آپ آف لائن ہیں
اتوار22؍ رجب المرجب 1442ھ 7؍مارچ2021ء
  • بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن
Jang Group

الماس روحی

ماڑی پور میں مچھیروں کی بستی میں ماہی گیروں کی بہت بڑی آبادی تھی۔ ان میں ایک مچھیرے کا نام ماجدتھا اور لوگ اسے مکو کہتے تھے۔ بستی میں ایک گندی سی جگہ ،مکو کاجھونپڑانما مکان تھا جس کی دیواریں اور فرش کچی مٹی سے بنا ہوا جب کہ چھت گھاس پھونس کی تھی۔ اس کے اہل خانہ کو اس گھرمیں بے شمار مسائل کا سامنا تھا۔ دن میں فرش پر مختلف اقسام کے حشرات الارض پھرتے نظر آتے تھے جب کہ رات میں گھر کے مکین مچھروں سے پریشان رہتے تھے۔ مکو، مچھلی چاول بہت شوق سے کھاتا تھا۔ اس کی ایک بیٹی تھی جس کا نام مریم تھا۔ 

مکو اس سے بہت محبت کرتا تھااور اس نے اسے ایک مٹھو لادیا تھا، جو مرچیں اور امرودکھاتا تھا ، اور مٹی کے پنجرے میں رہتا تھا۔ مریم کے پاس موم کی ایک گڑیا تھی جس سے وہ کھیلتی تھی۔ قریب ہی ایک باغ تھا۔ مریم جب بھی باغ میں جاتی چنبلی کے پودوں پر سے شہد کی مکھی ’’بھن بھن بھن‘‘ کرتی اس کے پاس آتی۔ ’’کہو مریم کھیلوگی میرے ساتھ؟‘‘ ’’آج تو موسم بھی اچھا ہے‘‘ مکھی اِدھر اُدھر اڑتی اور مریم اسے پکڑنے دوڑتی۔ مریم، مکھی کا کھیل مالٹے کے درخت کی شاخوں کے بیچ ایک جالا بننے ہوئے مکڑی جو دیکھتی تو وہ جالا چھوڑکر ان کے پاس آجاتی۔ ’’آہا آہا، مریم آج تو میں بھی کھیلوں گی مجھے تمہارے ساتھ کھیلنا اچھا لگتا ہے‘‘ مکڑی اپنے منہ سے تھوک نکالتی ہوئی بولتی جس سے ایک لمبا سا دھاگا بن جاتا تھا۔ 

مکڑی اس پر لٹکتی اور جھولتی ،مریم اور مکھی اس کے ساتھ ساتھ گھومتیں اگر مکڑی کسی پتے یا شاخ پر پھنس جاتی تو مکھی اور مریم اس کو نکلنے میں مدد کرتیں۔ آم کے پیڑ کے نیچے ٹر ٹر ٹر کرتا مینڈک جو مریم کو کھیلتے دیکھتا تو مسکراتا۔ وہ اپنی سرخ سرخ آنکھیں گھماتا۔ ’’میری طرح کوئی کود کر دکھائے تو جانوں‘‘ ۔مریم مینڈک کی طرح پھدک کرچھلانگیں لگاتی اور کبھی مور کی طرح چلتی۔ مکڑی اور مکھی اس کی ان حرکتوں سے بہت خوش ہوتیں۔ رات کو جب مکو گھر آتا اور کھانا وغیرہ کھا کر بستر پر لیٹتا تو مکو کو مریم دن بھر کی کارگزاری سناتی جسے سن کر مکو اور مریم کی ماں بہت ہنستے۔

کئی روز سے مکو بہت پریشان تھا۔ وہ سارا سارا دن کشتی میں بیٹھا جال ڈالتا مگر جال میں کوئی مچھلی نہیں آتی ۔ ایک روز وہ مایوس ہوچکا تھا اور تھک کر گھر جارہا تھا۔ اس نے آخری بار کشتی بیچ سمندر میں لے جاکر جال ڈالا تو اس میں ایک ننھی منی سی مچھلی آگئی جو جال میں پھنس کرتڑپ رہی تھی۔ شاید اسے اپنی ماں یاد آرہی تھی۔ مچھیرے کو اس پر ترس آگیا اس نے وہ چھوٹی سے مچھلی واپس سمندر میں ڈال دی۔ تھوڑی دیر میں پانی کی ایک لہر اٹھی اور ایک بڑی اور بھاری سی مچھلی نے سر نکالا اور مکو کا شکریہ ادا کیا اور کہا۔ ’’مجھے خوشی ہوئی تم ایک اچھے انسان ہو جس نے ایک بچی کو اس کی ماں سے ملوا دیا ۔

تم دوبارہ جال پھینکو، ہم تمہیں انعام دیں گے‘‘ یہ کہہ کر مچھلی سمندر میں واپس چلی گئی۔ مچھیرے نے جیسے ہی جال پھینکا اس میں ایک بڑی سی سرمئی مچھلی پھنس گئی ۔ اسے دیکھ کر مکو مسکرایا۔ ’’بھلا مچھلی کے بدلے مچھلی ،یہ کیا انعام ہوا‘‘۔ وہ اداس ہوکرگھر آیا اور اپنی بیوی کو مچھلی پکانے کے لئے دی۔ 

مچھیرن نے جیسے ہی چاقو سے مچھلی کا پیٹ چاک کیا تو اس میں سے پانچ سونے کے سکے نکلے۔ مچھیرا اور مچھیرن بہت خوش ہوئے۔ انہوں نے سکے جب بازار میں بیچے تو انہیں بہت سارے پیسے ملے۔ جس سے انہوں نے اپنی بیٹی مریم کے لئے نئے کپڑے اورکھلونے خریدے۔

ان پیسوں سے انہوں نے اپنا مکان بھی پختہ بنا لیا جس پر پکی چھت ڈالی گئی تھی جب کہ پرانی اور بوسیدہ کشتی کی جگہ نئی کشتی خرید لی۔ اس کی نئی کشتی کو دیکھ کر سارے ماہی گیر حیران تھے، لیکن انہیں کیا معلوم تھا کہ مکو کی چھوٹی سی نیکی کا قدرت نے کتنا بڑا انعام دیا تھا۔