• بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن

نون لیگی اراکینِ اسمبلی کے ایک کے بعد ایک استعفے


اپوزیشن اتحاد پاکستان ڈیموکریٹک موومنٹ (پی ڈی ایم) کی حکومت مخالف تحریک جاری ہے جس کے تحت مسلم لیگ نون کے ارکانِ قومی و صوبائی اسمبلی کی جانب سے پارٹی قیادت کو استعفے بھیجنے کا سلسلہ بھی جاری ہے۔

تازہ ترین استعفیٰ دینے والوں میں نون لیگ کی ایم پی اے عنیزہ فاطمہ بھی شامل ہیں جنہوں نے اپنا استعفیٰ پارٹی قیادت کو بھجوا دیا ہے۔

عنیزہ فاطمہ کے استعفے کے متن کے مطابق موجودہ حکومت عوامی مسائل حل کرنے میں ناکام ہو چکی ہے، ملکی مسائل صرف نواز شریف اور شہباز شریف کی قیادت میں ہی حل ہو سکتے ہیں۔

چوہدری محمود ورک، صفدر شاکر، ملک صہیب احمد بھرت، مظہر قیوم ناہرہ، راحیلہ خادم حسین نے بھی اپنے استعفے نون لیگ پنجاب کے صدر رانا ثناء اللّٰہ کو بھجوائے ہیں۔

نون لیگ پنجاب کے صدر رانا ثناء اللّٰہ نے بتایا ہے کہ خرم دستگیر سمیت 20 سے زائد ارکانِ اسمبلی نے استعفوں کے حوالے سے رابطہ کیا ہے، کچھ ارکان نے استعفے بھجوا دیئے ہیں باقی بھجوا رہے ہیں۔

مسلم لیگ نون کی رہنما عظمیٰ بخاری اور ان کے شوہر سمیع اللّٰہ خان نے بھی استعفیٰ پارٹی قیادت کو بھجوا دیا ہے۔

عظمیٰ بخاری کے استعفے کے متن میں کہا گیا ہے کہ 2018ء کا الیکشن معلوم اور نامعلوم مخلوق کی جانب سے ڈیزائن کیا گیا تھا، الیکشن انجینئرڈ ہونے کے باوجود نون لیگ نے 129 سیٹیں حاصل کیں، پنجاب میں پی ٹی آئی کے حصے میں پنجاب میں 120 سیٹیں آئیں، الیکشن کے بعد ایک سیاسی رہنما کا جہاز حرکت میں آ گیا۔

انہوں نے کہا ہے کہ پنجاب میں نون لیگ کی اکثریت کو اقلیت میں بدل دیا گیا، غیر آئینی غیر جمہوری اقدام کے باوجود نون لیگ کی قیادت نے عمران خان کو موقع دیا، ڈھائی سال بعد پاکستان کا ہر شعبہ زوال پذیر ہے، پاکستان اور پنجاب اب مزید تباہی اور بربادی کا متحمل نہیں ہو سکتا۔


عظمیٰ بخاری کے استعفے کے متن میں کہا گیا ہے کہ اس ناجائز حکومت کا خاتمہ ہو اور شفاف الیکشن کرائے جائیں، ووٹ کو عزت دو کے عمل کا آغاز کیا جائے، اس امید پر اور ان حالات میں اپنے قائدین نواز شریف اور شہباز شریف کی ہدایت پر پنجاب اسمبلی نشست سے مستعفی ہو رہی ہوں۔

واضح رہے کہ پی ڈی ایم کی قیادت نے تمام ارکان کو اپنے استعفے 31 دسمبر تک اپنی پارٹی قیادت کو جمع کرا نے کی ہدایت کی ہے جس کے بعد مسلم لیگ نون کے متعدد قومی اور صوبائی اسمبلی کے اراکین اپنا استعفیٰ پارٹی قیادت کو جمع کرا چکے ہیں۔

اسلام آباد لانگ مارچ کب کیا جائے گا ؟ اس کی تاریخ طے کرنے کے لیے اپوزیشن کی اسٹیرنگ کمیٹی کا اجلاس آج ہو گا۔

پاکستان ڈیموکریٹک موومنٹ (پی ڈی ایم) کے سربراہ مولانا فضل الرحمٰن کہتے ہیں کہ اسٹیرنگ کمیٹی کے اجلاس میں ملک میں پہیہ جام ہڑتال، شٹر ڈاؤن، جلسوں اور مظاہروں کا شیڈول طے کیا جائے گا۔

انہوں نے یہ بھی کہا کہ فرق پڑ چکا ہے، کرسی ہل چکی ہے، بس ایک دھکا اور دینے کی ضرورت ہے، تمام ارکان 31 دسمبر تک اپنی پارٹی قیادت کو استعفے جمع کرا دیں۔

قومی خبریں سے مزید