آپ آف لائن ہیں
جمعہ13؍ رجب المرجب 1442ھ 26؍فروری2021ء
  • بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن
Jang Group

سیاست کرنے کے لئے ضروری ہے کہ آپ منافقت پر مکمل یقین رکھتے ہوں۔ سیاست کرنے کے لئے جمہوریت بہترین راستہ ہے۔ ہمارے دیس میں اِس وقت سیاست عروج پر ہے اور اپنی اپنی سیاست کو مقبول بنانے کے لئے جمہور کا سہارا لیا جا رہا ہے۔ یہ المیہ صرف ہمارے وطن کا نہیں ہے، بھارت میں بھی یہ ناٹک بڑی کامیابی سے چل رہا ہے۔ مجھے اردو زبان کے منفرد لہجے کے شاعر گلزارؔ جن کی جنم بھومی پاکستان ہی ہے، کی ایک نظم یاد آرہی ہے:

پرچیاں بٹ رہی ہیں گلیوں میں

اپنے قاتل کا انتخاب کرو

وقت یہ سخت ہے چنائو کا!

بھارت، جو دنیا بھر میں اپنی شناخت جمہوریت سے کرواتا ہے، وہاں پر بھی جمہور خوار ہیں اور سیاست اور منافقت عروج پر ہے مگر وہاں کے سیاسی دانش ور ملکی آزادی کے سوال پر نہ منافقت کرتے ہیں اور نہ ہی سیاست۔ ہمارے ہاں آج کل سیاست کی دال جوتوں میں بٹ رہی ہے اور وہ لوگ سیاست میں نمایاں ہیں جن کو عوام اور انصاف نے بےوقعت کر دیا ہے مگر کوئی تو ہے جو ان کو مرنے یا مروانے کے لئے تیار کر رہا ہے۔

اِس سیاست کا شاخسانہ حالیہ امریکی انتخابات میں کھل کر سامنے آیا۔ سابق امریکی صدر ٹرمپ وہائٹ ہاؤس سے بڑے بےآبرو ہو کر نکلے۔ اُن کی منافقت ساری دنیا نے دیکھی اور اُن کی سیاست ہی ان کی ہار کی وجہ بنی۔ ٹرمپ نے دنیائے سیاست اور منافقت کے دو عالمی ملکوں پر تکیہ کیا۔ ایک اہم ملک اسرائیل نے اُن کو خوب استعمال بھی کیا اور اپنی حیثیت بھی منوا لی اور عربوں کے ساتھ سودے بازی کر کے وقتی طور پر خود کو محفوظ بھی کر لیا۔ اسرائیلی وزیراعظم نیتن یاہو نے بھارت اور امریکہ کو خوب استعمال کیا مگر امریکی انتخابات میں وہ اپنا بھرم بھی نہ رکھ سکا اور نئے امریکی صدر سے اکھیاں ملانے میں بہت ہی سبکی محسوس کر رہا ہے اور کچھ ایسا ہی حال ہمارے ہمسائے بھارت کا ہے۔ مودی سابق امریکی صدر ٹرمپ میاں کا بہت پیارا تھا مگر بھارتی امریکی بھی ٹرمپ کو پہچان گئے تھے اور انہوں نے بھی ٹرمپ کو ہرانے میں نمایاں کردار ادا کیا۔

حالیہ امریکی انتخابات کے بعد امریکہ بہادر کو ایک موقع ملا ہے کہ وہ دنیا کی غلط فہمیوں کو اپنے تدبر سے دور کر سکے مگر اُس کا حالیہ کردار اب کمزور ہوتا جا رہا ہے اور دنیا پر نظر رکھنے کے لئے دوسرے فریق میدان میں نظر آ رہے ہیں۔ امریکہ اپنے زوال کو کچھ عرصہ کے لئے ٹال تو سکتا ہے تاہم، اُس کے عروج کا سورج اب غروب ہونے جا رہا ہے جس کا اُسے اندازہ بھی ہے۔ حالیہ انتخابات کے بعد امریکی صدر کا واحد کام، امریکی عوام کو ملکی سیاست سے بچانا اور اُنہیں یہ باور کرانا ہوگا کہ سیاست اور جمہوریت سے عوام کی خدمت مزید بہتر طریقہ سے کی جا سکتی ہے۔ اپنے دور کے بہترین دماغ سابق صدر کے ہمنوا بن گئے تھے۔ اسی وجہ سے اسرائیل کو اپنے منصوبوں پر کامیابی ملی مگر بھارت اس معاملہ میں بدنصیب رہا۔ اب دیکھنا یہ ہے کہ امریکی سرکار میں تبدیلی کے بعد بھارت، اسرائیل اور پاکستان میں حالات کس طرف جاتے ہیں؟ پاکستان ایک عرصہ سے امریکی آسیب سے پریشان ہے اور پاکستان کی سیاست امریکا کی وجہ سے منفی طور پر متاثر ہوئی ہے۔

اِس وقت پاکستان کی سیاست میں غیرملکی ہاتھ بہت اہم کردار ادا کر رہا ہے۔ ہمارے مہربان دوست ہماری سیاست میں ان لوگوں کی رہنمائی کر رہے ہیں جن کی وجہ سے عوام کو سکھ کا چین بھی نصیب نہیں۔ پاکستان میں کوئی بھی حکومت انتخابات کے بعد ہی برسر اقتدار آتی ہے۔ ہم موجودہ سرکار کو اسمبلی میں آزما چکے ہیں لیکن کچھ حاصل نہیں ہوا۔ یہ کوشش کی جا رہی ہے کہ عمران خان کو صرف دیوار سے لگا دیا جائے مگر عمران خان کی قسمت اچھی ہے اور ایمان داری کی بات ہے اِس میں اُس خاتونِ خانہ کا بھی بڑا ہاتھ ہے جو کپتان کی پشت پر ہے۔ پہلے تو عمران کی پشت پر اس کی والدہ تھیں اور اُس نے والدہ کی محبت کی وجہ سے کینسر کے عظیم الشان اسپتال بنائےجو ہمارے جیسے پسماندہ ملک کے لئے حیران کن عطیہ ہیں اور اب کپتان ملکی بدانتظامی اور بدقماشی کو ختم کرنا چاہتا ہے اور اس کی پشت پر اس کی روحانی بیوی ہے جو اس کی رہنمائی بھی کر رہی ہے مگر دشمن مرنے اور مارنے پر تلا ہے۔ اب دیکھنا یہ ہے کہ ان حالات میں ملکی ادارے کیا کردار ادا کرتے ہیں؟ وہ قانون کا سہارا لیتے ہیں یا انصاف پر یقین رکھتے ہیں؟ پاکستان اسٹریٹیجک حوالوں سے خوش قسمت ہے کیوں کہ دنیا کی ابھرتی ہوئی عسکری و معاشی طاقت چین نہ صرف ہمارا ہمسایہ بلکہ دوست ملک بھی ہے۔ اس وقت عالمی معیشت میں چین کی حیثیت نمایاں ہے اور آنے والے دنوں میں چین عالمی طاقت ہوگا اور امریکہ کو اس بات کا اندازہ ہے۔ بھارت کو اندازہ ہے کہ چین کے ساتھ بنا کر رکھنے میں ہی اس کی عافیت ہے۔ اس وقت پاکستان سپریم کورٹ ہی وہ واحد ادارہ ہے جو اِس حیثیت کا حامل ہے کہ وہ اہم ملکی معاملات میں کوئی کردار ادا کر سکتا ہے۔ وہ یہ کردار کب ادا کرتا ہے، اس کا انتظار ہے کیونکہ عوام تو بےچارے اس نظام کے قیدی ہیں۔

کئی پنجروں کا قیدی ہوں

کئی پنجروں میں بستا ہوں

مجھے بھاتا ہے قید کاٹنا

اور اپنی مرضی سے چنائو کرتے رہنا

اپنے پنجروں کا

تازہ ترین