• بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن

وزن کم نہ ہونے دینے والی عادات کونسی ہیں؟

ہر انسان اچھا اور خوبصورت نظر آنے کی خواہش رکھتا ہے جبکہ وزن کا بڑھ جانا اور موٹاپا شخصیت کی خوبصورتی کے ساتھ اعتماد بھی چھین لیتا ہے، وزن میں  کمی کے خواہشمند افراد ہر طرح سے اسمارٹ ہونے کی کوشش کرتے ہیں مگر چند ایسی عادات نہیں چھوڑتے جو اُن کے وزن میں کمی لانے میں رکاوٹ بن رہی ہوتی ہیں۔

ماہرین کے مطابق اکثر افراد روزانہ کی بنیاد پر کھانا پینا چھوڑ کر، سخت ڈائیٹنگ کا سہارا لیتے ہیں، ورزش کرتے ہیں مگر پھر بھی اپنے مطلوبہ نتائج حاصل نہیں  کر پاتے ہیں، ایسے میں وہ وزن کم نہ ہونے کی سب سے بڑی وجہ خود ہوتے ہیں اور اُنہیں اس بات کا علم بھی نہیں ہوتا ہے۔

ماہرین کا وزن میں کمی لانے سے متعلق اپنی تجاویز میں کہنا ہے کہ متوازن وزن حاصل کرنے کے لیے سب سے بہتر آپشن ورزش کا ہے جبکہ ڈائیٹنگ کرنے سے قبل کسی ڈائیٹیشن سے اپنے لیے غذا سے متعلق بات چیت کرنا نہایت لازمی ہے۔

فٹنس و غذائی ماہرین کی جانب سے بتائی گئی جسمانی وزن میں کمی کے سفر کے دوران کی جانے والی متعدد غلط عادات مندرجہ ذیل ہیں جنہیں جاننا اور اُن کا ترک کرنا ضروری ہے۔

غذا کا استعمال کر دینا 

غذا میں کمی کرنا صحت بخش ثابت نہیں ہوتا خاص طور پر اُس وقت جب ڈائیٹنگ کے نام پر مثبت غذاؤں کا استعمال بھی روک دیا جائے، صحت مند وزن کے حصول کا مثبت راستہ متوازن غذا میں ہی چھپا ہوتا ہے، ماہرین کے مطابق غذا کی مناسب مقدار ضرور  لیں جن میں پھل، سبزیاں، پروٹین اور صحت بخش چربی شامل ہے۔

نیند کو نظر انداز کرنا 

مناسب آرام زندگی کے ہر پہلو میں بہتری لانے کا باعث بنتا ہے جن میں موٹاپے کی روک تھام بھی شامل ہے، طبی ماہرین کے مطابق نیند کی کمی جسمانی وزن میں اضافے کا باعث بنتی ہے جبکہ اچھی نیند کے نتیجے میں اضافی وزن کو کم کرنے میں مدد ملتی ہے۔

کولا مشروبات کا استعمال ترک نا کرنا، ڈائٹ مشروبات پینا

ڈائٹ مشروبات بنانے والی کمپنیاں اسے صحت بخش آپشن قرار دیتی ہیں مگر اصل میں ایسا ہے نہیں، مختلف طبی تحقیقی رپورٹس میں یہ بات سامنے آئی ہے کہ کیلوری سے پاک اور مصنوعی مٹھاس سے تیار شدہ مشروبات درحقیقت جسمانی وزن میں اضافے اور چینی کی خواہش بڑھانے کا باعث بنتے ہیں۔

دن میں زیادہ وقت غیر متحرک رہنا 

بہت زیادہ دیر تک دفتر میں بیٹھے رہنا بھی موٹاپے کا باعث بنتا ہے، اس سے بچنے کے لیے دفتری اوقات کے دوران چہل قدمی کو ترجیح دیں ، عادت بنا لیں کہ ہر 30 منٹ بعد 5 منٹ کی واک ضرور کریں۔

تناﺅ کا شکار رہنا

طبی ماہرین کے مطابق دماغ  کا براہ راست تعلق  جسم سے ہے، ماہرین کی جانب سے تناﺅ کو جسمانی وزن میں اضافے کا باعث قرار جاتا ہے، تناؤ میں رہنے کے سبب جسم میں موجود  ایک ہارمون کورٹیسول کی مقدار بڑھنے لگتی ہے جو مضرصحت غذا کے انتخاب کے لیے اُکساتی ہے۔

 ٹی وی کے سامنے بیٹھ کر کھانا کھانا

کھانا کھاتے ہوئے ٹیلیویژن دیکھنے کی عادت نہایت مضر صحت ہے، ایسے میں انسان زیادہ کھا لیتا ہے اور اُسے اس بات کا احساس بھی نہیں ہوتا ہے۔ 

غذا پر ورزش کو ترجیح دینا

متعدد افراد کا ماننا ہے کہ سخت ورزش کے بعد وہ زیادہ میٹھی اشیا سے لطف اندوز ہوسکتے ہیں، طبی ماہرین کے مطابق غذا ورزش کے مقابلے میں زیادہ اہمیت کی حامل ہوتی ہے، خاص طور پر جسمانی وزن میں کمی لانے کے لیے ورزش کے دوران غذا کا استعمال دیکھ بھال کر کرنا چاہیے۔ اگر ورزش کے دوران زیادہ میٹھے کے استعمال کیا جائے تو وزن کم ہونے کے بجائے بڑھنے لگتا ہے۔

جنک فوڈ کا استعمال جاری رکھنا 

اگر ڈائٹنگ اور ورزش کے ساتھ مرغن غذاؤں کا استعمال ترک نہیں کر رہے ہیں تو موٹاپے میں کمی لانے کا خواب بھی دیکھنا بھی چھوڑ دیں، بازار سے ملنے والی تیار غذاؤں کے بجائے گھر میں بنے پکوانوں کو ترجیح دیں، صحت مند وزن اور زندگی کے لیے  سادہ کھانے کو ترجیح دینا صحت مند وزن کے لیے  اہم  ہے۔

صحت سے مزید