آپ آف لائن ہیں
جمعرات12؍رجب المرجب 1442ھ25؍فروری 2021ء
  • بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن
Jang Group

ریسٹورنٹ مالکان کی منیجر کی انگریزی کا مذاق اڑانے کی وڈیو وائرل


اسلام آباد کے ایک ریسٹورنٹ کی دو خواتین مالکان کی جانب سے منیجر کی انگریزی کا مذاق اڑانے کی وڈیو وائرل ہو گئی، لوگوں نے مالکان پر شدید غم و غصے کا اظہار کیا۔

سوشل میڈیا صارفین نے خواتین مالکان کو آڑے ہاتھوں لیتے ہوئے کہا کہ کسی نے سستے انگریز کا لقب دیا، تو کسی نے بری تربیت کا عکاسی قرار دے دیا۔

وائرل ہونیوالی وڈیو میں خواتین مالکان نے منیجر کا امتحان لیتے ہوئے اس سے انگریزی میں بات کرنے کو کہا۔

ایسے میں جب وہ منیجر ہچکچاہٹ کا شکار ہو کر روانی سے نہیں بول پایا تو ان مالکان نے اس کا تمسخر اڑایا کہ ’یہ ہمارے منیجر ہیں جو ہمارے ساتھ نو سال سے ہیں، اور تربیت کے باوجود یہ وہ بہترین انگلش ہے جو یہ بولتے ہیں‘۔

سوشل میڈیا صارفین نے ان مالکانز کے میمز بنا ڈالے جبکہ انھوں نے مالکان سے معافی مانگنے کا بھی مطالبہ کردیا۔

ایک منچلے نے دکان دار اور گاہک کے درمیان فرضی گفتگو کی منظر کشی کر ڈالی، پہلے کہا کہ بھیا انگریز دینا، جس پر غیر ملکیوں کی تصویر لگائی، پھر کہا تھوڑا سستے میں دینا اور اس پر ان خواتین مالکان کی تصویر چپکادی۔

ایک خاتون نے کہا کہ انگریزی ہماری مادری زبان نہیں ہے تو اسے روانی سے نہ بولنے میں شرمندگی کیوں ہو؟

ایک صاحب بولے ’انگریز چلے گئے، غلامانہ ذہنیت چھوڑ گئے‘ یہ تقریباً وہی نظریات ہیں جن کے تحت مغرب میں سیاہ فام، ایشیائی اور اقلیتی نسلوں کو تفریق کا نشانہ بنایا جاتا ہے۔

گلوکار اور سماجی کارکن شہزاد رائے نے کہا کہ ایک سے زائد زبانیں سیکھنے کے فوائد اپنی جگہ لیکن آپ اپنے ملک کی نمائندگی اپنے جذبے، ذہانت اور عزم سے کرتے ہیں، کوئی مخصوص زبان بول کر نہیں کرتے۔

تجزیہ کار رضا رومی نے متاثرہ منیجر کی محنت، لگن اور جذبے کو سلام پیش کیا۔ کہا کہ یہ شخص اس واقعے کا ہیرو ہے یہ ایک وڈیو کلپ پاکستانی اشرافیہ کی امارات پرستی، کالونیل ذہن، حاکمانہ سوچ اور اخلاقی پستی کا خلاصہ ہے، یہ رویہ انتہائی افسوسناک اور قابل مذمت ہے۔

سابق گورنر پنجاب سلمان تاثیر کے صاحبزادے شہباز تاثیر نے تضحیک کا نشانہ بننے والے منیجر کو نوکری کی پیشکش کردی اور کہا کہ ان کی منیجر اویس سے بات ہوگئی ہے، وہ پروفیشنل ہے اور پُرجوش ہے، معاملات بھی طے پاگئے ہیں۔

دوسری جانب سوشل میڈیا پر ریستوران کی جانب سے ایک پوسٹ میں عوامی ردعمل پر حیرانی اور دلی رنج کا اظہار کرتے ہوئے اپنی صفائی پیش کی گئی ہے۔

اس پوسٹ میں کہا گیا کہ ریستوران مالکان اور ان کی ٹیم کے درمیان ہونے والی گپ شپ کو غلط انداز میں لیا گیا، اگر کسی کی دل آزاری ہوئی تو معافی کے طلبگار ہیں۔ تاہم وہ اپنے آپ کو اچھے مالکان ثابت کرنے کے پابند نہیں۔

اس میں یہ بھی کہا گیا کہ ایک دہائی سے ان کا عملہ ان کے ساتھ ہے یہ اس بات کی دلیل ہے کہ وہ کیسے مالکان ہیں، انہیں اپنے پاکستانی ہونے پر فخر اور اپنی زبان اور ثفافت سے محبت ہے۔

خاص رپورٹ سے مزید