برطانیہ میں عیدالفطر 2026 کے اعلان کے حوالے سے علمائے کرام کے درمیان اختلاف سامنے آیا ہے، جس کے باعث عوام میں تشویش پائی گئی۔
تفصیلات کے مطابق ایک مکتبِ فکر سے تعلق رکھنے والے علماء نے مؤقف اختیار کیا ہے کہ جمعرات کے روز چاند نظر نہیں آیا اور نہ ہی شرعی اصول کے مطابق اس کا ثبوت فراہم کیا جا سکا۔
ان کے مطابق استفاضۂ خبر بھی حاصل نہیں ہوئی اور عید کا اعلان صرف مراکش سے منسوب ایک خط کی بنیاد پر کیا گیا، جو شرعاً ناکافی ہے اور اس بنا پر انہوں نے ایک روزے کی قضا لازم قرار دی ہے۔
دوسری جانب متعدد جید علماء نے اس مؤقف کو مسترد کرتے ہوئے کہا ہے کہ عید کا اعلان مکمل تحقیق کے بعد کیا گیا۔
ان کے مطابق مراکش سے چاند نظر آنے کی متعدد مستند تصدیقات حاصل ہوئیں، جن میں علماء کے براہِ راست رابطے، سرکاری سطح پر تصدیق اور دیگر ذرائع شامل ہیں۔
جید علماء کا کہنا ہے کہ یہ تمام شواہد استفاضۂ خبر کے درجے کو پہنچتے ہیں، لہٰذا عید کا فیصلہ درست تھا اور قضا روزے کی ضرورت نہیں۔
علماء کے مطابق یہ اختلاف ایک اہم فقہی نکتے، یعنی چاند کے ثبوت کے معیار پر مبنی ہے۔ ایک فریق ثبوت کو ناکافی قرار دے رہا ہے جبکہ دوسرا اسے’ظنِ غالب‘ کے درجے میں قابلِ قبول سمجھتا ہے۔