آپ آف لائن ہیں
جمعرات17؍ربیع الثانی 1442ھ3؍دسمبر 2020ء
  • بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیئرمین و ایگزیکٹوایڈیٹر: میر جاوید رحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن
Jang Group

ایک طرف پاکستان میں سردی کی وجہ سے کورونا کی دوسری لہر میں شدت آ رہی ہے اور دوسری طرف اپوزیشن کی سیاسی جماعتوں کے اتحاد پاکستان ڈیمو کریٹک موومنٹ (پی ڈی ایم) کی سیاسی سرگرمیوں میں اضافے کے باعث ملک کا سیاسی ماحول مزیدگرم ہوتا جا رہا ہے۔ کورونا کی دوسری لہر کیا اپوزیشن کی تحریک کو دوسرے مرحلے تک جانے سے روک سکے گی؟ اس سوال کا جو بھی جواب ہو، اسی کی بنیاد پر ملک کا نیا سیاسی منظر نامہ تشکیل پائے گا۔

پاکستان تحریک انصاف کی حکومت کو یہ جواز میسر آگیا ہے کہ وہ کورونا کی دوسری لہر میں شدت آنے کے بعد پی ڈی ایم کے جلسوں اور دیگر سرگرمیوں کو روکنے کے لیے انتظامی اقدامات کرے۔ کورونا کی صورت حال کو مانیٹر کرنے اور کورونا سے بچاؤ کے اقدامات تجویز کرنے والے ادارے نیشنل کمانڈ اینڈ آپریشن سینٹر (این سی او سی) نے گزشتہ دنوں کیے گئے فیصلوں کی تفصیلات جاری کر دی ہیں، جن کے مطابق 300سے زیادہ افراد کے تمام آؤٹ ڈور اجتماعات پر پابندی ہوگی۔ ایس او پیز پر عمل درآمد کی ذمہ داری اجتماعات کےمنتظمین پر ہوگی۔ کورونا کی وجہ سے موت یا کورونا پھیلنے پر منتظمین کے خلاف کارروائی ہوگی۔ این سی او سی میں چاروں صوبوں کی نمائندگی ہے اور تمام صوبائی حکومتیں اس کے فیصلوں پر عمل درآمد کرتی رہی ہیں۔ یہ اور بات ہے کہ صوبائی حکومتیں اپنے حالات کے مطابق ان فیصلوں پر عمل درآمد کی مجاز ہیں۔ اسلام آباد ہائی کورٹ نے بھی این سی او سی کے تمام فیصلوں کی توثیق کر دی ہے تاہم عدالت نے دانش مندی کا مظاہرہ کرتے ہوئے حکومت کو کسی قسم کا حکم نہیں دیا کہ وہ ان فیصلوں پر عمل درآمد کرائے۔ اسلام آباد ہائی کورٹ کے چیف جسٹس اطہر من اللہ نے کہا کہ عدالت قومی سطح کے فیصلوں میں مداخلت نہیں کر سکتی۔ یہ حکومت کی ذمہ داری ہے کہ وہ فیصلوں پر عمل درآمد کرواکے بڑے اجتماعات کو روکے۔ پی ڈی ایم نے جلسوں پر پابندی کو مسترد کر دیا ہے اور جلسے شیڈول کے مطابق کرانے کا اعلان کیا ہے۔

پاکستان پیپلز پارٹی کے چیئرمین بلاول بھٹو زرداری اور سندھ حکومت ہمیشہ اس بات پر اصرار کرتے رہے کہ کورونا کو قابو کرنے کیلئے سخت لاک ڈاؤن اور زیادہ پابندیاں ہونا چاہئیں لیکن اس وقت بلاول بھٹو زرداری نہ صرف بڑے بڑے اجتماعات سے خطاب کر رہے ہیں بلکہ وہ پی ڈی ایم کی تحریک کو پوری شدت کے ساتھ آگے بڑھانے کی بات بھی کر رہے ہیں۔ پی ڈی ایم میں شامل دیگر سیاسی جماعتوں خصوصاً پاکستان مسلم لیگ (ن) اور جمعیت علمائے اسلام (جے یو آئی) کی قیادت بھی اسی موقف کی حامی ہیں۔یہ بات واضح ہو گئی ہے کہ اپوزیشن جلسے جلوسوں پر حکومتی پابندی کو تسلیم نہیں کرے گی۔ اس کے متعدد اسباب ہیں۔ پہلا سبب تو یہ ہے کہ پی ڈی ایم نے قبل ازیں گوجرانوالہ ،کراچی اور کوئٹہ میں بڑے جلسہ ہائےعام کا انعقاد کرکے اور اپنی سیاسی طاقت کا بھرپور مظاہرہ کرکے اپنی سیاسی سرگرمیوں کا جو معیارِ اثر (Momentum) بنایا ہے، وہ اسے کم یا ختم نہیں کرنا چاہے گی۔ اگر یہ ’’مومینٹم‘‘ ٹوٹ گیا تو پھر اپوزیشن کے لیے دوبارہ لوگوں کو متحرک کرنا مشکل ہو جائے گا۔ دوسرا سبب یہ ہے کہ جس مرحلے پر اپوزیشن نے تحریک کا آغاز کیا ہے، یہ مرحلہ پاکستان کی سیاست میں بہت اہمیت کا حامل ہے۔ آئندہ مارچ میں سینیٹ کے انتخابات ہو رہے ہیں۔ حکومت کی کارکردگی، مہنگائی اور بےروزگاری کی وجہ سے اس وقت پی ٹی آئی اور اس کی سیاسی قیادت کی مقبولیت کا گراف بہت زیادہ نیچے آ چکا ہے۔ معاشی بحران کی وجہ سے مقتدر حلقوں میں بھی بہت زیادہ تشویش ہے۔ علاقائی اور بین الاقوامی حالات میں جو تبدیلیاں رونما ہو رہی ہیں، ان میں مضبوط سیاسی قیادت کی ضرورت کو بھی شدت سے محسوس کیا جا رہا ہے۔سب سے زیادہ اہم بات یہ ہےکہ ملک کی سیاسی قوتوں کو مارچ کے سینیٹ کے انتخابات کے بعد پاکستان کے موجودہ پارلیمانی جمہوری نظام کے لیے خطرات نظر آرہے ہیں۔ پی ڈی ایم کی تحریک کو اسی شدت اور مومینٹم کے ساتھ جاری رکھنے کا تیسرا سبب یہ ہے کہ پی ڈی ایم نے اپنے ایجنڈے اور پروگرام کو وسعت دے دی ہےاور وہ موجودہ حکومت کو ہٹانے کے ساتھ ساتھ پاکستان میں پارلیمانی جمہوری نظام کے تحفظ، انتخابی اصلاحات، سیاست میں اسٹیبلشمنٹ اور انٹیلی جنس اداروں کے کردار کے خاتمے، صوبوں کے حقوق، 18ویں ترمیم کے تحفظ سمیت 12نکات پر مشتمل میثاق پاکستان پر متفق ہو گئی ہے۔ پی ڈی ایم نے اپنی ذمہ داریوں میں اضافہ کر دیا ہے۔ چوتھا اور اہم سبب یہ ہے کہ پاکستان کے عوام کے ایک وسیع تر حلقے کی پی ڈی ایم سے توقعات وابستہ ہوگئی ہیں، جو اس طرح کے حالات سے نکلنا چاہتے ہیں۔ مذکورہ بالا اسباب کی بنا پر پی ڈی ایم کے لیے یہ مشکل ہو گا کہ وہ اپنی سیاسی سرگرمیوں کو محدود کر دے یا اپنے پروگرام کو شیڈول کے مطابق آگے لے کر نہ چلے۔ پی ڈی ایم کے ساتھ ساتھ پاکستان کے عوام نے بھی یہ دیکھا ہے کہ کورونا وائرس کے پھیلاؤ کے عروج کے زمانے میں امریکا اور جنوبی ایشیا کے بعض ممالک میں سیاسی تحریکیں چلیں اور لوگوں نے ان میں بھرپور شرکت کی۔ پاکستان جیسے ملک میں سیاست کا ایک اور فیکٹر بھی ہے۔ وہ یہ کہ سیاسی تحریک چلانے والوں کو اپنی کامیابی کی کوئی اُمید ہے یا نہیں یا دوسرے الفاظ میں یہ کہنا چاہئے کہ انہیں کچھ قوتوں کی حمایت ہے یا نہیں؟ کورونا کی دوسری لہر کی شدت میں اضافے کے باوجود آج پشاور میں پی ڈی ایم کا جلسہ ہونے جا رہا ہے تو اس کا مطلب یہ ہے کہ تحریک کو جاری رکھنے کیلئےمذکورہ بالا اسباب کے ساتھ پی ڈی ایم کی قیادت کو آگے کچھ نظر آ رہا ہے۔

تازہ ترین