آپ آف لائن ہیں
پیر16؍ رجب المرجب 1442ھ یکم مارچ2021ء
  • بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن
Jang Group

پنجاب میں چیف سیکرٹری کی تبدیلی کی افواہوں نے ایک مرتبہ پھر تیزی پکڑلی ہے۔ حکومت چاہتی کیا ہے یہ کوئی بھی سمجھنے سے قاصر ہے یہاں تک کہ بیوروکریسی، پولیس اور دیگر سروسز بھی ماحول کو سجھ نہیں پا رہے۔ سابقہ حکومت کے Blue Eyed افسر، جن میں سے اکثریت اب اس حکومت کے قریب بھی ہے، اپنی نجی گفتگو میں حکومتی پالیسیوں کی وجہ سے درپیش اور آنے والے چیلنجز کے بارے میں کافی پریشان دکھائی دے رہے ہیں۔ بیوروکریسی میں ایسا اضطراب پہلے کم ہی دیکھا گیا ہے۔ پنجاب میں موجودہ حکومت کے اقتدار میں آنے کے بعد اب تک تین چیف سیکرٹریز تبدیل کئے جا چکے ہیں۔ اکبر درانی نے اکتوبر 2018ء، یوسف نسیم کھوکھر نے نومبر 2019ء اور میجر (ر) اعظم سلیمان خان نے اپریل 2020ء تک کام کیا۔ اگر دیکھا جائے تو وہ تینوں افسر بطور چیف سیکرٹری پنجاب اعلیٰ انتظامی صلاحیتوں کے مالک تھے۔ ہر ایک کا کام کرنے کا مزاج اور طریقہ مختلف ضرور تھا لیکن اچھے ایڈمنسٹریٹر تھے۔ اس حکومت کو تینوں کا مزاج اور طرزِ حکمرانی سمجھ میں نہ آیا تو جواد رفیق ملک کو چوتھا چیف سیکرٹری لگا دیا۔ اب ان کی ٹرانسفر کے حوالے سے بھی سول سیکرٹریٹ میں چہ میگوئیاں دن بدن زور پکڑتی جا رہی ہیں۔ جواد رفیق ملک کو سات ماہ بعد اب چیلنجز کو نمٹنے کے حوالے سے سمجھ آنا شروع ہوئی ہے تو انہیں تبدیل کرنے کی باتیں شروع کر دی گئی ہیں۔ حکومت نے مختلف النوع مزاج کے چیف سیکرٹری لگا کر تو دیکھ لئے‘ اب اور کیسا افسر ہو گا جس سے یہ مطمئن ہوں گے؟ صوبے کی انتظامیہ کے چیف ایگزیکٹو کے بارے میں ایسی افواہوں سے ہر طرح اور سطح کے افسر مایوس دکھائی دے رہے ہیں۔ پنجاب میں افسر شاہی کے درمیان اختیارات کی سرد جنگ کم ہونے کی بجائے مزید بڑھ رہی ہے لیکن حکومت معاملات کی سنگینی کا ادراک کرنے کی بجائے صرف تبادلوں، تعیناتیوں اور میڈیا پر اپوزیشن کی تنقید کے جواب دینے میں مصروف ہے۔ صوبائی وزارت انفارمیشن اینڈ کلچر آج کل سب سے زیادہ مصروف دکھائی دیتی ہے۔ حکومت کے پاس سول انتظامیہ اور پولیس کے درمیان اختیارات کے تنازعات اور ان محکموں میں ریفارمز کو سنجیدگی سے دیکھنے کیلئے شائد وقت نہیں۔ پنجاب پولیس بھی آئے روز آئی جی اور سی سی پی او لاہور کے تبادلوں سے ناخوش ہے۔ ان کا خیال ہے کہ پولیس آرڈر 2002ء کے تحت آئی جی کو تبدیل کرنے کیلئے صوبائی پبلک سیفٹی کمیشن سے مشاورت ضروری ہے‘ اسی طرح سی سی پی او کے تبادلے کیلئے کیپٹل سٹی پبلک سیفٹی کمیشن کی رائے لینا ضروری ہے۔ اب بڑا مسئلہ یہ ہے کہ محکمہ داخلہ کی بارہا کوششوں کے باوجود صوبے، ڈویژن اور اضلاع کی سطح پر پبلک سیفٹی کمیشن ہی نہیں بنائے گئے۔ کئی دفعہ وزیر اعلیٰ کو سمریاں بھجوائی گئیں لیکن وہ فائلوں میں ہی دفن ہو گئیں۔ پبلک سیفٹی کمیشن اس لئے بھی نہیں بن سکے کہ ضلعی سطحوں پر ان میں لوکل گورنمنٹ کے نمائندے شامل ہونا تھے جن کا تاحال کوئی وجود نہیں۔ پولیس آرڈر 2002ء کو اگر دیکھا جائے تو 18ویں ترمیم کے بعد چونکہ وفاق کے بہت سے اختیارات اب PROVINCIAL SUBJECT بن چکے ہیں اس لئے محکمہ پولیس کے بہت سے مطالبات پولیس آرڈر کےتحت تسلیم نہیں کئے جا سکتے۔ محکمہ داخلہ اور پولیس کے درمیان فنڈز کے استعمال اور اس حوالے سے اختیارات کی سرد جنگ جاری ہے۔ آئی جی پنجاب آئے روز محکمہ داخلہ کی 5 ارب روپے کی بلاک ایلوکیشن میں سے کبھی گاڑیوں اور کبھی لاء اینڈ آرڈر کیلئے فنڈز اور ان کے استعمال کے اختیارات کا حق مانگتے رہتے ہیں۔ آئی جی پنجاب کا یہ خیال ہے کہ محکمہ داخلہ کے پاس 5 ارب کی بلاک ایلوکیشن صرف امن عامہ کے لئے ہے جس پر پولیس کا حق ہے جبکہ محکمہ داخلہ ان کو کئی بار یہ کہہ چکا ہے کہ بلاک ایلوکیشن کے 3 ہیڈز ہیں جن میں لاء اینڈ آرڈر، کمیونٹی پارٹیسیپیشن اور انٹرنل سیکورٹی کلیمز شامل ہیں جن میں سے مختلف ڈیوٹیوں اور آپریشنز کیلئے فوج ،رینجرز اور دیگر قانون نافذ کرنے والے اداروں کو فنڈز فراہم کئے جاتے ہیں۔ فنڈز کے لین دین اور استعمال پر دونوں محکموں کے درمیان یہ سرد جنگ زور وشور سے جاری ہے۔ 18ویں ترمیم کے بعد سندھ اور کے پی کے پولیس نے اپنے ایکٹ بنا لئے ہیں لیکن پاکستان کے سب سے بڑے صوبے کی پولیس فورس اپنا ایکٹ اب تک نہیں بنا سکی اور 18سال پرانے پولیس آرڈر پر عملدرآمد کروانے پر بضد ہےجس کا وجود 18ویں ترمیم کے بعد واضع طور پر دکھائی نہیں دے رہا۔ پنجاب پولیس نے سندھ اور کے پی کے کی طرح اپنا ایکٹ کیوں نہیں بنایا اور یہ کس نے نہیں بننے دیا؟ اس کا جواب بھی خود پنجاب پولیس ہی دے سکتی ہے۔ سینئر ممبر بورڈ بابر حیات تارڑ کی سربراہی میں صوبے کے 36 ڈپٹی کلکٹروں (ڈپٹی کمشنروں) نے سرکار کی 1 لاکھ 40ہزار ایکڑ اراضی، جس کی مالیت 100 ارب روپے سے زیادہ ہے، واگزار کروائی۔ اختیارات کی سرد جنگ کی ایک اور مثال سامنے آئی جب لودھراں میں پولیس نے ڈی پی او کرار شاہ کی سربراہی میں سرکاری زمین واگزار کروا کر کسی تیسرے فریق کو لیز پر دے دی۔ سرکاری زمینوں کا CUSTODIAN بورڈ آف ریونیو ہوتا ہے‘ سرکاری اداروں میں ایسے تنازعات سے حکومت کا نقصان ہوتا ہے۔ بورڈ آف ریونیو نے اب سرکاری زمینوں پر قبضے اور تجاوزات واگزار کرانے کیلئے انٹی انکروچمنٹ اسٹیبلشمنٹ قائم کرنے کا فیصلہ کیا ہے‘ اس فورس کے بننے کے بعد بورڈ آف ریونیو کی پولیس اور محکمہ انٹی کرپشن کے درمیان سرد جنگ ختم کرنے میں مدد ملے گی۔

صوبائی وزیر قانون راجہ بشارت نے سول بیورو کریسی اور پولیس کے درمیان اختیارات کی سرد جنگ کے حوالے سے کہا کہ میرے خیال میں تو یہ کم ہوگئی ہے۔ انہوں نے ساتھ ہی یہ استفسار بھی کیا کہ کیا یہ پھر بڑھ گئی ہے؟ ان کا یہ بھی خیال تھا کہ وہ کیبنٹ سب کمیٹی برائے لاء اینڈ آرڈر کے سربراہ ہونے کے ناطے مختلف محکموں کے درمیان پیدا ہونے والی تلخیوں کا مکمل ادراک رکھتے ہیں اور انہیں ختم کروانے کی بھرپور کوشش کرتے ہیں۔ راجہ صاحب کی کوششیں اپنی جگہ لیکن محکموں کے درمیان پیدا ہونے و الی یہ خلیج اگر ختم نہ کی گئی تو اختیارات کی اس سرد جنگ میں ملک اور قوم دونوں کا نقصان ہو گا۔

تازہ ترین