• بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن

فضل الرحمٰن اور مریم کی ملاقات میں نواز شریف بھی شریک رہے

اپوزیشن اتحاد (پی ڈی ایم) کے سربراہ مولانا فضل الرحمٰن اور مریم نواز نے اسلام آباد میں طویل ملاقات کی، جس میں نواز شریف بھی ویڈیو لنک کے ذریعے موجود تھے۔

اسلام آباد میں ملاقات کے بعد میڈیا بریفنگ میں مولانا فضل الرحمٰن نے کہا کہ مریم نواز سے غیر رسمی ملاقات ہوئی، جس میں کھانے کے ذائقوں پر بھی بات چیت ہوئی۔

انہوں نے کہا کہ کل خواجہ آصف کی گرفتاری ہوئی تو سوچا کہ مریم نواز کے ساتھ گفتگو ہو، انہیں یوم تاسیس پر بھی مبارک باد دی۔


پی ڈی ایم سربراہ نے مزید کہا کہ ہم نے ملاقات کے دوران نواز شریف کو بھی دعوت دی تھی کہ وہ ویڈیو لنک پر ہمارے ساتھ شریک ہوجائیں۔

ان کا کہنا تھا کہ خواجہ آصف کی گرفتاری انتقامی سیاست کا تسلسل ہے، ایسا نہیں کہ یہ آرام سے لوگوں کو پکڑتے جائیں اور ہم کچھ نہ کہیں۔

فضل الرحمٰن نے یہ بھی کہا کہ پی ڈی ایم کا مستقبل جمہوریت ہے اور ملک میں قانون کی بالادستی ہے، خواجہ آصف کی گرفتاری انتقامی کارروائی ہے۔

انہوں نے کہا کہ ہم اس کی گرفتاری پر عملی ردعمل دینے پر بھی مشاورت کریں گے۔

مریم نواز نے کہا کہ میں پارٹی یوم تاسیس کی باعث اسلام آباد میں تھی، مولانا فضل الرحمٰن نے ہمیں کھانے پر دعوت دی، بہت ہی ذائقہ دار کھانا کھلایا۔

ان کا کہنا تھا کہ اس ملاقات کے موقع پر سابق وزیراعظم نواز شریف بھی ویڈیو لنک کے ذریعے موجود تھے۔

ن لیگی نائب صدر نے مزید کہا کہ یکم جنوری کو رائیونڈ میں پی ڈی ایم کا اجلاس ہوگا، بلاول بھٹو نے اپنی پریس کانفرنس میں جو کہا وہ اچھی باتیں تھیں۔

انہوں نے کہا کہ بلاول بھٹو نےکہا کہ سی ای سی میں جو تجاویز آئیں وہ پی ڈی ایم میں رکھی جائیں گی، پی ڈی ایم کی تمام جماعتیں بلاول بھٹو کا موقف سننا چاہتی ہیں اور اس کے بعد کوئی فیصلہ ہوگا۔

مریم نواز نے کہا کہ پی ڈی ایم میں جو بھی فیصلہ ہوگا وہ مکمل مشاورت سے ہوگا، ہم اس کے بعد ہی فیصلہ کریں گے۔

تازہ ترین