آپ آف لائن ہیں
ہفتہ9؍جمادی الثانی 1442ھ 23؍جنوری 2021ء
  • بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیئرمین و ایگزیکٹوایڈیٹر: میر جاوید رحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن
Jang Group

ویزہ فری شینگن ایریا یورپ کی معاشی ترقی کا اہم ترین حصہ ہے، رسلا واندرلین

یورپین کمیشن کی صدر ارسلا واندرلین نے کہا ہے کہ اندرونی سرحدوں کے بغیر اور ویزہ فری شینگن ایریا یورپ کی معاشی ترقی کا اہم ترین حصہ ہے۔ اس کی ناکامی کی کسی صورت اجازت نہیں دی جا سکتی۔

ان خیالات کا اظہار انہوں نے یورپین دارالحکومت برسلز میں "شینگن فورم" کے پہلے اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے کیا۔ جس میں یورپین یونین کے وزرائے داخلہ اور یورپین پارلیمنٹ کے ممبران نے شرکت کی۔ 

اس اجلاس کا مقصد اندرونی سرحدوں کے بغیر لیکن موجود چیلنجنز سے نمٹنے کیلئے مضبوط سیاسی اور ادارہ جاتی تعاون کو فروغ دینا تھا۔ انہوں نے کہا کہ اس عالمی وباء کورونا وائرس کے پہلے ماہ میں ہی ہم نے یہ دیکھ لیا کہ یورپ جیسے رک گیا ہے کیونکہ اس کی اندرونی سرحدیں بند کردی گئی تھیں۔

انہوں نے کہا کہ شاید یہ تضاد محسوس ہو لیکن اس نے مجھے شینگن کے مستقبل کے بارے میں زیادہ پُریقین کردیا ہے۔ یہ یورپ کیلئے انتہائی قیمتی چیز ہے اور ہم اس کی ناکامی کی بالکل اجازت نہیں دے سکتے۔ 


نئی یورپین نسل اس پر انحصار کرتی ہے۔ یہ ہماری معیشت اور ہمارے زندگی گزارنے کے طریقے کیلئے انتہائی ضروری ہے ۔ اس لیے یہ ہم سب کی ذمہ داری ہے کہ یہ چلتا رہے اور اپنا کام کرتا رہے۔ 

یورپین کمیشن کی صدر ارسلا واندر لین نے اس موقع پر شرکاء کو یاد دلایا کہ  آج سے 35 سال پہلے کا واقعہ ہے کہ 5 ممبر ممالک نے اس بات کا فیصلہ کیا تھا کہ ہم اپنی اندرونی سرحدیں ختم کرتے ہیں۔ آج یہ تعداد بڑھکر 26 ہوگئی ہے جس سے یورپ کے 420 ملین شہری فائدہ اٹھا رہے ہیں۔ لیکن حالیہ سالوں میں اس پر دباؤ آیا ہے۔

اس کی مثال دیتے ہوئے انہوں نے کہا کہ 2006 سے 2014 تک نو سالوں میں اندرونی بارڈر چیک 35 بار لگایا گیا۔ جبکہ 2015 سے اگلے 5 سالوں میں ان اندرونی سرحدوں پر 205 مرتبہ یہ عمل دہرایا گیا۔ یہ بہت بڑا اضافہ ہے۔ ہمیں اس کو سمجھنے اور اس پر توجہ دینے کی اشد ضرورت ہے۔

انہوں نے کہا کہ یہ بھی حقیقت ہے کہ شینگن ایریا کو جو مسائل آج درپیش ہیں وہ آج سے 25 سال قبل نہیں تھے۔ 

اس موقع پر انہوں نے شرکاء کے سامنے اپنا 3 نکاتی منصوبہ پیش کرتے ہوئے ان پر زور دیا کہ وہ اس پر باہمی تبادلہ خیال کریں تاکہ موجودہ چیلنجز کا مقابلہ کرتے ہو شینگن ایریا کو مزید مضبوط بنایا جا سکے۔

بین الاقوامی خبریں سے مزید