• بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن

زندگی رک گئی مگر شاعری کا سفر جاری رہا،کیسے نہ جاری رہتا ۔باہر ضرور لاک ڈائون ہوا تھا ،سوچ کے دروازے تو بند نہیں ہوئے تھے۔ہمارے جسم ضرور ماسک اور سینیٹائزر کے محتاج ہو کر رہ گئے تھے ، دل تو اسی آزادی سے دھڑک رہے تھے۔ زمین پر سناٹوں کا راج تھا مگر تخیل کا پرندہ تو نئے آسمانوں کی جانب مائل بہ پرواز تھا۔۲۰۲۰ ء اس لحاظ سے دنیا کی تاریخ کا اہم ترین اور بے حد منفرد سال ہے کہ اس سال ایک ایسی وبا نے پوری دنیا کو اپنی لپیٹ میں لے لیا جس کی وجہ سے ہنستی، مسکراتی،رنگ بکھیرتی ہوئی زندگی کی رونقیں پوری دنیا میں معدوم ہو گئیں کروڑوں افراد اس وبا سے براہ راست متاثر ہوئے اور سولہ لاکھ سے زائد افراد لقمۂ اجل بن گئے لیکن اس سے کہیں بڑھ کر اذیت ناک وہ خوف تھا جو ایک عفریت کی صورت ہمارے وجود میں پنجے گاڑ چکا تھا لیکن ہمارے تخلیق کاروں نے اس خوف کو شکست دی۔

اگرچہ ایک مرحلے پر روز بروز یہ تشویش بڑھتی جارہی تھی کہ لاک ڈائون اور معاشی ابتری کی صورتِ حال میں ادبی رسائل اورکتابیں کیسے شائع ہوں گی ؟ لیکن اب دسمبر ۲۰۲۰ء کے ختم ہونے تک اردو شاعری کے کئی مجموعے اور ادبی رسائل سامنے آئے ہیں اور اس بات پر یقین بڑھ گیا ہے کہ کورونا وائرس نامی ایک حقیر ترین مخلوق کے سامنے انسان کے احساسِ شکست ،بے چارگی اور اس کے نتیجے میں جنم لینے والی تنہائی سے شاعر کے تخلیقی وجود نے توانائی حاصل کی ہے۔ 

لہٰذا نہ صرف یہ کہ آن لائن رابطوں کا سلسلہ بڑھا،فیس بک پر بے شمار غزلیں اور نظمیں اس حوالے سے پڑھنے کو ملیں بلکہ شاعری کو یکجا کر کے جلد از جلد دوسروں کے سامنے لانے کا رجحان بھی تمام تر مشکلات کے باوجود قائم رہا۔شاعری کی جو کتابیں ۲۰۲۰ء میں شائع ہوئیںاُن سب کی دست یابی اور جائزہ تو یہاں ممکن نہیں تاہم کچھ اہم کتابوں کا ذکر ذیل میں کیا جارہا ہے تاکہ گھٹن اور مایوسی کی اس کیفیت میںشاعری کے حوالے سے خوش امیدی اور خوش امکانی کے نئے دریچے کھل سکیں ۔

کلیات و انتخاب:

کلیات ،خواہ نثر کی ہو یا شاعری کی، اس میں تخلیق کار کا سارا شعری سرمایہ سمٹ کر یک جا ہوجاتا ہے اور اس کے فکر ی و فنی ارتقا کا ایک پورا منظر نامہ آنکھوں کے سامنے آجاتا ہے۔رواں برس بھی شاعری کی کچھ کلیات شائع ہوئیں جن میں تر تیب و تدوین کاسب سے اہم کام ڈاکٹر ہلال نقوی نے کیاجن کی شخصیت رثائی ادب اور جوش شناسی کا ایک معتبر حوالہ ہے۔ انھوں نے بیسویں صدی کے عظیم شاعر ،جوش ملیح آبادی کے دو درجن سے زائد مجموعوں کے علاوہ ریڈیو، ٹیلی ویژن کے پروگرامزاور رسائل و جرائد میں جوش ملیح آبادی کے بکھرے ہوئے کلام کو نہ صرف یکجا کیا بلکہ ان پر حواشی اور فٹ نوٹ بھی تحریر کیے۔جوش کا پہلا مجموعہ ’’روح ِادب‘‘ ۱۹۲۰ء میں شائع ہوا تھا جب ایک وبا نے دنیا کو اپنی لپیٹ میں لے رکھا تھا اور اب ۲۰۲۰ کے وبائی ماحول میں ڈاکٹر ہلال نقوی نے جوش جیسے بڑے شاعر کی شاگردی کا حق ادا کرتے ہوئے اس کلیات کو مرتب کیا ہے۔یہ ضخیم اور وقیع کام تین جلدوں پر مشتمل ہے ۔اگرچہ اس میں جوش کی طویل نظم ’’حرف ِ آخر‘‘ عدم دست یابی کے سبب مکمل طور پر شامل نہیں ہو سکی ہے لیکن یقینا ً جوش کے فکر و فن پر اس کام سے تحقیق کے نئے در کھلیں گے اور ناقدین اور محققین کو جوش کی فنی و فکری جہات پر پوری کلیت کے ساتھ بات کرنے کا موقع ملے گا ۔

عذرا عباس نے اپنے رنگ و آہنگ ،نئی لفظیات ،جرات مندانہ طرزِ اظہاراور سیاسی ،سماجی و نسائی شعور کی بنا پر بطور خاص نثری نظم میں اپنا اعتبار قائم کیا۔ان کی شعری کلیات ’’اداسی کے گھائو ‘‘ کے نام سے اسی برس شائع ہوئی ۔جس میں ان کی طویل نظم ’’ نیند کی مسافتیں ‘‘ سمیت تمام دیگرشعری مجموعے ’’میز پر رکھے ہاتھ‘‘،’’ میں لائنیںکھینچتی ہوں‘‘،’’ حیرت کے اس پار‘‘،’’اندھیرے کی سرگوشیاں‘‘ اور ’’ بھیڑ میں‘‘شامل ہیں ۔شاعری اور تحقیق و تنقید سے مسلسل وابستگی رکھنے والے ڈاکٹر فہیم شناس کاظمی نے بھی نثری نظم کی اہم شاعرہ سارہ شگفتہ کی کلیات ترتیب دی جس کی اشاعت اسی سال ہوئی۔سارہ شگفتہ کی شخصیت اور زندگی مختلف المیوں کا شکار رہی ۔اس کلیات میں اُن کے اردو اور پنجابی کے شعری مجموعوں، غیر مطبوعہ نظموں ، اور کچھ پنجابی نظموں کے اردو تراجم کے علاوہ امرتا پریتم اور احمد سلیم کی تاثراتی کتابیں بھی موجود ہیں ۔ 

خاص طور پر نام ور اہل قلم کے سارہ شگفتہ کے بارے میں لکھے گئے مضامین کو فہیم شناس کاظمی نے ’’ خودکشی کے بعد‘‘ کے نام سے ترتیب دے کر اس کلیات میں شامل کر لیا ہے اس طرح یہ کلیات سارہ شگفتہ پر ایک اہم دستاویز کی صورت اختیار کر گئی ہے ۔رابعہ پنہاں بیسویں صدی کی تیسری، چوتھی اور پانچویں دہائی کی ایک اہم شاعرہ ہیں ایک ایسے وقت میں جب خواتین کا لکھنا معیوب سمجھا جاتا تھارابعہ پنہاں کا کلام بر صغیر کے اہم ادبی جرائد میں شائع ہوا کرتا تھا وہ اردو اور فارسی دونوں زبانوں میں شعر کہتی تھیں اگرچہ ان کا بہت سا کلام ضائع ہوگیا لیکن اُن کی صاحب زادی حمرا خلیق (افسانہ نگار اور خاکہ نگار)نے ان کی دست یاب اردو غزلیات و منظومات کے علاوہ فارسی شاعری اور رابعہ پنہاں کی جواں مرگ صاحب زادی فردوس انجم کا بھی کچھ کلام ’’کلام رابعہ پنہاں‘‘ میں شامل کردیا ہے۔رابعہ پنہاں کی شاعری سادگی و سلاست اور صداقتِ جذبات کے ساتھ کلاسیکی روایات کی پاس دار ہے۔

پچاس کی دہائی کی ایک معروف شاعرہ بلقیس جمال کے دو شعری مجموعے ’’ آئینۂ جمال ‘‘ اور’’ قوسِ قزح ‘‘ اُن کی زندگی ہی میں شائع ہوئے تھے اور پابند نظموں پر مشتمل تھے ۔اب اس کلیات میں حمرا خلیق نے مذکورہ دونوں مجموعوں کے علاوہ اُن کی غزلیں ،دیگر غیر مدون کلام اور کچھ فارسی کلام بھی شامل کردیا ہے ۔پابند نظمیں اور درمیانے درجے کی طویل نظمیںزیادہ تر مثنوی، مسدس، مخمس یا مستزاد کی ہیئتوں میں ہیں ۔ان نظموں میں قومی و ملی شعور اور سماجی صورتِ حال سے آگہی کے ساتھ قومی معاملات کو سمجھنے اورخواتین کو اپنا سماجی کردار ادا کرنے کی طرف آمادہ کیا گیاہے۔’’کلیاتِ ن م راشد‘‘ کا نیا ایڈیشن اور محسن نقوی کی کلیات کا تیسرا ایڈیشن بھی اس سال شائع ہوا۔

کلیات کے علاوہ شاعری کا انتخاب شائع کرنے کا سلسلہ بھی جاری رہا ۔اگرچہ ’’دنیازاد‘‘ کا وبا نمبر بھی آیا جو آصف فرخی اپنی زندگی میں ہی مرتب کر گئے تھے لیکن اس شمارے میں وبا سے متعلق صرف شاعری ہی نہیں بلکہ نثری تحریریں بھی ہیںتاہم اس سلسلے میں لٹرری فورم آف نارتھ امریکا سے تعلق رکھنے والے معروف شعرا ڈاکٹر رضوان علی اور ڈاکٹر عابد رضا نے وبا کے تناظر میں لکھی جانے والی غزلوں اور نظموں کا انتخاب ایک مختصر سی کتاب کی صورت میں شائع کیا ۔اگرچہ اس میں بہت سی اچھی نظمیں اور غزلیں شائع ہونے سے رہ گئیں تاہم ’’گوشوارہ‘‘ ( قرنطینہ ایڈیشن) کے نام سے یہ کتاب وبائی صورت حال پر شاعری کا پہلا اور اچھاانتخاب ہے ۔تنویر انجم نے غزلیں بھی کہی ہیں لیکن ان کی اصل شناخت نظم ہے اور وہ بھی نثری نظم ۔اُن کی نظمیں ارد گرد پھیلی ہوئی تنہائی ،اداسی،درد،اذیت اور محبت کے علاوہ طبقاتی و نسائی شعور سے تشکیل پاتی ہیں ۔ان نظموں میں ان کے لہجے کا دھیما پن نمایاں ہے۔ 

اس سال ’’ نئی زبان کے حروف ‘‘ کے نام سے اُن کی ایک کتاب شائع ہوئی ہے جس میں انھوں نے اپنے سات شعری مجموعوں ’’ان دیکھی لہریں‘‘،’’سفر اور قید میں نظمیں ‘‘،’’ طوفانی بارشوں میں رقصاں ستارے‘‘،’’ زندگی میرے پیروں سے لپٹ جائے گی‘‘،’’ نئے نام کی محبت‘‘ ،’’حاشیوں میں رنگ ‘‘ اور ’’ فریم سے باہر ‘‘ سے بذاتِ خود اپنی شاعری کا انتخا ب پیش کیا ہے۔نجمہ منصور کا نام بھی اب نثری نظم کا ایک اہم حوالہ بن چکا ہے ۔ 

ان کے چھے نظمیہ مجموعے اور ایک کلیات اس سے قبل شائع ہوئی ۔حال ہی میں ڈاکٹر روش ندیم اور حفیظ تبسم نے ان کی نظموں کا ایک انتخاب کیا جو ’’ محبت کا روزنامچہ اور دوسری نظمیں کے عنوان سے شائع ہوا ۔نجمہ منصور کی شاعری کی سب سے بڑی خصوصیت فطری سادگی او ر خود کلامی کا رنگ ہے ۔تازہ کار لہجے کے بہت عمدہ شاعر دلاور علی آزر نے ’’ایک پردہ سخن سے آگے ہے ‘‘ کے نام سے جاوید احمد کی غزلوں کا انتخاب پیش کیا ۔یہ انتخاب جاوید احمد کے دو گزشتہ مجموعوں اور تازہ غزلوں سے کیا گیا ہے اور ایک اچھی کاوش ہے۔

شعری مجموعے:

رواں برس کئی بہت عمدہ شعری مجموعے شائع ہوئے ۔پہلے عقیدت پر مبنی شاعری کی بات ہوجائے۔’’قبلۂ مقال‘‘ کے نام سے مقصود علی شاہ کا نعتیہ مجموعہ شائع ہوا ۔ادبی شان کی حامل یہ نعتیں جذبے اور وفور سے لبریز ہیں اور ان میں سلیقۂ اظہار کے ساتھ عقیدت اور وارفتگی کا احساس بہت نمایاں ہے۔نعتوں کا ایک اور بہت عمدہ مجموعہ ’’سیدی‘‘ کے نام سے آیا اوریہ سعادت دلاور علی آزر نے حاصل کی جو غزل گوئی میں بھی اپنی ہنرمندی کے جوہر دکھاچکے ہیں ۔یہ ان کا دوسرا نعتیہ مجموعہ ہے ۔غیر روایتی اسلوب، سرشاری و سپردگی، لہجے کی اثر آفرینی اور معنوی حسن سے بھرپور یہ مجموعہ یقیناً اردو کی نعتیہ شاعری میں ایک بہت اچھا اضافہ ہے۔ڈاکٹر افتخار ارقم کا ’’ربنا لک الحمد‘‘ (حمد) ،نسیم سحر کا ’’محورِ دو جہاں‘‘ (حمد، نعت، منقبت)،’’محمد مظہر نیازی کا ’’ ابر رحمت‘‘(نعت)،’’ قمر آسی کا ’’عطا‘‘(نعت)،’’ ریاض ندیم نیازی کا ’’فیضانِ اولیا‘‘ اور ’’ گلزارِ اہلِ بیت‘‘( منقبت) اسی برس شائع ہوئے۔

نام ور اور مقبول شاعر امجد اسلام امجد کا تازہ ترین شعری مجموعہ ’’ ایک گرہ کھل جانے سے ‘‘خوب صورت سرورق کے ساتھ منظرِ عام پر آیا۔ اس مجموعے میںاُن کے دیگر مجموعوں کے مقابلے میں سب سے زیادہ غزلیں ،نظمیں اورنسبۃً طویل نظمیں بھی شامل ہیں ۔ترتیب کے لحاظ سے یہ ان کا سترھواں مجموعہ ہے اس میں شامل نظمیں ان کی نظموں کے عمومی مزاج سے قدرے مختلف ہیں نیز ان میں بعض فلسفیانہ موضوعات کے علاوہ کورونا کے بعد ابھرنے والے مسائل اور انسانی برادری کی اجتماعی سوچ میں تغیر کے اشاریے بھی موجود ہیں ۔صابر ظفر کا پہلا مجموعہ ’’ابتدا‘‘ ۱۹۷۴ء میں آیا اور وہیں سے بحیثیت شاعر اُن کی مقبولیت کا آغاز ہوا ۔اس سال صابر ظفر کا تینتالیس واں (۴۳) شعری مجموعہ ’’ جمالِ آب سے وصال‘‘ شائع ہوا ہے ۔غزلیہ شاعری کی روایت میں اسالیب، لفظیات اور موضوعات کے تنوع اور جمالیاتی سرشاری کی بنا پر وہ اپنے معاصر شعرا میں امتیازی مقام کے حامل ہیں ۔ممتاز شاعر، ڈراما نگار اور ڈائریکٹر سرمد صہبائی شاعری میں اپنی نظموں کی وجہ سے بہت مشہور ہوئے لیکن ان کی غزلیں بھی سب سے الگ اور سب سے منفرد ہیں ۔اشرف سلیم نے (جو خود بھی اچھی غزل کہتے ہیں اور غزل کے رمز آشنا ہیں ) سرمد صہبائی کے گزشتہ چار شعری مجموعوں ’’ان کہی باتوں کی تھکن‘‘،’’ نیلی کے سو رنگ‘‘،’’ ماہِ عریاں ‘‘ اور پل بھر کی بہشت‘‘ میں شامل غزلوں کے علاوہ ان کی تازہ غزلوں کو جمع کرکے’’ سب سے الگ ‘‘ کے نام سے شائع کیا ہے ۔

سرمد صہبائی کی غزلیں اردو غزل کی عظیم روایت کا تسلسل بھی ہیں اور موضوعات، لفظیات اور اظہار کی سطح پر معاصر غزل سے مختلف بھی۔ان غزلوں کا تخلیقی حسن اور تہ داری قابلِ داد ہے۔نثری نظم کی کوئی بھی تاریخ افضال احمد سید کے ذکر کے بغیر مکمل نہیں ہوسکتی لیکن وہ غزل کی روایت سے بھی وابستہ رہے ہیں ۔ ۱۹۸۶ء میں ان کی غزلوں کا ایک مجموعہ ’’ خیمۂ سیاہ‘‘ کے نام سے شائع ہوا اور ان کی غزلوں نے اپنے منفرد اسلوب اور معنوی تہ داری کی بنا پر ناقدین کی توجہ حاصل کی۔ اس سال ’’خیمہ ٔ سیاہ اور امروز نارسیدہ‘‘ کے نام سے ان کی غزلوں کا ایک اور مجموعہ شائع ہوا ہے جس میں نئے مجموعے کے علاوہ ’’ خیمۂ سیاہ‘‘ کا تمام کلام بھی شامل ہے۔

سماجی اور سیاسی جبر کے سامنے ادب ہمیشہ ایک مزاحمتی قوت بن کر کھڑا رہا ہے لیکن اگراردو ادب کی درجہ بندی نسائی شعور اور مزاحمتی ادب کے حوالے سے کی جائے تو ان میں کشور ناہید کا نام ضرور شامل ہو گاجنھوں نے اپنی غزلوں اور نظموں میں مسلسل یہ مزاحمت جاری رکھی ۔اس سال بھی کشور ناہید کی نثری نظموں کا مجموعہ ’’ دریا کی تشنگی ‘‘ کے نام سے شائع ہوا ۔کشور ناہید کے خاص اسلوب میں یہ نظمیںعصری صورتِ حال کی آئینہ دار ہیں ۔نثری نظم کا ذکر آئے تو جمیل الرحمن کے نام کو بھی کسی طرح نظر انداز نہیں کیا جاسکتا ۔

جمیل الرحمان غزلیں بھی لکھتے رہے ہیں اور علمِ عروض کے بھی زبردست رمز آشنا ہیں لیکن ان کی نثری نظمیں نہ صرف یہ کہ عصری شعور اور زندگی کی گہری معنویت کی حامل ہیں بلکہ ان میں خیال، موضوعات اور اظہار ہر سطح پر ہلکی سی تلخی کے ساتھ نیا تجربہ اور نیا شعور بولتا نظر آتا ہے ۔اُن کی تازہ نثری نظموں کا مجموعہ ’’ کنار شی ‘‘ خوب صورت سرورق کے ساتھ زیورِ طباعت سے آراستہ ہوا ہے۔شاعری، تنقید، علمِ عروض اور تدریس کے باب میں ڈاکٹرشاداب احسانی کا نام کسی تعارف کا محتاج نہیں ۔ان کا پہلا شعری مجموعہ ’’ پسِ گرداب‘‘ ۱۹۸۷ء میں شائع ہوا تھا ۔اب تینتیس (۳۳) برس بعد اُن کی غزلوں کا دوسرا مجموعہ ’’ غبارِ گریہ‘‘ کے نام سے شائع ہوا ہے ۔استعارات و تراکیب کی وسعت،باطنی کرب،ذاتی واردات اور اجتماعی صورت حال کا حامل یہ شعری مجموعہ اُن کے تخلیقی شعور کا بیّن ثبوت ہے۔

نظم کے باکمال شاعرڈاکٹر وحید احمدکی نظموں کی ایک بہت ہی عمدہ کتاب ’’ پریاں اترتی ہیں ‘‘ بھی اسی سال شائع ہوئی۔یہ ان کی نظموں کا چوتھا مجموعہ ہے جس کی نظمیں اپنے منفرد رنگ و آہنگ، دلکش اسلوب، اچھوتے اور نادر خیالات اور تازہ تر لفظیات کی بنا پر اردو نظم کے سرمائے میں ایک اضافے کی حیثیت رکھتی ہیں ۔یہ کتا ب ہمیں یہ قرینہ سکھاتی ہے کہ اظہار کی نئی راہیں کس طرح تلاش کی جاتی ہیں ۔ نسیم سید اگرچہ خوب صورت افسانے بھی لکھتی رہی ہیں لیکن بحیثیت شاعرہ انھوں نے غزل اور نظم دونوں میں اپنا اعتبار قائم کیا ہے ۔اس سے قبل ان کے دو شعری مجموعے ’’آدھی گواہی‘‘ اور ’’ سمندر راستا دے گا‘‘ منظرِ عام پر آچکے ہیں ۔رواں برس اُن کا ایک اور بہت ہی عمدہ مجموعہ ’’ تیلی بھر آگ‘‘ کے نام سے شائع ہوا ۔

طبقاتی تقسیم ، سیاسی و سماجی جبر ،مشرق و مغرب کے المیوں اور زندگی کے کونوں کھدروں میں چھپے ہوئے دکھوں پر اُن کی گہری نظر ہے جنھیں وہ احساس کی صداقتوں کے ساتھ آمیز کر کے خوب صورت نظموں میں ڈھال دیتی ہیں ۔شاعر، محقق، ناقد اور عروض داں ڈاکٹر آفتاب مضطر کی غزلوں اور نظموں کا پہلا مجموعہ ’’ قبول و رد کے فیصلے ‘‘ ۲۰۰۹ء میں شائع ہوا تھا ۔رواں برس اُن کی غزلوں کے ایک اور مجموعے ’’ ساحل پہ کھڑے ہو‘‘ کی اشاعت ہوئی ۔نئی ردیفوں، مشکل زمینوں، بحور و اوزان کے تجربات ، ندرتِ کلام اور معاشرتی ناہم واریوں پر ہلکے سے طنز کی بنا پر یہ شعری مجموعہ رنگارنگ کیفیات کا حامل ہے۔

مجید اختر کا شعری سفر تقریباً تین دہائیوں پر محیط ہے مگر اُن کا پہلا شعری مجموعہ ’’ حدیثِ دلبراں ‘‘ کے نام سے سالِ رواں میں اشاعت کے مراحل سے گزرا۔کلاسیکیت سے وابستگی کے باوجود جدت اور روایت کے امتزاج اور الفاظ و استعارات کے خوب صورت استعمال نے اُن کی غزلوں اور نظموں کو ایک دل کش پیرایۂ اظہار عطا کیا ہے۔شکیل جاذب ایک بہت اچھے اور سنجیدہ تخلیق کار کی حیثیت سے معاصر شاعری کا حصہ ہیں۔شکیل جاذب کا تازہ شعری مجموعہ ’’ نمی دانم‘‘ اس سال شائع ہوا جس میں مصرع سازی کا فن ، روایت سے کشید کی ہوئی ریاضتِ سخن ،موضوعات کا تنوع اور عصری حسیت نمایاں ہے۔

نثری نظم کے معروف شاعر مسعود قمر کی نظموں کا تازہ مجموعہ ’’ بارش بھرا تھیلا‘‘ کے نام سے شائع ہوا ہے ۔کتاب کے نام کی طرح نظموں کے عنوانات بھی چونکادینے والے ہیں ۔موضوعات اور اظہار ہر دوسطح پر ان نظموں کی انفرادیت نمایاں ہے اور ان میں جذبے کی حدت اور حرارت موجود ہے ۔یوسف خالد غزل اور نظم کے اچھے شاعر ہیں ۔رواں برس ان کے قطعات کا مجموعہ ’’قوسِ خیال‘‘ شائع ہوا تو اندازہ ہوا کہ آج بھی جدید اور تازہ تر اسلوب میں اس صنف کے احیا کے امکانات موجود ہیں ۔خوب صورت جمالیاتی اسلوب میں محبت،ہجر اور زندگی کے معاملات کو ان قطعات کے پیکر میں ڈھالا گیا ہے۔

خوب صورت سر ورق کے ساتھ قاسم یعقوب کا چوتھا شعری مجموعہ ’’ خالی بدن کی خاموشی میں ‘‘ غزلوں اور نثری نظموں پر مشتمل ہے ۔منفرد لہجے کے ساتھ یہ شاعری تازہ تر امیجز، حسی کیفیات،نئے موضوعات اور جمالیاتی شعور سے آراستہ ہے۔ سادگی، سلاست اور خوب صورت طرز احساس کی جھلک دکھاتا ہوا کرامت بخاری کا خوب صورت شعری مجموعہ ’’ خواب ریزے‘‘ بھی رواں برس اشاعت کے مرحلوں سے گزر کر سامنے آیا۔ڈاکٹر ارشد محمود ناشاد کی غزلوں کے خوب صورت مجموعے ’’رنگ ‘‘کا دوسرا ایڈیشن شائع ہوا جوجذبہ و احساس کی صداقت اور فکر و خیال کی رفعت سے آراستہ ہے۔سید طاہر کی غزلوں کا مجموعہ ’’ تصرف ‘‘ مشکل زمینوں میں حیرت،محبت اور زندگی کی گہری بصیرت سے مملو اور اُن کے تخلیقی امکانات کا واضح اشاریہ ہے ۔دل کش سر ورق کے ساتھ سلطان ناصر کی خوب صورت نظمیں’’ کہیں نہیں ‘‘ کے نام سے اسی سال شائع ہوئیں۔ 

ان نظموں میں رومانیت کا عنصر بھی ہے ،تہذیب و فلسفے کی آمیزش بھی اور تشکیک و تیقن کی کیفیت بھی۔’ بے دھیانی ‘‘ کے نام سے شائستہ سحر کی غزلوں اور نظموں کا نیا مجموعہ نسائی اسلوب میں زندگی کے نشیب و فراز، فکری آشوب اور انسانی نفسیات کاعکاس ہے۔’’ لکیروں پر نہیں چلتے ‘‘ کے نام سے عمر عزیز کی نظموں کا مجموعہ بھی آیا۔نئے اور انوکھے موضوعات اور امیجری کے خوب صورت استعمال کی بنا پر اس مجموعے میں مشاہدے اور احساس کی ایک نئی دنیا نظر آتی ہے۔سلمان ثروت کی غزلوں اور نظموں کا مجموعہ ’’ میں استعاروں میں جی رہا ہوں ‘‘ بھی اشاعت پذیر ہواتازہ تر آہنگ میں زندگی اور زمانے کی زبوں حالی کو زبان دیتی ہوئی یہ غزلیں اور نظمیں سلمان ثروت کے روشن شعری سفر کی نوید ہیں ۔شیراز زیدی کی طویل نظم ’’ محبت ہجر ہے‘‘ کتابی صورت میں شائع ہوئی ۔

رومانی اسلوب ،شعر ی جمالیات ، استعاراتی اظہار اور ہیئتی تنوع سے متصف اس نظم میں بے شمار تنقیدی اشاریے بکھرے ہوئے ہیں ۔ خوب صورت غزلوں میںزبان و بیان کی روانی کے ساتھ انسانی نفسیات کی ترجمانی کرتا ہوا احتشام حسن کا پہلا مجموعہ ’’میں بھی ہوں‘‘شائع ہوا۔طاہر حنفی کی خوب صورت شاعری ’’خانہ بدوش آنکھیں‘‘ کے نام سے رانا غلام محی الدین کی دل پذیر غزلیں ’’چھاگل‘‘ کے نام سے ،عرفان شہود کی اثر انگیز نظمیں ’’بے سمتی کے دن‘‘ کے نام سے ،سیدہ ہما طاہر کی شاعری ’’اوج کمال ‘‘کے نام سے، یاور ماجد کی خوب صورت غزلیں اور نظمیں ’’ آنکھ بھر آسمان‘‘ کے نام سے اور مدثر عباس کی نثری نظمیں’’ خوابوں سے بھرا کوڑادان‘‘ کے نام سے ظہور پذیر ہوئیں۔ ان کے علاوہ بھی کئی مجموعے شائع ہوئے جن کے نام درج ذیل ہیں۔

’’بساط‘‘( اشرف شاد)’’غالب کے نقشِ قدم پر‘‘ (غالب کی زمینوں میں غزلیں ( جسارت خیالی)،’’ زنبیل‘‘(شوکت خیال رانا)،’’ایک خرابہ ‘‘( خاور جیلانی)،’’رنگ خوابیدہ پڑے ہیں‘‘(شاہد اشرف)،’’ابھی ٹھہرو‘‘ ( راحت زاہد)،’’ امیدیں کتنی ‘‘(صبا واسطی)،’’ عشق جاوداں‘‘(ڈاکٹر پونم گوندل)،’’چاکِ دل‘‘(ڈاکٹر طالب)،’’سوزِ پنہاں‘‘( صفورا شاہد)،’’اک چراغ کافی ہے ‘‘ ( ڈاکٹر صائمہ شمس)،’’اسیرِ وصال‘‘(یسریٰ وصال)،’’ندائے نیلم ‘‘( نیلم بھٹی) ،’’ آدابِ عشق‘‘( ڈاکٹر حبیب)،’خزاں کا درد‘‘ (نوید کاوش)،’’پیش رفت‘‘( راحت سرحدی)،’’سروشِ دل‘‘( حفیظ الرحمان حفیظ)،’’ کاسۂ خواب ‘‘( محمد نوید سحر)،’’ستارہ سورہا ہے‘‘ (ایچ بی بلوچ)،’’ایک تعبیر خواب چاہتی ہے ‘‘(منظور ثاقب)،’’بارھواں کھلاڑی‘‘( ڈاکٹر بشریٰ صادق)’’بول فقیرا بول‘‘( نسیم شہزاد) ’’مزید پھپھولے‘‘ (شیخ محمد نقی) اور’’ اٹھارویں کا چاند‘‘(مزاحیہ شاعری،ڈاکٹر حامد عتیق سرور) اک دیورار گراتا ہوں (ساجد رحیم) ، چراغِ درونِ در(سائل نظامی)، اُجالے بانٹ دینا تم (حنا امبرین طارق) وغیرہ۔

تراجم:

تراجم ثقافتوں سے آگاہی اور علمی و ادبی ذخیرے میں اضافے کااہم وسیلہ ہیں ۔شاعری کا ترجمہ کرنا اگرچہ مشکل کام ہے لیکن اس سال بھی شاعری کے بہت اہم تراجم ہمارے سامنے آئے ۔شاعری اگر ٹیگور جیسے عظیم شاعر کی ہو اور ترجمہ کرنے والا گلزار جیسا تخلیق کار ہو تو حسن دو آتشہ ہوجاتا ہے ۔گلزار اردو اور ہندی کے علاوہ بنگالی زبان سے بھی خاص دل چسپی رکھتے ہیں ۔’’ باغبان اور نندیاچور ‘‘ کے نام سے ٹیگور کی شاعری کا ترجمہ گلزار نے کیا ہے یہ کتابیں پاکستان میں پہلی بارعمدہ طباعت کے ساتھ رواں برس یکجا ہو کرسامنے آئیں۔’’بادۂ دوشینہ ‘‘کے نام سے ایک اور اہم کتاب میں فغانی شیرازی، میرزا جلال اسیر،کلیم کاشانی، غنی کشمیری، غنیمت کنجاہی، ناصر علی سرہندی،شوکت بخاری، واقف لاہوری،محمد حسین قتیل اور شبلی نعمانی کی فارسی غزلیات کا انتخاب و ترجمہ نامور شاعر افضال احمد سید نے کیا جنھوں نے ۲۰۱۳ء میں میر کے فارسی دیوان کا ترجمہ بھی کیا تھا۔شاعری اور نثر کے ساتھ افضال احمد سید نے اپنے آپ کو ایک مترجم کی حیثیت سے بھی منوایا ہے۔

یہ ترجمہ یقیناً کلاسیکی فارسی غزل کی روایت سے آگاہی کا ایک بڑا وسیلہ بنے گا۔ احمد سلیم نے امرتا پریتم کی پنجابی نظموںکے ترجمے اور تہذیب کا کام’’میں جمع تو‘‘ کے نام سے پایۂ تکمیل تک پہنچایا جوعمدہ طباعت کے ساتھ منظرِ عام پر آیا ۔امرتا پریتم کی شخصیت اور شاعری کو سمجھنے کے لیے جس قدر اہمیت’’رسیدی ٹکٹ ‘‘ کو حاصل ہے اسی قدر کلیدی اہمیت کی حامل ’’میں جمع تو‘‘ کی نظمیں بھی ہیں ۔بقول امرتا پریتم یہ نظمیںکسی خاص شخص کی یعنی ’’تو‘‘ کی میری زندگی میں آمد سے متعلق ہیں ۔

احمد شہریار کے تراجم کی دو اہم کتابیں عمدہ طباعت سے آراستہ ہو کر حال ہی میں شائع ہوئی ہیں ۔پہلی کتاب کا نام ہے ’’ رنگوں کی دھنک‘‘ جس میں اسّی (۸۰) کے قریب جدید ایرانی شعرا کے کلام کا اردو ترجمہ شامل ہے ۔شعرا کے کلام کا انتخاب ڈاکٹر علی رضا قزوہ، مصطفیٰ علی پور اور محمد جواد آسمان نے کیا ہے اور ترجمہ کیا ہے احمد شہریار نے۔بیسویں صدی کی ایرانی شاعرات کے کلام کا ترجمہ ’’ عشق قابیل ہے‘‘ بھی اسی سال شائع ہوا ۔پروین اعتصامی اور فروغ فرخ زاد سے لے کر رویا باقری تک تقریباً انتالیس (۳۹) جدید ایرانی شاعرات کی نظموں کا انتخاب فریبا یوسفی نے کیا ہے ۔

اس کے مترجم بھی احمد شہریار ہیں دونوں کتابوں کے دیباچے افتخار عارف نے تحریر کیے ہیں۔’’ گم شدہ سمندر کی آواز‘‘ کے نام سے منیر مومن کی بلوچی زبان میں تخلیق کی گئی نظموں کا ترجمہ اردو میں احسان اصغر نے کیا ہے۔قصہ مختصر خوف و دہشت کی فضا بھی شاعری اور کتابوں کی اشاعت کا راستہ نہیں روک سکی ، کلیات و انتخاب اورتراجم میں بھی کچھ اہم کام سامنے آئے ادبی رسائل بھی شائع ہوئے،غزلوں کے کچھ اچھے مجموعے آئے لیکن بحیثیت مجموعی اردو شاعری پر نظم کا غلبہ برقرار رہا،نثری نظم کا سفر آگے بڑھا،بچوں کا ادب اس سال بھی بری طرح نظر انداز ہوا ،مزاحیہ شاعری کی روایت بھی آگے نہیں بڑھی۔

کتابیں خریدنے اور پڑھنے میں کمی کا رجحان اور قاری کی گم شدگی کا مسئلہ اپنی جگہ بر قرار رہا لیکن اہم اور سینئیر شعرا کے مجموعوں کے ساتھ نئی نسل کے شعرا کے بھی کچھ بہت اچھے مجموعے شائع ہوئے اور یہ بات ایک مرتبہ پھر سچ ثابت نہ ہوسکی کہ سوشل میڈیا کا طوفان شاعری کو بہا لے جائے گا بلکہ وبا اور لاک ڈائون کے اس ماحول میں شعرا کا رابطہ سوشل میڈیا کے ذریعے ہی برقرار رہا۔گویانوعِ انسانی کی بقا کا دکھ، موت کے خوف ،معاشی زبوں حالی اور عالمی تنہائی کے اس ماحول میں شاعر نے اپنے خوابوں اور آدرشوں میں پناہ لی ،جب تک انسان کے یہ خواب اور آدرش سلامت ہیں ،شاعری اسی طرح آگہی اور رجائیت کے پیغام کے ساتھ دکھوں کو سہارنے کی قوت انسان میں بیدار کرتی رہے گی۔