• بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن

عمران خان کا سپاہی ہوں، کبھی وفاداری تبدیل نہیں کی

انٹرویو: سیّد خلیل الرحمٰن، یاسر خان ، کوئٹہ

رپورٹ:فرّخ شہزادملک… تصاویر: رابرٹ جیمس

بلوچستان میں سیاست بااثر قبائلی شخصیات اور مخصوص گھرانوں ہی کے گرد گھومتی ہے۔ اگرچہ جمعیت علمائے اسلام نے غریب اور متوسّط گھرانوں سے تعلق رکھنے والے چند افراد کو پارلیمنٹ تک پہنچایا ، لیکن مجموعی طور پر عام آدمی کے لیے سیاست میں جگہ بنانا بے حد مشکل ہے۔ایسے میں قومی اسمبلی کے 19ویں ڈپٹی اسپیکر اور کوئٹہ کے ایک متوسّط گھرانے سے تعلق رکھنے والے قاسم خان سوری مقامی سیاست میں ایک نئی روایت کی علامت کے طور پر سامنے آئے ہیں۔

اُنھوں نے پی ٹی آئی کے پلیٹ فارم سے سیاست کرتے ہوئے صوبے اور قومی سیاست میں اپنی جگہ بنائی۔ اچھے، بُرے حالات میں عمران خان کا ساتھ دیتے رہے، یہاں تک کہ دھرنے کے دَوران 126روز تک کنٹینر پر بھی اُن کے شانہ بشانہ رہے۔ یہی وجہ ہے کہ اُن کا وزیرِ اعظم کے قریبی اور بااعتماد ساتھیوں میں شمار ہوتا ہے۔اُنھوں نے 6جنوری1969ء کو کوئٹہ کے متوسّط گھرانے میں آنکھ کھولی۔ 1996ء سے پی ٹی آئی سے وابستہ ہیں،لیکن 2007ء میں باقاعدہ طور پر سیاست میں متحرّک ہوئے اور اہم عُہدوں پر کام کیا۔ 2018ء میں تحریکِ انصاف کے ٹکٹ پر حلقہ این اے 256 ، کوئٹہ2 سے کام یابی حاصل کی۔ گزشتہ دِنوں اُن سے ایک تفصیلی نشست ہوئی، جس کا احوال قارئین کی نذر ہے۔

س:خاندان، ابتدائی تعلیم و تربیت سے متعلق کچھ بتائیں، بچپن کیسا گزرا؟

ج:والد کا تعلق پشتون قوم کی ذیلی شاخ، سوری سے ہے، جب کہ والدہ کشمیری خاندان سے تعلق رکھتی ہیں۔ والد صاحب ادویہ کے کاروبار سے منسلک تھے اور مَیں ابھی کم سن ہی تھا کہ اُن کا سایہ سَر سے اُٹھ گیا۔یوں دو چھوٹے بھائیوں سمیت گھر کی کفالت کی ذمّے داری میرے کندھوں پر آن پڑی۔میٹرک تعمیرِنو پبلک ہائی اسکول اور ڈگری کالج، کوئٹہ سے انٹرمیڈیٹ کیا، جب کہ جامعہ بلوچستان سے انٹرنیشنل ریلیشنز میں ماسٹرز کیا۔بچپن کھیلتے کودتے، پتنگیں اُڑاتے اور شرارتیں کرتے گزرا۔مَیں زیادہ قابل تھا اور نہ ہی نالائق۔اوسط درجے کا طالبِ علم کہہ سکتے ہیں۔

عمران خان کا سپاہی ہوں، کبھی وفاداری تبدیل نہیں کی
جنگ پینل سے بات چیت کرتے ہوئے

س:سیاست میں کیسے آمد ہوئی اور کن مشکلات کا سامنا کرنا پڑا؟

ج: مجھے کرکٹ پسند تھی، اِس لیے شروع ہی سے عمران خان کا شیدائی ہوں۔ 1996ء میں تحریکِ انصاف کی داغ بیل ڈالی گئی اور عمران خان نے روزنامہ’’جنگ‘‘ میں رکنیت سازی کے لیے اشتہار دیا، تو مَیں نے اپنے چھوٹے بھائی کے ساتھ رکنیت فارم پُر کر کے اشتہار پر درج پتے پر پوسٹ کردیا۔ جب عمران خان کا جواب آیا، تو خوشی کی انتہا نہ رہی۔

بعدازاں، 2007ء میں عملی سیاست میں متحرّک ہوا اور 2018ء تک پی ٹی آئی بلوچستان کے صدر، نائب صدر، جنرل سیکرٹری، چیف آرگنائزر اور کور کمیٹی کے رکن کے طور پر کام کرتا رہا۔روز اوّل سے عمران خان کا سپاہی ہوں اور اپنے سیاسی کیریئر میں کبھی وفا داری تبدیل نہیں کی۔ بلوچستان کی سیاست دیگر صوبوں سے مختلف ہے۔ 

یہاں قوم پرست اور مذہبی جماعتوں کی اجارہ داری رہی ہے، جب کہ متوسّط اور غریب طبقے سے تعلق رکھنے والے نوجوانوں کے لیے آگے آنا بہت مشکل ہے۔ اِسی لیے میرا سیاست میں متحرّک ہونا بھی بہت سے لوگوں کو سخت ناپسند تھا، جس کی وجہ سے میرے خلاف بہت پروپیگنڈا کیا جاتا رہا۔پارٹی میں بھی خاصی مخالفت کا سامنا کرنا پڑا، کیوں کہ وہاں بھی کئی ایسے لوگ تھے، جنہیں متوسّط طبقے سے چڑ تھی۔تاہم، جہدِ مسلسل کی بدولت اللہ تعالی نے کام یابی سے ہم کنار کیا۔

س:سیاسی سرگرمیوں کی وجہ سے ذاتی زندگی تو متاثر ہوئی ہوگی؟

ج: بہت زیادہ۔ کئی کئی روز گھر سے باہر اور فیملی سے دُور رہنا پڑتا ہے۔ڈپٹی اسپیکر بننے کے بعد تو مصروفیات کا یہ عالم ہے کہ جب کوئٹہ آتا ہوں، تو کئی کئی دن اپنے گھر والوں سے ڈھنگ سے ملاقات نہیں کر پاتا، دن رات ملاقاتیوں کا تانتا بندھا رہتا ہے۔

س:ڈپٹی اسپیکر بننے سے قبل پارٹی سرگرمیوں میں بہت متحرّک تھے، کیا اب بھی اسی طرح فعال ہیں؟

ج:جی ہاں، اب بھی ویسا ہی ہوں، جیسا پہلے تھا ۔سیاسی اور سماجی سرگرمیاں اُسی طرح جاری رہتی ہیں۔ اسلام آباد میں ہوتا ہوں، تو ڈپٹی اسپیکر سیکرٹریٹ کے دروازے ہر عام و خاص کے لیے کُھلے رہتے ہیں۔ بلوچستان بھر سے چاہنے والے آتے ہیں، جنہیں اسمبلی کا دورہ کرواتا ہوں۔ اسلام آباد میں کرائے پر ایک گھر بھی لیا ہوا ہے، جہاں اُن کے قیام و طعام کا بندوبست کرتا ہوں۔

س: کیا حکومت عوامی مسائل حل کرنے میں ناکام ہو چُکی ہے،منہگائی تو آسمان سے باتیں کر رہی ہے؟

ج: حکومت کو بہت سے پیچیدہ مسائل وَرثے میں ملے، لیکن عمران خان نے منظّم منصوبہ بندی اور دن رات محنت کے ذریعے مُلک کو درست ٹریک پر گام زَن کردیا ہے۔ ڈھائی سالہ دورِ حکومت میں عوامی خدمت کی تاریخ رقم کی ہے۔ اب حکومتی پالیسیز کے ثمرات عوام کو ملنا شروع ہو گئے ہیں۔

س: پی ڈی ایم کی احتجاجی تحریک کے کیا نتائج نکلیں گے؟

ج: اپوزیشن جماعتیں اپنے کارکنوں کو حوصلہ دینے کے لیے حکومت ختم کرنے کے دعوے کر رہی ہیں، لیکن وفاقی اور صوبائی حکومتیں اپنی آئینی مدّت پوری کریں گی۔ پی ڈی ایم میں شامل جماعتیں پہلے ایک دوسرے کے خلاف تھیں اور یہی دو بڑی جماعتیں باریاں لے رہی تھیں۔اسی لیے اُنھیں تیسری جماعت کا اقتدار ہضم نہیں ہو رہا۔ اپوزیشن رہنماؤں کے قومی اداروں سے متعلق بیانات افسوس ناک اور مُلکی وقار کے خلاف ہیں۔انھوں نے بابائے قوم کے مزار پر جو حرکت کی، اُس سے پوری قوم کے سَر شرم سے جُھک گئے۔

س: بلوچستان دیگر صوبوں سے بہت پیچھے ہے۔ماضی میںکہا گیا کہ صوبے کی پس ماندگی میں وفاق اور پنجاب کا ہاتھ ہے، آپ کیا کہتے ہیں؟

ج: بلاشبہ ایک عرصے تک وفاق نے صوبے پر وہ توجّہ نہیں دی، جس کا یہ حق دار ہے، لیکن دو دہائیوں کے دَوران اربوں، کھربوں کے فنڈز بلوچستان کی ترقّی کے لیے فراہم کیے گئے، ایم پی ایز کو سالانہ اربوں روپے بھی ملے، لیکن عوام پر ایک دھیلا خرچ نہیں ہوا، جس کی وجہ سے صوبے کی پس ماندگی میں اضافہ ہوا۔ اگر بلوچستان کی مشکلات کا ذمّے دار وفاق ہے، تو اس میں زیادہ حصّہ اپنوں ہی کا ہے۔یوں تو کرپشن پورے مُلک کا مسئلہ ہے، لیکن بلوچستان میں حالات بہت گمبھیر ہیں۔

س: کوئٹہ میں، جو آپ کا حلقۂ انتخاب بھی ہے، ہر سال گیس پریشر کا مسئلہ سَر اٹھا لیتا ہے ، اسے حل کیوں نہیں کیا جاتا ؟

ج: موسمِ سرما میں گیس پریشر میں کمی کا مسئلہ بہت پرانا ہے۔ ماضی میں کسی بھی حکومت نے اِس جانب توجّہ نہیں دی، لیکن مَیں نے گزشتہ دنوں نئی پائپ لائن کی تنصیب کا افتتاح کیا ہے۔ سریاب روڈ پر 40 سال پرانی6 انچ کی پائپ لائن تھی، جو علاقے کے لیے ناکافی تھی۔ شہر کے مختلف علاقوں میں 8انچ کی پائپ لائن بچھائی جارہی ہے۔ 

گیس پائپ لائن منصوبے پر 1ارب روپے لاگت آئے گی، جس کے بعد کوئٹہ میں گیس کا مسئلہ حل ہو جائے گا۔ نئی گیس پائپ لائن ستمبر 2021ء تک بچھا دی جائے گی۔ نیز، گیس چوری کرنے والوں کے خلاف بھی جرمانے کے ساتھ قید کی سزا بھی تجویز کی گئی ہے۔میری درخواست ہے کہ عوام بھی گیس چوری روکنے کے لیے انتظامیہ کے ساتھ تعاون کرے۔

س:میڈیا کی وجہ سے سیاست میں کیا تبدیلیاں آئیں؟

ج: میڈیا کی وجہ سے سیاست میں مثبت تبدیلیاں آئی ہیں۔ اب عوام کافی باشعور ہو چُکے ہیں اور اچھے، بُرے کی تمیز کر سکتے ہیں۔وہ اپنے حقوق کا استحصال کرنے والوں کو پہچانتے ہیں۔کوئی ظالم کتنا ہی با اثر کیوں نہ ہو، میڈیا کے ذریعے اس کا محاسبہ ہو جاتا ہے، لیکن کچھ منفی چیزیں بھی ہیں۔ میڈیا کی آزادی سے ذاتی زندگی بہت متاثر ہوئی ہے۔ آپ کسی محفل میں ہوں یا کہیں گھوم پِھر رہے ہوں، میڈیا پیچھا کرتا ہے۔اب تو محفل میں کھل کر گپ شپ بھی نہیں کر سکتے۔

س:زندگی سے کیا سیکھا؟کسی کے احسان مند ہیں؟

ج:سب کچھ محنت اور اللہ پر توکّل کر کے حاصل کیا جا سکتا ہے۔ اپنے والدین اور عزیز و اقارب کا احسان مند ہوں، جن کی محنتوں، دعائوں سے اس مقام تک پہنچا۔

س:زندگی کا کوئی یادگار لمحہ؟

ج: عمران خان کو وزیرِ اعظم کے طور پر دیکھنا ایک یادگار لمحہ تھا۔جب وہ حلف اٹھا رہے تھے، تو اپنی 22سالہ جدوجہد کی کام یابی دیکھ کر خوشی کا کوئی ٹھکانہ نہ رہا۔

س:آپ کی صبح کب ہوتی ہے اور فارغ اوقات میں کیا کرتے ہیں؟

ج: نمازِ فجر کے لیے اُٹھ جاتا ہوں۔فارغ اوقات میں گھومنا پھرنا میرا پسندیدہ مشغلہ ہے۔

س:عشق و محبّت کا زندگی میں کس حد تک دخل ہے،کبھی اِس تجربے سے گزرے، موسیقی سے کوئی شغف ہے؟

ج: عشق کے بغیر انسان نامکمل ہے اور اس کے کئی روپ ہیں،البتہ مَیں نے کبھی کسی سے عشق نہیں کیا۔ موسیقی پسند ہے۔فراغت کے لمحات میں ضرور سُنتا ہوں۔

س:سخت پریشانی کے عالم میں کس کے کندھے پر سَر رکھ کر رونے کو جی چاہتا ہے؟

ج: کوئی بھی پریشانی ہو، اللہ تعالی ہی سے رجوع کرتا ہوں کہ وہی کار ساز ہے۔

س:زندگی کی پہلی کمائی کب کی اور کتنی تھی؟پیسا خرچ کرتے وقت سوچتے ہیں؟

ج: چوں کہ والد صاحب کی علالت کے سبب کم سنی ہی میں کاروبار سنبھال لیا تھا، اس لیے پہلی کمائی یاد نہیں، لیکن پیسا سوچ سمجھ کر خرچ کرتا ہوں۔

س:کوئی ایسی چیز، جسے بدلنے کی خواہش ہے؟

ج: دنیا سے اسلحے کی دوڑ کا خاتمہ چاہتا ہوں، کیوں کہ طاقت کے حصول کے لیے پوری دنیا بارود کے ڈھیر پر کھڑی کر دی گئی ہے۔ اسلحے کی خریداری پر جتنا پیسا خرچ کیا جاتا ہے، اگر یہی پیسا عوام کی فلاح پر خرچ کیا جائے، تو دنیا سے طبقاتی نظام کا خاتمہ ہو سکتا ہے۔

س:کس مصنّف یا شاعر کو پڑھنا پسند کرتے ہیں؟

ج: زمانۂ طالبِ علمی سے مختلف موضوعات پر کتابیں پڑھنا پسند ہے۔علّامہ اقبال، حبیب جالب، پروین شاکر اور دیگر شعراء کو پسند کرتا ہوں۔

س:شادی سے پہلے کی زندگی بہتر ہوتی ہے یا بعد کی؟

ج: انسان کی زندگی کے مختلف ادوار ہیں اور تمام ہی خُوب صورت ہیں۔ شادی سے پہلے کی زندگی کا اپنا حُسن ہے، جب کہ شادی کے بعد ذمّے داریوں میں اضافہ ہو جاتا ہے۔

س:کام یاب زندگی گزارنے کا کوئی سنہرا اصول؟کیا زندگی میں جو چاہا،پالیا؟

ج: کام یاب زندگی گزارنے کے لیے محنت اور مسلسل جدوجہد ضروری ہے۔ عمران خان کی مثال آپ کے سامنے ہے، جن کی پوری زندگی جدوجہد سے عبارت ہے۔وہ سیاست میں آئے، تو طنز کا نشانہ بنے۔ پی ٹی آئی کو’’ تانگا پارٹی‘‘ کہا جاتا تھا۔ وزیرِ اعظم بننے کی باتوں کا تمسخر اڑایا گیا، لیکن اُنہوں نے اپنی محنت سے مخالفین کے منہ بند کر دئیے ۔ اللہ تعالی نے مجھے میری سوچ سے بھی بڑھ کر دیا اور جو خواہش کی، وہ پوری ہوئی۔ اب مزید کوئی خواہش باقی نہیں ہے۔

س:کون سی ڈشز اچھی لگتی ہیں، کیا خود بھی کچھ بنالیتے ہیں؟

ج: مَیں خوش خوراک ہوں اور اچھا کُک بھی۔ گوشت میری مرغوب غذا ہے۔ لاندھی روسٹ شوق سے کھاتا ہوں۔ کڑاہی گوشت اچھا بنا لیتا ہوں۔ جب سیّاحت کے لیے مختلف مقامات پر جاتے، تو زیادہ تر مَیں ہی کھانا تیار کرتا تھا، لیکن اب وقت ہی نہیں ملتا۔

س:کسی اور مُلک میں بسنے کا موقع ملے، تو کہاں رہنا پسند کریں گے؟

ج: مَیں نے کئی ممالک دیکھے، لیکن پاکستان جیسا خُوب صُورت مُلک کہیں نہیں۔ میری پہلی اور آخری ترجیح پاکستان ہی ہے۔

س:مُلک کا مستقبل کیا دیکھ رہے ہیں؟

ج: بہت زیادہ پُرامید ہوں۔ اگرچہ وَرثے میں مسائل کے انبار ملے، لیکن حکومت ان پر قابو پا رہی ہے۔سی پیک پاکستان کے روشن مستقبل کی ضمانت ہے اور اس کی تکمیل سے خطّے میں اقتصادی سرگرمیوں میں اضافہ ہو گا۔ بلوچستان میں سی پیک کے تحت جاری منصوبے تعمیرو ترقّی میں اہم سنگِ میل ثابت ہوں گے۔ ژوب سے کوئٹہ تک دو رویہ شاہ راہ سمیت متعدّد منصوبوں پرتیزی سے کام جاری ہے۔

س:کس بات پر غصّہ آتا ہے اور ردِعمل کیا ہوتا ہے؟

ج: جھوٹ برداشت نہیں ہوتا اور فوری طور پر ردّ ِ عمل کا اظہار بھی کر دیتا ہوں۔ البتہ، جب سے ڈپٹی اسپیکر کی ذمّے داری ملی ہے، غصّے پر قابو پانے کی کوشش کرتا ہوں۔

س:فیصلے درست کرتے ہیں؟دل کی سُنتے ہیں یا دماغ کی؟

ج: یہ تو نہیں کہہ سکتا کہ میرے تمام فیصلے درست ہوتے ہیں، لیکن سوچ سمجھ کر ہی فیصلہ کرتا ہوں اور اس پر قائم رہتا ہوں۔کبھی دِل کی سُنتا ہوں، تو کبھی دماغ کی مان لیتا ہوں۔

س:شہرت نے شخصیت پر کیا اثرات مرتّب کیے؟

ج: پہلے بھی عوام میں رہتا تھا اور اب اُن ہی کے درمیان رہنا پسند ہے۔ جب کوئی مجھے دیکھ کر خوش ہو، تو اُسے فوری ریسپانس دیتا ہوں۔ مجھے یہ اچھا لگتا ہے کہ آپ کی وجہ سے کسی کے چہرے پر مُسکراہٹ آ جائے۔

س:انسان قسمت کو بناتا ہے یا قسمت انسان کو؟

ج: بعض اوقات انسان قسمت کو بناتا ہے اور کبھی قسمت انسان کو بناتی ہے۔ دونوں پر یقین رکھتا ہوں۔

س:بچپن کا کوئی ایسا واقعہ، جسے یاد کر کے آج بھی لبوں پہ مُسکراہٹ آجاتی ہو؟

ج: بہت سے ایسے واقعات ہیں، جنہیں یاد کر کے چہرے پر مسکراہٹ آ جاتی ہے۔ بچپن میں اساتذہ کو بہت تنگ کیا کرتے تھے اور اس پر خوش بھی ہوتے تھے، لیکن آج سوچتا ہوں کہ ہمیں ایسا نہیں کرنا چاہیے تھا۔

س:ایک شخص آپ کے ساتھ وقت گزار کر جائے اور آپ کو لگے کہ آپ نے زندگی کا بہترین وقت گزارا، تو وہ شخص کون ہو گا؟

ج: وزیرِ اعظم، عمران خان کے ساتھ گزرا ہوا وقت ہمیشہ یاد گار رہتا ہے اور کوشش ہوتی ہے کہ اُن کے ساتھ زیادہ وقت گزاروں۔

س:کھیلوں سے کوئی دل چسپی ہے، کون سے کھیل، کھلاڑی اچھے لگتے ہیں؟

ج: کھیلوں سے بہت دِل چسپی ہے۔لڑکپن میں کرکٹ، سوئمنگ، فُٹ بال اور ہاکی کا دِل دادہ رہا۔ عمران خان اور شہباز سینئر پسندیدہ کھلاڑی ہیں۔

س:زندگی کا کون سا دَور سب سے اچھا لگتا ہے؟ اور خود کو کس عُمر کا تصوّر کرتے ہیں؟

ج: ہر دَور ہی خُوب صورت اور یادگار ہے۔ مجھے تو موجودہ دَور کافی پسند ہے۔ خود کو آج بھی نوجوان ہی تصوّر کرتا ہوں، کیوں کہ ہمارے قائد عمران خان بھی68سال کی عُمر میں نہ صرف چاق چوبند ہیں، بلکہ کم عُمر نظر آتے ہیں۔

س:کیا بُرا ہے، کوشش نہ کرنا یا کر کے ناکا م ہو جانا؟

ج: کوشش نہ کرنا بُرا ہے، کیوں کہ اگر آپ محنت کرتے ہیں اور ناکام ہو جاتے ہیں، تو اس سے آپ کافی کچھ سیکھتے ہیں۔ کام یابی کے لیے دوبارہ نہ صرف محنت کرتے ہیں،بلکہ سابقہ غلطیوں پر قابو پانے کی بھی کوشش کرتے ہیں۔

س:جو ہیں، وہ نہ ہوتے،تو کیا ہوتے؟

ج: بزنس مین ہی ہوتا۔

س:کون سا ایسا رشتہ ہے، جو کسی دوسرے رشتے سے بدل دینے کے خواہش مند ہیں؟

ج: ہر رشتہ اپنی جگہ قدر و قیمت رکھتا ہے۔ میری زندگی میں کوئی رشتہ ایسا نہیں، جسے کسی دوسرے سے بدلنے کا خواہش مند ہوں۔

س:کوئی ایسی یاد، جسے دل سے جُدا نہیں کرنا چاہتے؟

ج: والدین کی یادیں کبھی دِل سے جُدا نہیں کرنا چاہتا۔

س:اگر علم ہو جائے کہ یہ زندگی کے آخری چند گھنٹے ہیں،تو کیا کام کریں گے اور آپ کے دوستوں کو علم ہو جائے،تو سب سے پہلے کون دوڑا آئے گا؟

ج: زندگی کے آخری لمحات میں بھی مُلک و قوم کی بہتری کے لیے کوششیں کرتا رہوں گا اور اپنی خطائوں کی معافی بھی مانگوں گا۔ کئی ایسے دوست ہیں، جو بھاگے چلے آئیں گے۔

س:آپ کی کوئی انفرادیت؟ اور خود کو پانچ سال بعد کہاں دیکھ رہے ہیں؟

ج: شاید یہی انفرادیت ہے کہ لوگوں میں جلد گھل مل جاتا ہوں، عوامی شخص ہوں۔پانچ سال بعد بھی خود کو کوئٹہ ہی میں دیکھ رہا ہوں۔

س:پہلی بار سینما میں فلم کب دیکھی تھی اور کون سے اداکار پسند ہیں؟

ج: سینما کبھی نہیں گیا۔ آج کل فلمز دیکھنے کا وقت ہی نہیں ملتا۔ البتہ لاک ڈاؤن کے دوران ارطغرل ڈرامہ دیکھتا رہا۔ پاکستانی اداکار ہی پسند ہیں۔

س:ای میلز چیک کرتے ہیں اور میسیجز کا جواب دیتے ہیں؟

ج: جی ہاں، ای میلز اور واٹس ایپ میسیجز باقاعدگی سے چیک کرتا ہوں اور جواب بھی دیتا ہوں۔البتہ اسمبلی سیشن چوں کہ طویل ہوتے ہیں اور وہاں انٹرنیٹ کی سہولت بھی میّسر نہیں، اِس لیے فراغت ہی میں جواب دیتا ہوں۔

س:گھر سے نکلتے ہوئے کون سی 3چیزیں آپ کے ساتھ رہتی ہیں اور آپ کے والٹ کی تلاشی لی جائے، تو؟

ج: موبائل فون، لیپ ٹاپ اور تسبیح۔والٹ سے اے ٹی ایم کارڈز، کچھ نقدی اور ٹشو پیپرز ہی نکلیں گے۔

س: کوئی ایسا دن،جس کے بار بار آنے کی خواہش ہو؟

ج: عید ایسا موقع ہوتا ہے، جب اپنوں میں مل بیٹھنے کا وقت ملتا ہے۔ اس دن کے بار بار آنے کی خواہش رہتی ہے۔

س:ایک دُعا، جو ہمیشہ لبوں پر رہتی ہے؟

ج: یااللہ! مُلک و قوم کی حفاظت فرما۔

تازہ ترین