آپ آف لائن ہیں
پیر28؍شعبان المعظم 1442ھ 12؍اپریل2021ء
  • بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن
Jang Group

اسرائیل کے وزیراعظم نتن یاہو حال ہی میں سعودی عرب کے خفیہ دورے پر گئے اور سعودی ولی عہد شہزادہ محمد بن سلمان سے ملاقات کی ۔اس موقع پر امریکی وزیر خارجہ مائیک پومپیو بھی موجود تھے ۔ یہ ملاقات سعودی عرب کے شہر نیوم میں ہوئی جو بحیرئہ احمر کے ساحل پرواقع ہے،جو دو گھنٹے جاری رہی ۔ اس خفیہ دورے کی خبر اسرائیلی ذرائع کے علاوہ امریکی میڈیا نے بھی دی مگر سعودی عرب کے ذرائع نے اس خبر کی تردید کردی۔ 

اس اہم ترین خفیہ دورے کے بارے میں اسرائیلی صحافی نے ٹوئٹ پر خبر دی کہ وزیراعظم نتن یاہو ایک نجی کمپنی کے طیارے میں سعودی عرب کے شہر نیوم پہنچے اور وہاں انہوں نے ولی عہد شہزادہ محمد بن سلمان سے دو گھنٹے مذاکرات کیے جس میں مائیک پومپیو بھی شریک رہے۔ٹوئٹ میں یہ بھی بتایا گیا اسی طیارے میں کچھ عرصہ قبل اسرائیلی وزیراعظم ماسکو بھی گئے تھے جہاں انہوں نے روسی صدر ولادیمیر سے ملاقات کی تھی۔بعدازاں امریکی معروف ٹی وی چینل این بی سی اور واشنگٹن پوسٹ سمیت دیگر اخبارات نے بھی یہ خبر دی۔

امریکی وزیر خارجہ مائیک پومپیو کے بارے میں کہا جارہا ہے کہ وہ مشرق وسطیٰ کے سات ممالک کے دورے پر ہیں اور یہ ان کا آخری دورہ ہے کیونکہ جنوری میں منتخب صدر جوئے بائیڈن کی نئی انتظامیہ وائٹ ہائوس میں براجمان ہوجائے گی۔اسرائیلی ذرائع ابلاغ کے بموجب وزیراعظم نتن یاہو کے اس خفیہ دورے کا محور ایران اور اس کا جوہری معاہدہ رہا جس کو صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے یک طرفہ طور پر منسوخ کر دیا تھا۔ صدر ٹرمپ نےمعاہدہ کی منسوخی کے بعد ایران پر مزید اقتصادی پابندیاں عائد کر دی تھیں۔ 

اس ملاقات میں منتخب امریکی صدر بائیڈن کی متوقع خارجہ پالیسی خصوصی طور پر مشرق وسطیٰ کی پالیسی کے حوالے سے بھی بات چیت کی گئی۔ اسرائیلی قومی سلامتی کے سابق مشیر جیکب نیگل نے بتایا کہ منتخب صدر بائیڈن کی اسرائیل، ایران اور مشرق وسطیٰ کے حوالے سے کیا پالیسی ہوگی ،اس پر شدید بے چینی پائی جاتی ہے۔ جیکب نیگل نے مزید کہا کہ اسرائیل کی طرح سعودی عرب کے سیاسی حلقوں میں بھی شدید اضطراب ہے کہ مستقبل قریب میں امریکہ کی خارجہ پالیسی کس طرف جائے گی۔

اسرائیل اور سعودی عرب کو یہ خوف ستا رہا ہےکہ مستقبل میں ایران جوہری طاقت بن کر اُبھر سکتا ہے، یہ خوف دونوں ممالک کو اب قریب لا رہا ہے۔ واضح رہے کہ اسرائیل کی ہمیشہ سے یہ خواہش رہی ہے کہ تیل سے مالا مال سعودی عرب سے سفارتی اور سیاسی تعلقات قائم ہو جائیں مگر سعودی عرب کا مؤقف یہ رہا کہ جب تک فلسطین کا مسئلہ حل نہیں ہو جاتا، اسرائیل سے تعلقات قائم نہیں ہو سکتے، مگر اب واضح طور پر نظر آ رہا ہے کہ ایران کا خوف سعودیہ کو اسرائیل کے قریب لا رہا ہے۔ سعودی عرب کی پالیسی سے لگتا ہے کہ وہ اسرائیل کے ذریعہ ایران کو کمزور کرنا چاہتا ہے۔ 

اس خفیہ ملاقات کے حوالے سے سعودی عرب کی ایک معروف کاروباری شخصیت محمد سعود نے ایک انٹرویو میں کہا اسرائیل اور سعودی عرب کے تعلقات میں نمایاں پیش رفت ہوتی نظر آتی ہے یہ ایک فطری عمل ہے ان کا خیال تھا کہ جلد دونوں ملک مزید پیش رفت کریں گے جو ان کی ضرورت ہے۔ انہوں نے مزید کہا کہ اس دورے کو خفیہ رکھا گیا کیونکہ یہ انتہائی حساس معاملہ ہے۔ بتایا جاتا ہے کہ اس خفیہ ملاقات میں اسرائیلی وزیراعظم کے ہمراہ اسرائیل کی بدنام زمانہ خفیہ ایجنسی موساد کے سربراہ یوسی کوہان بھی شریک تھے۔ اسرائیلی ذرائع کے مطابق یوسی کوہان مختلف تعلقات میں سعودی عرب کے خفیہ ادارے کے اعلیٰ عہدیداران سے بھی ملتے رہے ہیں اور دونوں ممالک کو قریب لانے کی سعی کرتے رہے ہیں۔

دُوسری جانب سعودی وزیر خارجہ شہزادہ فیصل بن فرحان نے اسرائیلی وزیراعظم کے خفیہ دورے کی تردید کی اور بتایا کہ ولی عہد شہزادہ محمد بن سلمان کی صرف امریکی وزیر خارجہ مائیک پومپیو سے ملاقات ہوئی ہے۔ فرانسیسی خبررساں ایجنسی اے ایف پی نے خبر دی ہے کہ اسرائیلی حکومت نے سعودی عرب اور بحرین کو اپنی گرین لسٹ میں شامل کر لیا ہے۔ مزید یہ کہ ان دونوں ریاستوں کے باشندوں پر قرنطینہ کی پابندی عائد نہیں ہوگی، مگر سعودی ذرائع ایسی خبروں کی تردید کر رہے ہیں۔ حال ہی میں بحرین نے اسرائیل سے تعلقات قائم کئے ہیں۔ خیال کیا جا رہا ہے کہ جلد ہی مراکش اور سلطنت آف عمان بھی اسرائیل سے تعلقات قائم کر لیں گے۔ درحقیقت خلیجی ریاستوں کے حکمرانوں کو اس اَمر پر شدید تشویش ہے کہ ایران باوجود سخت اقتصادی اور دیگر پابندیوں کے جدید ہتھیاروں کا ذخیرہ جمع کر چکا ہے اور خطّے میں اس کی عسکری پیش قدمی امن کے لئے بڑا خطرہ بن سکتی ہے۔ یہ بھی خیال کیا جاتا ہے کہ عراق کے صدر صدام حسین اور ان کی حکومت کے خاتمے کے بعد ایران نے پیش قدمی میں اضافہ کر دیا اور اس کی حمایت یافتہ تنظیمیں شام، عراق، یمن اور لبنان میں اپنا عسکری کردار ادا کر رہی ہیں۔یہی وجہ ہے کہ خلیج میں تیل کے بڑے ذخائر رکھنے والی ریاست متحدہ عرب امارات نے جس کا سالانہ جی ڈی پی کا اوسط 40ہزار ڈالر سے زائد ہے اس نے اسرائیل سے تعلقات قائم کرنے کے لئے بڑی پیش رفت شروع کر دی ہے اور اسرائیل سے متحدہ عرب امارات نے بڑے پیمانے پر جدیدترین ہتھیاروں کا سودا بھی کر لیا ہے اور اسرائیل و متحدہ عرب امارات کے درمیان ٹیلی فون لائن بچھانے کا عمل بھی شروع کیا جا رہا ہے۔ 

ان حالات میں امریکہ نے سعودی عرب کو اسرائیل سے تعلقات قائم کرنے پر بہت زور دیا ہے مگر سعودی اعلیٰ حکام اور سیاسی حلقے اسرائیل سے رسمی تعلقات کے حامی ضرور ہیں لیکن ان کا اصرار ہے کہ پہلے اسرائیل خاکہ متعین کرلے کہ عرب اَمن منصوبہ اور بین الاقوامی قراردادوں کی پاسداری کو یقینی بنائے گا۔ سعودی عرب کے مذکورہ حلقوں میں یہ خیال بھی پایا جاتا ہے کہ اسرائیل سے تعلقات قائم کرنے کے باوجود اس عمل کو پائیدار امن کی ضمانت قرار نہیں دیا جا سکتا۔ سعودی عرب کے قدامت پسند حلقے لبرل اَزم اور جدید مغربی طرزِ زندگی کی حمایت نہیں کر سکتے۔ امریکہ سے سعودی عرب کے تمام متنازع معاملات طے ہو جائیں گے خام خیالی کے سوا کچھ نہیں ہے۔ سعودیہ کے اندرونی مسائل میں اضافہ ہو سکتا ہے۔ اسرائیل سے تعلقات قائم کرنے اور اسرائیل کو تسلیم کرنے سے سعودیہ عرب دُنیا اور مسلم دُنیا سے دُور بھی ہو سکتا ہے اور خدشہ ہے کہ اس اقدام سے مسلم دُنیا دو حصوں میں تقسیم ہو سکتی ہے۔

اسرائیل اور سعودی عرب کے تعلقات قائم کرنے، اسرائیل کو تسلیم کرنے کے حوالے سے ممکنہ خدشات کا اظہار کرنے، مذکورہ حلقے کے برعکس سعودی عرب میں ایسی لابی بھی نمایاں اور سرگرم ہے جو اسرائیل کو تسلیم کرنے اور دوطرفہ تعلقات قائم کرنے کی پوری حمایت کرتی رہی ہے۔ اس لابی کو اُمید ہے کہ اسرائیل سے دوطرفہ تعلقات قائم کرنے سے فلسطین کاز کو کوئی نقصان نہیں ہوگا بلکہ اس سے فائدہ ہوگا۔ 

سعودی عرب اور دیگر اسرائیل کو اس دیرینہ مسئلے کو پرامن طور پر حل کرنے کے لئے اس پر زور دے سکتے ہیں۔ دوطرفہ خوشگوار تعلقات مشرق وسطیٰ میں پائیدار امن قائم کرنے کے کاز میں کلیدی کردار ادا کر سکتے ہیں۔ اسرائیل جدیدترین ٹیکنالوجی رکھنے والا اہم ملک ہے اس سے تعلقات قائم کر کے اس کی ٹیکنالوجی سے فوائد حاصل کر سکتے ہیں اور اپنی زرعی اور صنعتی ترقّی میں تیزی سے اضافہ کر سکتے ہیں۔ ایسے حالات میں مسلم دُنیا کے خدشات بھی دُور ہو سکتے ہیں۔

یہ ایک حقیقت ہے کہ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے سعودی عرب کے ساتھ بہترین تعلقات استوار کر رکھے تھے اور ایران سے جوہری معاہدہ کی منسوخی کے بعد امریکہ اور سعودیہ مزید قریب آ گئے۔ ٹرمپ کا نقطۂ نظر یہ رہا ہے کہ سعودی عرب ایک اہم ملک ہے کیونکہ اس کے پاس عظیم اسلامی مقامات اور یادگاریں موجود ہیں اور یہ اس کی اصل قوت ہے، جو اسلامی اور عرب تہذیب کا گہوارہ ہے۔

اسے سب سے پہلے امریکہ اور روس نے تسلیم کیا۔ اقوام متحدہ نے اس خطّے میں بڑھتی ہوئی کشیدگی کو مدنظر رکھتے ہوئے اسرائیلی ریاست کو دو ریاستی قیام کا منصوبہ پیش کیا۔ اسرائیلی سیاسی حلقوں نے اس منصوبہ کو قبول کرنے کا عندیہ دیا مگر عرب ملکوں نے اس کو مسترد کر دیا۔ بعدازاں اسرائیل اور عربوں کی کئی بار جنگیں ہوئیں مگر ہمیشہ اسرائیلی جارحیت کا پلّہ بھاری رہا اور فلسطینی عوام ظلم سہتے رہے۔ ان جنگوں کے نتیجے میں اسرائیل نے مصر، اُردن اور شام کے کچھ علاقوں پر قبضہ جما لیا جو اب بھی اس کی گرفت میں ہیں اور اسرائیلی فوج اس پر قابض ہے۔ 

اسرائیل کا دستور سیکولر اور لبرل ڈیموکریٹک ہے۔ اس کی افواج جدیدترین ہتھیاروں سے مسلح ہیں، جن میں سے زیادہ تر ہتھیار اسرائیل نے تیار کئے ہیں۔ دُنیا کے 194ممالک میں 165ممالک نے اسرائیل کو تسلیم کر رکھا ہے جن میں آذربائیجان، متحدہ عرب امارات، بحرین، مصر اور سوڈان بھی شامل ہیں۔ 29 ممالک جن میں زیادہ تر مسلم ممالک شامل ہیں وہ اسرائیل کو تسلیم نہیں کرتے جن میں پاکستان، ایران، الجزائر، لیبیا نمایاں ہیں۔ پاکستان پر بعض دوست ممالک کا دبائو ہے کہ اسرائیل کو تسلیم کیا جائے مگر پاکستان کا دوٹوک مؤقف ہے کہ اسرائیل کو تسلیم نہیں کیا جا سکتا تاوقتیکہ وہ پہلے مظلوم فلسطینوں کا مسئلہ حل نہیں کرتا۔

عرب ممالک اور مسلم ممالک میں یہ سوال اُٹھ رہا ہے کہ کیا وجہ ہے کہ اسرائیل اور سعودی عرب طویل مخاصمت کے بعد اب رفاقت اور دوطرفہ تعلقات قائم کرنے کے لئے پینگیں بڑھا رہے ہیں۔ دُنیااور بالخصوص مشرق وسطیٰ کے بدلتے ہوئے منظرنامے کو مدنظر رکھتے ہوئے فوری یہ جواب سامنے آتا ہے کہ امریکہ میں عام انتخابات کے نتیجے میں ڈیموکریٹک پارٹی کے اُمیدوار جوبائیڈن جنوری میں اقتدار کی کرسی پر براجمان ہونے جا رہے ہیں، انہوں نے حال ہی میں اپنی کابینہ کے ایک تہائی اراکین کو نامزد کیا ہے جن میں انتھونی بلنکین کو سیکرٹری برائے امور خارجہ اورخفیہ ادارے کا سربراہ، جیک سیلوین کو مشیربرائے قومی سلامتی، لنڈا تھامس گرین فیلڈ کو سفیر برائے اقوام متحدہ نامزد کیا ہے۔ 

منتخب صدر بائیڈن اور نامزد وزیر خارجہ انتھونی بلنکین کے بارے میں کہا جاتا ہے کہ دونوں کے مابین بڑی حد تک خارجہ امو پر ایک جیسی سوچ پائی جاتی ہے۔ انتھونی یورپی ممالک سے تعلقات اور براعظم یورپ کے معاملات کا گہرا تجربہ رکھتے ہیں۔ گزشتہ بارہ پندرہ برسوں میں امریکہ نے جو بیرونی ممالک سے معاہدے کئے تھے ان میں ان کا نمایاں کردار رہا ہے جس میں ایران اور امریکہ کا جوہری معاہدہ بھی شامل تھا۔ منتخب صدر بائیڈن نے یہ واضح عندیہ دیا ہے کہ ان کی ٹیم صدر ٹرمپ کی بعض غلطیوں کا ازالہ کرے گی، جس میں ایران کا جوہری معاہدہ بھی شامل سمجھا جا رہا ہے اور توقع ہے کہ صدر بائیڈن 2015ء کے جوہری معاہدہ کو دوبارہ بحال کریں گے۔ دُوسرے لفظوں میں منتخب صدر بائیڈن سابق صدر باراک اوباما کے دور کی بیشتر پالیسیوں پر عمل پیرا ہوں گے۔ 

ان حالات میں اسرائیل اور سعودی عرب کا ایک دُوسرے کے قریب آنا ایک فطری سیاسی عمل لگتا ہے کیونکہ اسرائیل اور سعودی عرب دونوں ممالک ایران کے ساتھ امریکہ کے جوہری معاہدہ کو ہر طرح سے ناپسند کرتے تھے اور جب صدر ٹرمپ نے 2018ء میں یہ معاہدہ یک طرفہ طور پر منسوخ کر کے ایران پر مزید پابندیاں عائد کی تھیں تو اسرائیل اور سعودی عرب نے سکون کا سانس لیا تھا، اس کے علاوہ صدر ٹرمپ نے ان دونوں ممالک کو خاصا نرم گوشہ فراہم کیا تھا۔ 

اب امریکہ کے نئے صدر کی جانب سے یہ اشارے مل رہے ہیں کہ وہ صدر ٹرمپ کی مشرق وسطیٰ کی پالیسی پر نظرثانی کریں گے تو خطّے میں بے چینی پھیل سکتی ہے۔ دُوسری طرف ایران کو توقع ہے کہ جوبائیڈن جوہری معاہدہ کو بحال کرنے کے علاوہ ایران پر پابندیوں کو نرم کر دیں گے۔ تاہم جوبائیڈن کا انسانی حقوق اور جمہوری اُصولوں کی پاسداری پر اصرار کی وجہ سے ان ممالک میں زیادہ بے چینی پائی جاتی ہے جہاں انسانی حقوق اور جمہوری اُصولوں سے انحراف کیا جا رہا ہے۔ ان میں مشرق وسطیٰ کے بیشتر ممالک سرفہرست ہیں۔

سعودی عرب کے ولی عہد شہزادہ محمد بن سلمان نے یہ بھی اشارہ دیا ہے کہ اگر ایران نے جوہری ہتھیاروں کی تیاری شروع کی تو پھر سعودی عرب بھی جوہری ہتھیار تیار کرنے کے منصوبہ پر کام کر سکتا ہے، مگر امریکی نئے صدر بائیڈن کے دورِ حکومت میں شاید یہ ممکن نہ ہو، کیونکہ بائیڈن دُنیا میں پائیدار اَمن قائم کرنے اور ایٹمی ہتھیاروں کے پھیلائو کو روکنے پر زور دیتے رہے ہیں۔ امریکہ نے یہودیوں سے بہت فائدے حاصل کئے ہیں اور کر رہا ہے اس لئے یہودی لابی امریکہ میں بہت فعال ہے اس لئے کہا جاتا ہے کہ اسرائیل کے بعد یہودیوں کے دو وطن اور ہیں پہلا امریکہ اور دُوسرا برطانیہ۔ 

تاہم چونکا دینے والی خبر یہ ہے کہ امریکی وزیر خارجہ مائیک پومپیو اور سعودی ذرائع نے بتایا کہ اسرائیل اور سعودی عرب کے مابین تعلقات قائم کرنے کی پیش رفت کو نئے امریکی صدر کے حلف اُٹھانے تک ملتوی کر دیا گیا ہے۔ بقول مائیک پومپیو کے یہ تعطل چھ ہفتے تک بھی رہ سکتا ہے اور چھ مہینے تک بھی ۔ کہا جا رہا ہے کہ سعودیہ کے ولی عہد چاہتے ہیں کہ امریکی صدر بائیڈن کے اقتدار سنبھالنے کے بعد اس معاملے میں پیش رفت کی جائے تا کہ امریکہ اور سعودی عرب کے تعلقات کو مزید فروغ دیا جا سکے۔ اس خبر پر سب ہی حلقے حیران ہیں مگر یہ ابہام بھی جلد دُور ہوگیا جب یہ خبر عام ہوئی کہ ایران کے ایک اہم سائنس داں کو تہران کے قریب ایک شاہراہ پر حملہ کر کے قتل کر دیا گیا ہے اس پر ایران کا شدید ردعمل بھی سامنے آ گیا۔

ایرانی صدر حسن رُوحانی نے ایک بیان میں کہا ہے کہ ایران پر اقتصادی پابندیوں کی وجہ سے ملک کو زبردست نقصانات برداشت کرنے پڑے ہیں جس کا ازالہ ضروری ہے۔ ایران دراصل امریکہ سے اپنے تعلقات کا معاوضہ طلب کر رہا ہے۔ مشرق وسطیٰ کے بعض سفارت کاروں اور مبصرین کا خیال ہے کہ اگر ایران پر سے اقتصادی پابندیاں ہٹا لی جائیں تو عین ممکن ہے کہ ایران بھی اپنے جوہری پروگرام کو کیپ کر دے گا۔ فی الفور ایرانی سائنس داں کے قتل کے بعد خطّے کے حالات زیادہ کشیدہ ہوگئے ہیں۔