آپ آف لائن ہیں
ہفتہ2؍جمادی الثانی 1442ھ 16؍جنوری 2021ء
  • بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیئرمین و ایگزیکٹوایڈیٹر: میر جاوید رحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن
Jang Group

بھارت میں ’لوجہاد‘ کا شوشے پر قانون سازی کا منصوبہ

نئی دہلی (جنگ نیوز)بھارت کی پانچ ریاستوں میں ہندو قوم پرست جماعت بھارتیہ جنتا پارٹی کی قیادت والی حکومتوں نے اعلان کیا ہے کہ وہ مبینہ ’لوجہاد‘ کے خلاف جلد از جلد سخت قانون لانے کا منصوبہ بنا رہی ہیں۔گزشتہ چند ہفتوں کے دوران مدھیا پردیش، ہریانہ، کرناٹک، اترپردیش اور آسام نے مبینہ ʼلوجہاد‘ کے خلاف قانون سازی کا اعلان کیا ہے۔ ان پانچوں ریاستوں میں بی جے پی کی حکومت ہے۔بھارت میں گوکہ ہندو قوم پرست جماعت بھارتیہ جنتا پارٹی کی قیادت والی کم از کم پانچ ریاستی حکومتوں نے مبینہ ʼلوجہاد‘ کے خلاف قانون سازی کا اعلان کیا ہے تاہم مرکز کی مودی حکومت، قومی خواتین کمیشن، عدالتیں اور متعدد پولیس تفتیش آج تک اس دعوے کی تصدیق میں کوئی ثبوت پیش نہیں کرسکی ہیں کہ مسلمان مرد ʼلوجہاد‘ کر رہے ہیں اور نہ ہی حکومت ʼلوجہاد‘ کے حوالے سے کوئی اعدادوشمار یا اس کی واضح تعریف پیش کرسکی ہے۔لوجہاد‘ بھارت میں ہندو شدت پسند تنظیموں کی جانب سے ایک ایسا شوشہ ہے جس کی آڑ میں اب تک درجنوں افراد ہلاک کیے جا چکے ہیں اور ان کے خاندان

والوں کی زندگی اجیرن کر دی گئی ہے۔ ہندو شدت پسندوں کا الزام ہے کہ مسلمان مرد اپنی محبت کے دام میں غیر مسلم خواتین کو پھنسا کر ان کا مذہب تبدیل کراتے ہیں جو دراصل ʼلوجہاد‘ ہے۔ہندو شدت پسند تنظیمیں مبینہ لوجہاد کے خلاف ہمیشہ ہنگامے کرتی رہی ہیں اور بی جے پی حکومت کے اقتدار میں آنے کے بعد ان کی سرگرمیوں میں خاصا اضافہ ہوگیا ہے۔ انہوں نے مرکزی اور ریاستی حکومتوں پر اس کے خلاف قانون سازی کے لیے اپنا دباؤ تیز کردیا ہے۔

دنیا بھر سے سے مزید