات کرنی ہے تو وہ ہمارے پاس آئے۔ 

اسد عمر نے کہا کہ اسپیکر قومی اسمبلی سے پارلیمانی کمیٹی برائے کورونا کا اجلاس بلانے کی درخواست کی ہے،قوم کی صحت اور روزگار کا معاملہ ہے سیاسی لیڈر ساتھ بیٹھ کر کوئی راستہ نکالیں،پانچ ہفتوں میں کورونا کیسوں کی تعداد اور اموات میں چارگنا اضافہ ہوا، موجودہ صورتحال میں قومی سیاسی قیادت بڑے جلسے نہ کرے۔

ہزاروں لوگ ایک جگہ جمع ہوں گے تو کورونا پھیلنے کا براہ راست خدشہ ہے، این سی سی میں دیگر فیصلوں پر اتفاق ہے جلسے جلوسوں سے متعلق اتفاق رائے نہیں ہوپارہا ،اسکول بند کرنے کی ابھی کوئی تاریخ نہیں دی ہے۔

تجویز ہے کہ موسم سرما کی تعطیلات میں اضافہ اور گرمیوں کی چھٹیوں میں کمی کی جائے۔ 

وہ جیوکے پروگرام ”کیپٹل ٹاک“ میں میزبان حامد میر سے گفتگو کررہے تھے۔

میاں افتخار حسین نے کہا کہ حکومت پی ڈی ایم کی تحریک کو ناکام بنانے کیلئے کورونا کا سہارا لے رہی ہے، ہم اسپیکر کے اجلاس میں نہیں جائیں گے، کسی کو بات کرنی ہے تو وہ ہمارے پاس آئے، پی ڈی ایم کے جلسوں میں لوگوں میں ماسک تقسیم کریں گے۔

حکومت بھی جلسوں پر پابندی لگانے کے بجائے اپنی ذمہ داری پوری کرے اور سینی ٹائزر اور ماسک فراہم کرے۔این سی او سی کے سربراہ وفاقی وزیر منصوبہ بندی اسد عمر نے کہا کہ این سی او سی نے 10اکتوبر کے اجلاس میں کورونا کی دوسری لہر کے پیش نظر غیرمعاشی سرگرمیوں پر قدغن لگانے کی تجاویز دیں۔

12اکتوبر کو این سی سی کی میٹنگ میں آزاد کشمیرا ور سندھ نے قدغن کی تجاویز کی حمایت نہیں کی، 12نومبر کو این سی او سی کے اجلاس میں قدغن لگانے کا حتمی فیصلہ کرلیا گیا، پچھلے چار پانچ ہفتوں میں کورونا کیسوں کی تعداد اور اموات میں چارگنا اضافہ ہوا۔

اس صورتحال میں بہتر فیصلے نہ کیے گئے اور قومی قیادت نے ایک پیغام نہ بھیجا تو بڑے نقصان کا خطرہ ہے۔ اسد عمر کا کہنا تھا کہ موجودہ صورتحال میں قومی سیاسی قیادت بڑے جلسے نہ کرے، ہزاروں لوگ ایک جگہ جمع ہوں گے تو کورونا پھیلنے کا براہ راست خدشہ ہے۔

قومی قیادت ہزاروں کا مجمع اکٹھا کرے گی تو کیسے عام آدمی کو احتیاطی تدابیر پر عمل کرنے پر آمادہ کریں گے، ہائیکورٹ نے بھی واضح فیصلہ دیا ہے کہ این سی سی کے فیصلے حتمی ہیں۔ 

اسد عمر نے کہا کہ این سی سی میں دیگر فیصلوں پر اتفاق ہے جلسے جلوسوں سے متعلق اتفاق رائے نہیں ہوپارہا ،وزیرصحت سندھ عذرا پیچوہونے صحت کے نکتہ نظر سے قدغنوں پر اتفاق کیا لیکن فیصلہ سیاسی سطح پر کرنے کا موقف اختیار کیا۔

وزیراعظم آزاد کشمیر نے بھی اس سے اتفاق کیا لیکن اس پر سیاسی قیادت کے ساتھ فیصلہ کرنے پر زور دیا۔ 

اسد عمر کا کہنا تھا کہ سیاستدانوں کے پاس اپنی بات عوام تک پہنچانے کیلئے بہت سے طریقہ کار موجود ہیں، اسپیکر قومی اسمبلی سے پارلیمانی کمیٹی برائے کورونا اجلاس بلانے کی درخواست کی ہے،سیاسی قیادت نے اہم فیصلے نہ کیے تو نقصان کا اندیشہ ہے۔

سیاست چلتی رہے گی امید ہے لوگوں کی جان و مال کے تحفظ کیلئے ہم کوئی راہ نکال لیں گے،قوم کی صحت اور روزگار کا معاملہ ہے سیاسی لیڈر ساتھ بیٹھ کر کوئی راستہ نکالیں۔ 

اسد عمر نے کہا کہ اسکول بند کرنے کی ابھی کوئی تاریخ نہیں دی ہے، این سی او سی کی تجویز ہے کہ موسم سرما کی تعطیلات میں اضافہ اور گرمیوں کی چھٹیوں میں کمی کی جائے،پاکستان میں کورونا پر کنٹرول میں حکومت کی مربوط حکمت عملی اور میڈیا کا اہم کردار رہا۔

 لوگوں نے تمام کاروبارِ زندگی میں بڑی حد تک احتیاطی تدابیر اختیار کیں، قومی قیادت کا کورونا کے مسئلہ پر ایک صفحہ پر ہونا بہت ضروری ہے۔ 

کورونا ویکسین سے متعلق سوال پر اسد عمر کا کہنا تھا کہ کورونا ویکسین کے حصول کیلئے بڑی کمپنیوں سے رابطے میں ہیں، ویکسین بنتےہی دستیاب ہوگی پاکستان اس میں اپنا حصہ بروقت لینے کیلئے اقدامات کرے گا۔

چین کی ایک کمپنی کے ساتھ کورونا ویکسین کے ٹرائل میں پاکستان نے براہ راست حصہ بھی لیا ہے۔ 

اسد عمر کا کہنا تھا کہ بلاول درست پیشگوئی کررہے ہیں جنوری 2024ء میں پی ٹی آئی حکومت کی مدت ختم ہوچکی ہے۔

اہم خبریں سے مزید