آپ آف لائن ہیں
جمعہ20؍ رجب المرجب 1442ھ 5؍مارچ2021ء
  • بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن
Jang Group

سال ۲۰۲۰ء بھی اپنے جلو میں بے شمار یادیں لیے رخصت ہورہا ہے۔ ان یادوں میں سے کچھ ناخوش گوار بھی ہیں۔ کیونکہ اس سال کورونا نے پوری دنیا کو لپیٹ میں لے لیا اور ہمارے کئی اہل قلم اور دانش ور بھی اس سے متاثر ہوئے۔ کچھ رخصت بھی ہوگئے۔

کورونا میں بندشِ عام یعنی لاک ڈائون کی وجہ سے کتابوں اور رسالوںکی طباعت و اشاعت پر بھی برا اثر پڑا ۔ نئی کتابوں اور رسالوں کی اشاعت کم رہی ۔ دراصل چند ماہ کتابوں کی دکانیں اور ناشرین کے دفاتر تقریباً مکمل طور پر بندش کا شکار رہے جس سے نئی کتابوں کی اشاعت پر بہت برا اثر پڑا۔ تاہم اچھی بات یہ ہے کہ تخلیق و تحریر کا سلسلہ جاری رہا، وبا کی شدت کم ہونے پر نئی کتابیں اور رسائل بھی منظر ِ عام پر آنے لگے ۔ بہت کچھ لکھا گیا ہے جو شاید اگلے چند مہینوں یا برسوں میں منظر ِ عام پر آئے گا۔ ممکن ہے وبا کے پس منظر میں تخلیق کیا گیا مزید اد ب بھی پڑھنے کو ملے۔

چندابتدائی مہینوں کو چھوڑ کر سال ۲۰۲۰ء میں کتب میلے منعقد نہ ہوسکے ، کانفرنسوں اور ادبی تقریبات کا انعقاد بھی نہ ہوسکا، لیکن کچھ ادبی کانفرنسیں برخط یعنی آن لائن منعقدہو ئیں ۔

جو کچھ ۲۰۲۰ء میں شائع ہوا اس کا مختصر جائزہ پیش ہے۔عرض ہے کہ اس جائزے میں تمام کتابوں کو شامل کرنا ممکن نہیں تھا لہٰذا اگر کسی کتاب یا رسالے کا ذکراس میں نہ ملے تو اسے عداوت کی بجاے میری کوتاہ دستی وکم علمی اور اخبار کی کم دامانی پر محمول کیجیے گا۔

٭… ناول و افسانہ

اس سال مستنصر حسین تارڑ خاصے فعال رہے ۔کورونا کے پس منظر میں لکھا گیا ان کا ناول ’’شہر خالی، کوچہ خالی ‘‘ شائع ہوا۔ ان کا ناولٹ ’’روپ بہروپ ‘‘ بھی سنگ ِ میل نے شائع کیا(ویسے ناولٹ کا لفظ اب انگریزی میں بہت کم استعمال ہوتا ہے اور اس کی بجاے لفظ ناولا (novella) رائج ہوگیا ہے لیکن اردو میں اب تک ناولٹ ہی مستعمل ہے)۔ محمد الیاس کی نئی کتاب ’’سرخ گلاب ‘‘ سال ۲۰۲۰ء میں شائع ہوئی جس میں ناولٹ اور افسانے شامل ہیں۔ ان کا ناولٹ ’’مایا کو مایا ملے ‘‘ بھی منظر ِ عام پر آیا ۔ معروف نقاد اور محقق ناصر عباس نیر باقاعدہ افسانہ نگاری کرنے لگے ہیں اور ان کے افسانوں کا ایک اور مجموعہ اس سال سامنے آ یا جس کا عنوان ہے’’ایک زمانہ ختم ہوا ہے ‘‘ ۔

٭… سوانحی ادب

سوانح عمری، خود نوشت سوانح( یعنی آپ بیتی)، سفرنامے ، رپور تاژ اور شخصی خاکوں کو سوانحی ادب کے زمرے میں رکھا جاتا ہے ۔ وبا کی اس خزاں کے باوجود اس صنف ِ ادب پر اردوکے چمن میں بہار آئی ہوئی ہے اور بڑی تعداد میں آپ بیتیاں ، خاکے ، رپور تاژ اور سفرنامے لکھے جارہے ہیں۔ اس سال مستنصر حسین تارڑ کے دو سفرنامے ’’صنم کدہ کمبوڈیا‘‘ اور ’’ویت نام تیرے نام‘‘ شائع ہوئے۔

محمد شمس الحق صاحب ،جو اردو اشعار کے انتخاب کی کئی جلدیں مرتب کرچکے ہیں ،مارچ ۲۰۲۰ء میںسو (۱۰۰) سال کے ہوگئے اور انھوں نے سوسال کی عمر میں اپنی خود نوشت ’’آئو پھر گزرے ہوئے ایام کی باتیں کریں ‘‘ بھی شائع کروادی۔

راشد اشرف اس سال بھی کچھ اہم کتابیں منظر ِ عام پر لائے جن میں ایک ایسی کتاب بھی شامل ہے جو مشفق خواجہ کے ایک طویل مضمون پر مبنی ہے۔ اس کا نام ’’اردو کی مختصر آپ بیتیاں ‘‘ہے۔ مشفق خواجہ کو آپ بیتیوں سے بہت دل چسپی تھی اور ان کے ذاتی کتب خانے میں خود نوشتوں کی بہت بڑی تعداد محفوظ تھی۔ اردو اکادمی (بہاول پور) نے ۱۹۶۴ء میں اپنے رسالے ’’الزبیر ‘‘کا آپ بیتی نمبر شائع کیا تو اس میں مشفق خواجہ کا ایک طویل مقالہ شامل تھا جو اردو کی مختصر آپ بیتیوں کے موضوع پر تھا اور تقریبا ًسوادوسو صفحات پر محیط اس مقالے میں اردو کی مختصر لیکن اہم خود نوشتوں کے طویل اقتباسات بھی شامل تھے ۔ اسی طویل مضمون کو محمود احمد کاوش نے بڑی کاوش سے حواشی کے ساتھ کتابی صورت میں مرتب کردیا ۔ البتہ اس ترتیب وتدوین کے دوران میںمحمود کاوش کو کچھ اضافی موادمختصر آپ بیتیوں سے متعلق اور کچھ مزید مختصر آپ بیتیاں دست ہوئیں۔ یہ سب انھوں نے کتاب کے دوسرے حصے میں شامل کردیا ۔

معروف مغنیہ ملکہ پکھراج کی خود نوشت ’’بے زبانی زباں نہ ہوجائے‘‘کراچی سے اجمل کمال کے ادارے آج سے شائع ہوگئی ۔ اس کاانگریزی روپ پہلے شائع ہوگیا تھا۔ نجیبہ عارف کی خوب صورت خود نوشت ’’راگنی کی کھوج میں‘‘لاہور سے قوسین نے کتابی صورت میں شائع کر دی۔ اس سے قبل یہ آپ بیتی ادبی جریدے’’ مکالمہ ‘‘ میں قسط وار شائع ہوکر دھوم مچا چکی تھی۔نجیبہ عارف کی کتاب تو تصوف کے مراحل کوسمجھنے اور مرشد کو کھوجنے کی پُراسرار کہانی ہے جس میں تصوف کے بعض نکات انھوں نے کمال سہولت اور روانی سے بیان کردیے ہیں لیکن ان کے شریکِ سفرِ حیات محمد عارف جمیل کا سفرنامہ نما رپورتاژ ، جسے رپور تاژنما سفرنامہ بھی کہا جاسکتا ہے،روحانی تجربات سے گزرنے کی سرشاری کا عجیب قصہ ہے۔ 

یہ عمرے کے لیے دیار ِمقدس جانے اور وہاں عجیب و غریب باطنی کیفیات سے گزرنے کا مسحور کن بیان بھی ہے اور خود کو پانے کے سفر کی دل چسپ کہانی بھی۔ یہ رپورتاژ بھی ’’مکالمہ‘‘ میں ’’حاضر سائیں‘‘کے عنوان سے قسط وار شائع ہوتا رہا اور اس نے بھی قارئین کو یوں حیران کیا کہ یہ عارف صاحب کی پہلی کتاب بلکہ پہلی باقاعدہ ادبی تحریر ہے۔ بیٹی اور داماد کی ان دو کتابوں کی اشاعت کے بعد ہدیہ ظفر صاحبہ کیوں پیچھے رہتیں ،انھوں نے بھی تیز قلمی سے اپنی دل چسپ خود نوشت لکھ ڈالی اور یہ ’’جیون دھارا‘‘کے نام سے عکس پبلی کیشنز (لاہور) نے شائع کی۔یہ کتاب عمر کی تقریباًپچاسی بہاریں دیکھنے کے بعد لکھی گئی ہے ۔

آپ بیتیوں کے ضمن میں ایک بہت اہم اور قابلِ قدر کام عقیل عباس جعفری نے کیا ۔ انھیں فٹ پاتھ سے ایک فائل دست یاب ہوئی جس میں معروف صحافی، کالم نگار اور مزاح نگار نصر اللہ خاں صاحب کی خود نوشت ’’اک شخص مجھی سا تھا‘‘ کی چند کے سوا تمام اقساط محفوظ تھیں۔روزنامہ’’ حریت ‘‘(کراچی) میں شائع ہونے والی اس خود نوشت کی کچھ اقساط کا کچھ حصہ کٹا پھٹا تھا۔ جعفری صاحب نے جستجو اور کاوش سے تمام اقساط مہیا کیں ۔ راشد اشرف نے تعارف اور حواشی لکھے، بقیہ حواشی عقیل عباس جعفری نے لکھے۔ اس طرح ایک اہم ادیب کی یہ اہم خود نوشت دوبارہ زندہ ہوگئی۔کتاب میں نصراللہ خاں کی زندگی کے اہم واقعات کے علاوہ برعظیم پاک و ہند کی سیاسی، ادبی، صحافتی اور سماجی تاریخ کے اہم واقعات اور بعض اہم شخصیات کا احوال بھی موجود ہے۔ریڈیو پاکستان کراچی کے ابتدائی دور کا حال بھی متاثر کن انداز میں بیان ہوا ہے ۔

نصراللہ خان ریڈیو سے بھی وابستہ رہے تھے۔ اس میں بعض اہم ادبی اور تاریخی واقعات کی باز گشت بھی ہے اور بعض واقعات مصنف کے آنکھوں دیکھے ہیں، مثلاً کس طرح محترمہ فاطمہ جناح کی تقریر کا وہ حصہ ریڈیو پاکستان سے نشر نہیں کیاگیا جس میں حکومت پر نکتہ چینی کی گئی تھی۔ان کی تقریر کے دوران میں ایک و قفہ آگیا اور اس وقفے کو معروف صحافی سلہری صاحب نے محسوس کرلیا اور محترمہ فاطمہ جناح سے رابطہ کیا جس کے بعد ایک طوفان کھڑا ہوگیا کہ مادر ِ ملت کی تقریر کو سنسر کرنے کی جرأت کس نے کی۔بعض دیگر اہم تاریخی اور ادبی شخصیات کا ذکربھی اس خود نوشت میں دل چسپ اور شگفتہ انداز میں بیان ہوا ہے۔

رپور تاژ کو بھی سوانحی ادب میں شمار کیا جاتا ہے اوراس سال معروف افسانہ نگار مسعود مفتی کا رپور تاژ ’’دو مینار ‘‘اوکسفرڈ کے زیر اہتمام شائع ہوا۔ افسوس مسعود مفتی صاحب بھی۲۰۲۰ء میں داغِ مفارقت دے گئے۔ اس کتاب میں انھوں نے پاکستان کو ایک مینار فرض کیا ہے اور دوسرا مینار وہ خود ہیں۔ انھوں نے پاکستان بننے سے پہلے اور بعد کے حالات و واقعات بالخصوص افسر شاہی کے تناظر میں تاثراتی انداز میں بیان کیے ہیں۔لیکن یہ ایک ایسے حسّاس، دردمند اور محبِ وطن پاکستانی کا آنکھوں دیکھا بیان بھی ہے جس نے پاکستان بنتے اور بقول ان کے بگڑتے دیکھا۔ ان کا خیال تھا کہ پاکستان کے ابتدائی عشرے کے بعد نوکر شاہی میں خرابی کے بعد پاکستان میں بھی خرابیاں نمایاں ہونے لگیں۔

مبین مرزا نے ’’ اردو کے بہترین شخصی خاکے ‘‘ کے عنوان سے تین جلدوںمیں اردو کے بہترین خاکے مرتب کیے تھے جس کا دوسرا ایڈیشن نیشنل بک فاؤنڈیشن نے شائع کر د یا۔ مبین مرزا کے تحریر کردہ شخصی خاکوں کا مجموعہ ’’ارژنگ ‘‘ بھی شائع ہوگیا ۔ اس میں شامل نامور شخصیات کے خاکے اس سے قبل ادبی جرائد میں شائع ہوکر قارئین سے داد پاچکے ہیں۔

٭… طنزومزاح

نثری ادب میں مزاح نگاری کا رجحان کم ہورہا ہے۔ اچھے مزاح نگار سامنے نہیں آرہے اور بزرگ مزاح نگار نہیں رہے۔ایسے میں حسین احمد شیرازی کا دم غنیمت ہے۔ انھوںنے اپنی پہلی کتاب ’’بابو نگر‘‘ کی اشاعت سے ادبی حلقوں میں اپنی شاخت بنالی تھی ۔ اب ان کی دوسری کتاب ’’دعوت ِ شیراز‘‘ سنگ میل نے شائع کی ہے جس میں ان کا مخصوص اسلوب اور خوب صورت زبان موجود ہے۔شعروادب کے حوالوں سے شیرازی صاحب کے مزاح میں گہرائی اور تنوع پید اہوجاتا ہے۔ نوجوان مزاح نگار ذوالفقار علی تسلسل سے مزاح لکھ رہے ہیں اور اس سال ان کے مزاحیہ مضامین کا ایک اور مجموعہ منظر ِ عا م پر آیاجس کا نام ’’اٹکھیلیاں ‘‘ ہے۔

٭… تحقیق و تنقید

اردو کے ایک بڑے نقاد اور تنقید کے دبستانِ روایت کے بانی محمد حسن عسکری کے سوسالہ یوم ِ پیدائش کے موقعے پر ۲۰۱۹ء میں کچھ کتابیں منظر ِ عام پر آئیں ۔ یہ سلسلہ ۲۰۲۰ء میں بھی جاری رہا۔ 

اشتیاق احمد نے ’’محمد حسن عسکری اور جدیدیت ‘‘ کے عنوان سے ممتاز اہلِ علم کے عسکری صاحب پر لکھے گئے اہم مقالات و مضامین یک جا کردیے۔ 


امجد طفیل اور ریاظ احمد نے سہ ماہی ’’استعارہ‘‘ (لاہور)کا محمد حسن عسکری نمبر شائع کیا جس میں چند ایک مضامین کو چھوڑ کر سب نئے مضامین و مقالات ہیں اور بعض مضامین بہت فکر انگیز ہیں۔

اس سال غالبیات کے ضمن میں تنظیم الفردوس صاحبہ کے مرتبہ ’’ خطوط غالب ‘‘کا انتخاب شائع ہوا ۔ غالب کے مکاتیب کا یہ عمدہ انتخاب ،جس میں مولفہ کا مقدمہ بھی شامل ہے، اوکسفرڈ نے شائع کیا ہے۔


معروف ماہر اقبالیات محمد حمزہ فاروقی کی تحقیقی کتاب ’’حیات ِ اقبال کے چند مخفی گوشے‘‘ کا دوسرا ایڈیشن اکادمی بازیافت (کراچی)نے شائع کیا۔ خاص بات یہ ہے کہ اس نئے ایڈیشن میں مصنف نے اقبال کی کتاب ’’زبورِ عجم‘‘ سے متعلق اہم تحریریں شامل کی ہیں جو اب تک’’ انقلاب ‘‘ (لاہور)کی فائلوں میں مدفون تھیں۔ تازہ ایڈیشن میں تازہ حواشی و تعلیقات بھی شامل ہیں۔یہ کتاب اقبال کی زندگی کے بعض اہم واقعات بیان کرتی ہے۔ افسوس کہ حمزہ فاروقی صاحب کی اس کتاب اور ان کی دوسری کتاب ’’سفر نامۂ اقبال ‘‘ پر بھی یار لوگوں نے ہاتھ صاف کردیا اور بغیر کسی حوالے کے ان کتابوں سے خاصا مواد لے کر صاحب ِ کتاب اور ماہراقبالیات بن بیٹھے۔

انتظار حسین ہمار ے اہم فکشن نگاروں میں شامل ہیں لیکن وہ نقاد بھی تھے اور ان کی کتاب ’’علامتوں کا زوال ‘‘اس ضمن میں معروف ہے۔ ان کے افسانوں اور ناولوں میں موجود علامات کے موضوع پر کتاب ’’علامتوں کا عروج ‘‘ کے نام سے آئی ہے جسے فکشن ہائوس (لاہور)نے شائع کیا ہے ۔ فرید حسینی نے اپنی اس کتاب میں انتظار صاحب کے افسانوں اور ناولوں میں موجود علامات کی تفہیم و تشریح پیش کی ہے۔ فرید حسینی کی دوسری کتاب بھی انتظار حسین پر ہے ۔ نام ہے’’ انتظار داستان ‘‘اور اسے اکادمی بازیافت (کراچی)نے شائع کیا ۔ اس میں انتظار صاحب کے افسانوں اور ناولوں کی تفہیم و تشریح طور پر کی گئی ہے اور ہر تحریرکا فرداً فرداً الگ جائزہ لیا گیا ہے۔

ڈاکٹر جمیل جالبی مرحوم کو خراج ِ تحسین پیش کرنے کے لیے لکھے گئے تنقیدی و تاثراتی مضامین کا مجموعہ زاہد منیر عامر نے مرتب کیا اور یہ’’ ارمغانِ جمیل ‘‘کے نام سے شائع ہوا۔ ہندوستانی محقق پروفیسر عبدالحق صاحب کی کتاب’’ ولی کا تہذیبی مطالعہ مع فرہنگ ‘‘ادارۂ یادگار ِ غالب نے شائع کی۔ مجاہد بریلوی کی حبیب جالب پر لکھی ہوئی کتاب ’’جالب ، جالب‘‘ کا چھٹا ایڈیشن شائع ہوا۔

اردو ناول کی عمر اب ڈیڑھ سو سال ہوچلی ہے۔ اکادمی ادبیات پاکستان نے اپنے رسالے ’’ادبیات ‘‘ کا ضخیم ناول نمبر دو جلدوں میں شائع کیا۔ اس رسالے میں اہم مباحث ہیں اورناول کے فن اور اردو ناول کو مختلف زاویوں سے دیکھا گیا ہے۔ اس شمارے کی ایک خاص بات اردو کے ناولوں کی فہرست ہے جس میں اردو کے تقریباً تین ہزار ناولوں کا ذکر ہے۔ راقم الحروف کی ایک کتاب پاکستانی اردو ادب کے ستر سال کے موضوع پر اکادمی ادبیات پاکستان (اسلام آباد)نے شائع کی لیکن یہ انگریزی میں ہے۔

٭…زبان و لغت و عروض

امیر مینائی کی مرتّبہ ایک اردو بہ فارسی لغت ’’بہار ِ ہند‘‘ کے نام سے تھی جو غیر مطبوعہ رہی۔ لیکن اسے عتیق احمد جیلانی اور رفیق احمد خاں نے مرتب کردیا جو حیدرآباد (سندھ) سے شائع بھی ہوگئی ۔ یہ ایک اہم کام ہے اور اس کی اشاعت خوش آئند ہے ۔ لغت کے موضوع پر بی بی امینہ کا مقالہ ’’اردو لغت تاریخی اصول پر: تحقیقی اورتنقیدی مطالعہ ‘‘انجمن ترقی ٔ اردو نے شائع کیا ۔ 

اردو لغت بورڈ کی بائیس جلدوں پر مبنی لغت کا یہ ایک عمدہ تحقیقی مطالعہ ہے۔نثار احمد کی’’ فرہنگ ِکلیات ِقلی قطب شاہ‘‘ ادارۂ یاد گار غالب نے شائع کردی ۔

عبداللہ خاں خویشگی کی’’ فرہنگ ِعامرہ ‘‘ اردو میں مستعمل عربی، فارسی اور ترکی الفاظ کی لغت ہے۔ اس کے متعدد ایڈیشن شائع ہوچکے ہیں لیکن اس کا ایک نیا ایڈیشن وصی اللہ کھوکھر کی تدوین و حواشی کے ساتھ سامنے آیا ہے ۔

ادارۂ فروغ ِ قومی زبان (اسلام آباد) نے غیر ملکیوں کو اردو سکھانے کے لیے ’’اردو سیکھیے‘‘ کے عنوان سے ایک کتاب شائع کی۔ 

اس کے مولفین شفیق انجم اورظفر احمد ہیں۔ اس میں جدید طریقے سے انگریزی کی مدد سے اردو سکھائی گئی ہے۔

خواجہ محمد عبدالرئوف عشرت لکھنوی نے عروض اور شاعری کی تفہیم کے لیے چار کتابیں لکھی تھیں جن کا نام شاعری کی پہلی، دوسری تیسری اور چوتھی کتاب تھا۔ 

ارشد محمود ناشاد نے ان کتابوں کی تدوین کے ساتھ ان پر اہم اور وقیع حواشی بھی لکھ دیے ، انھوں نے عشرت لکھنوی کی بعض آرا سے حواشی میں اختلاف بھی کیا ہے اور بعض اغلاط کی تصحیح بھی کردی ہے۔ اس طرح یہ کتاب زیادہ مفید ہوگئی ہے۔ اسے’’ تدریسِ علوم ِ شعریہ ‘‘ کے عنوان سے رنگ ِ ادب پبلی کیشنز (کراچی) نے شائع کیا۔

الف المحراث (جن کا اصل نام ممتاز انصاری تھا) اردو زبان و لغت کے ضمن میں بہت حساس تھے اور نئی اصطلاحات اور نئی تراکیب وضع کرتے رہتے تھے لیکن وہ بقولِ احمد ندیم قاسمی مقبول نہ ہوسکیں۔ الف المحراث نے ایک کتاب ’’اردو حریفۂ میکالے‘‘ کے نام سے لکھی تھی۔ یہ ایک طرح کی اردو لغت تھی جس میں الفاظ کی ترتیب انگریزی حروف کی بنیاد پر رکھی گئی تھی۔ جتنا عجیب کتاب کا نام اور ترتیب ہے اتنی ہی عجیب کتاب بھی ہے۔ لیکن اس میں بعض نہایت اہم اور غور طلب باتیں بھی آگئی ہیں۔ جی سی یو( فیصل آباد) کے شعبۂ اردو کے استاد سعید احمد نے اس کتاب کو مرتب کردیا اور اس پر ایک معلوماتی مقدمہ بھی لکھ دیا۔راقم کی مرتبہ کتاب ’’لغات: تحقیق و تنقید ‘‘میں لغت نویسی کے موضوع پر لکھے ہوئے معروف اہل علم کے مقالات جمع کیے گئے ہیں ۔ اسے کراچی سے سٹی بک پوائنٹ نے شائع کیا۔

٭…شخصیات

مہر عبدالحق ملتان سے تعلق رکھنے والے محقق ، نقاد اور ماہر لسانیات تھے ۔ ان کی شخصیت اور ادبی خدمات کا جائزہ شفیق انجم نے ’’ڈاکٹر مہر عبدالحق ‘‘ نامی کتاب میں لیا ہے جو ادارۂ فروغِ قومی زبان (اسلام آباد) نے اپنے ’’مشاہیر ِ اردو ‘‘ کے سلسلے کے تحت شائع کی۔ سکندر حیات میکن نے ’’ڈاکٹر رفیع الدین ہاشمی : شخصیت و خدمات ‘‘کے عنوان سے اپنے استاد اور معروف محقق و اقبال شناس ہاشمی صاحب کو خراج ِ تحسین پیش کیا ۔یہ کتاب مثال پبلشرز (فیصل آباد)نے شائع کی۔مجلس ترقی ٔادب (لاہور) نے حکیم مومن خاں مومن پر کلب ِ علی خاں فائق کی کتاب ’’مومن‘‘دوبارہ شائع کی۔

٭…متفرقات

ظفر حسین ظفر نے ’’سید مودودی کے خطوط ‘‘ کے نام سے مولانا مودودی کے چھیانوے خطوط مرتب کردیے اور ان پر حواشی لکھ کر انھیں مزید مفید بنادیا۔ خطوط کے عکس بھی کتاب میں شامل ہیں اوراہم بات یہ ہے کہ کتاب کے آخر میں اشاریہ بھی موجود ہے جو علمی کتابوں میں ناگزیر ہوتا ہے مگر اردو میں اسے بدعت سمجھ کر اس سے گریز کیا جاتا ہے۔ کتاب منشورات (لاہور) نے شائع کی ہے۔ شاہد صدیقی کے کالموں کا مجموعہ’’ زیر آسماں‘‘ کے عنوان سے سنگ میل کے زیر اہتمام منظر ِ عام پر آیا۔ مستنصر حسین تارڑ کے مضامین پر مبنی’’ تارڑ نامہ‘‘ کی ساتویں جلد شائع ہوئی۔