آپ آف لائن ہیں
جمعرات17؍ربیع الثانی 1442ھ3؍دسمبر 2020ء
  • بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیئرمین و ایگزیکٹوایڈیٹر: میر جاوید رحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن
Jang Group

کورونا،حالات کی سنگینی کو دیکھ کر پالیسیز ترتیب دے رہے ہیں، شفقت محمود


کراچی (ٹی وی رپورٹ)جیو کے پروگرام ’’جرگہ‘‘ میں میزبان سلیم صافی سے گفتگو کرتے ہوئے وفاقی وزیر تعلیم شفقت محمود نے کہاہے کہ حالات کی سنگینی کو دیکھ کر پالیسیز ترتیب دے رہے ہیں،آئی سی یو اسپیشلسٹ ڈاکٹر شازلی منظور نے کہا کہ احتیاط سے بہتر کوئی علاج نہیں،پروگرام میں ہومیو اسپیشلسٹ ڈاکٹر غلام صابر نے بھی اظہار خیال کیا۔وفاقی وزیر تعلیم شفقت محمود نے کہا کہ ہم حالات کو جو بہت سنگینی کی طرف جارہے ہیں اس کو مد نظر رکھتے ہوئے پالیسز ترتیب دے رہے ہیں۔ اسلام آباد میں مختلف علاقوں کو بند کیا گیا ہے جب این سی او سی کی طرف سے کہا گیا پبلک میٹنگ نہیں ہونی چاہئیں تو ہم نے تمام تر میٹنگ منسوخ کر دیں۔ہومیو اسپشلسٹ ڈاکٹر غلام صابر نے کہا کہ یورپ کا وائرس مختلف ہے یہاں سے لیکن اب جو وائرس آرہا ہے ایسا محسوس ہوتا ہے جیسے یورپ کی شدت ہے وہ یہاں بھی ہے۔آئی سی یو اسپیشلسٹ ڈاکٹرشازلی منظور نے کہا کہ کورونا کی دوسری لہر میں متاثر لوگوں کی تعداد اور اموات دونوں میں اضافہ ہو رہا ہے اس کی سنگینی ہمیں محسوس ہو رہی ہے مریضوں کی تعداد مسلسل بڑھنے کی وجہ سے اسپتالوں میں جگہ ختم ہوتی جارہی ہے اور اس کے علاج میں جو پہلے چیزیں کارآمد تھیں اب وہ کارآمد نہیں رہیں اور اب اس وائرس کی تشخیص بھی نہیں ہو پارہی ہے اب جو مریض آرہے ہیں ان کا مرض چوبیس اڑتالیس گھنٹے میں ہی شدت اختیار کر لیتا ہے جس طرح ہمیں پہلے وقت مل جایا کرتا تھا وہ اب نہیں مل پارہا۔پہلے مریض جلدی صحتیاب ہوجاتے تھے اب صحت یاب ہونے میں بھی وقت لگتا ہے۔ ڈاکٹر شازلی نے مزید کہا کہ احتیاط تدابیر وہی رہیں گی جو پہلے دن سے کی جارہی ہیں اس سے بہتر کوئی علاج نہیں ہے اگر کسی کو کویڈ ہوجاتا ہے تو وہ اپنے آپ کو کورنٹین کرلیں۔اب جو مریض آرہے ہیں اس میں پوری پوری فیملیاں بیمار ہو رہی ہیں پچھلی لہر میں ہم نے مختلف کیٹیگریز بنا رکھی تھیں لیکن اس میں ہر عمر کے لوگ آرہے ہیں اب یہ وائرس ہر عمر کو ٹارگٹ کر رہا ہے۔شفقت محمود نے مزید کہا کہ پچھلی دفعہ جب اسکول بند ہوئے تو غریب اور دیہات کے بچے بہت متاثر ہوئے کیوں کہ آن لائن تعلیم کا سلسلہ نہیں تھا ۔ایک چیز جو کنفیوژن پیدا کرتی ہے وہ یہ ہے کہ آج نیویارک ٹائمز میں ایک بہت مشہور کالم نگار ہے ان کا کہنا ہے کہ چھوٹے بچوں سے کورونا نہیں پھیلتا اسکول بند کرنا صحیح نہیں یونیسیف کی ایک رپورٹ کسی نے سرکولیٹ کی ہوئی ہے کہ بچوں کی طرف سے کوئی انفیکشن نہیں پھیلتا نہ ہی ہوتا ہے۔ لوگوں کی وجہ سے بہت سے اقدامات کرنے میں رکاوٹیں ہوتی ہیں خاص طور پر جو پرائیویٹ اسکول ہیں وہ کہتے ہیں کہ آپ ہمارے روز گار کو متاثر کر رہے ہیں۔ ہم پیر کو فائنل میٹنگ کر رہے ہیں جس میں سارے صوبے شامل ہوں گے سارے اسکول سسٹم ہوں گے، ان سب کو شامل کر کے یہ تجویز لے کر آرہے ہیں کہ ہمیں تعلیمی اداروں پر بندش لگانی چاہیے اور آن لائن پڑھائی کا سلسلہ ہو، جہاں آن لائن نہیں ہوسکتا وہاں بچے ایک دن آکر ہوم ورک لے جائیں کچھ اس طرح کے معاملات ترتیب دے رہے ہیں تاکہ پڑھائی کا سلسلہ جاری رہے آنے والے پیر کے دن اس حوالے سے آخری فیصلہ لیا جائے گا۔

اہم خبریں سے مزید