• بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن

قومی اسمبلی میں حکومتی و اپوزیشن ارکان گتھم گتھا، متعدد ارکان گر پڑے


26ویں آئینی ترمیم کے معاملے پر قومی اسمبلی کا ایک اور ہنگامہ خیز اجلاس ہوا،  ڈپٹی اسپیکر قاسم سوری کی جانب سے اپوزیشن کو بل پر بولنے کی اجازت نہ دینے اور مسلسل تیسرے حکومتی وزیر کو اظہار خیال کا موقع دینے پر اپوزیشن شدید مشتعل ہو گئی۔

حکومتی اور اپوزیشن ارکان اسپیکر ڈائس کے سامنے گتھم گتھا ہوگئے، متعدد ارکان زمین پر گر پڑے۔ کراچی سے حکومتی رکن قومی اسمبلی عطا اللّٰہ نے بلند آواز میں ایوان میں ننگی گالیاں دے دیں۔ اپوزیشن نے ایوان میں پلے کارڈز لہرا دیے۔ شدید نعرے بازی اور سیٹیاں بجتی رہیں۔ کورم کی نشاندہی پر اجلاس غیر معینہ مدت تک ملتوی کردیا گیا۔

قومی اسمبلی کا اہم اجلاس چھبیسویں آئینی ترمیم کے معاملے پر حکومت اپوزیشن کے ایک دوسرے پر الزامات، نعروں، شور شرابے اور بالآخر حکومتی اور اپوزیشن ارکان کے گتھم گتھا ہونے کے بعد غیر معینہ مدت کے لیے ختم ہو گیا۔

اجلاس کی کاروائی چھبیسویں آئینی ترمیم پر بحث کے آغاز کے ساتھ ہی ہلڑ بازی کا شکار ہو گئی۔ حکومت اور اپوزیشن ارکان متفق نہ ہو سکے بل پر بحث کے دوران ہاؤس آرڈر میں رہے گا۔

اسپیکر نے حکومتی ارکان کو تقاریر کے لیے کہا تو اپوزیشن ارکان پلے کارڈز لہراتے ہوئے اسپیکر ڈائس کے سامنے آ گئے۔ ایجنڈے کی کاپیاں پھاڑ دی گئیں۔ متعدد ارکان آئین کی کتاب سے ڈیسک بجاتے رہے۔

اپوزیشن نے زبردست نعرے بازی بھی کی اور نالائق نااہل گھر جاؤ۔ آٹا چور، چینی چور، استعفی دو، ڈونکی راجا کی سرکار نہیں چلے گی۔ نہیں چلے گی کے نعرے بھی لگائے۔

شاہ محمود قریشی نے کہا کہ بل پاس ہو یا نہ ہو عوام کو معلوم ہو گیا کہ ہمارا موقف درست ہے۔ شاہ محمود قریشی کے بعد فواد چودھری نے تقریر کی اور اپوزیشن کی خوب کلاس لی۔

اس دوران اپوزیشن نے کورم کی نشاندہی کی لیکن کورم پورا نکلا۔ اس کےبعد جب ڈپٹی اسپیکر قاسم سوری نے اسد عمر کو خطاب کے لیے کہا تو اپوزیشن کا شدید ردعمل شروع ہوا۔

نوید قمر اور مریم اورنگزیب اسپیکر سے بات کرنے کے لیے گئے تو حکومتی ارکان ان کی جانب لپکے نوید قمر نےاسپیکر کا مائیک اکھیڑ کر انکی طرف اچھال دیا۔ جس کےبعد درجنوں افراد آپس میں گتھم گتھا ہو گئے۔ متعدد ارکان ایک دوسرے کے اوپر گر پڑے۔

کراچی سے حکومتی رکن عطا اللّٰہ نے بلند آواز میں ایوان میں پہلے پشتو پھر اردو میں گالیاں نکالیں۔ مرتضیٰ جاوید عباسی نے ان کے منہ پر ہاتھ رکھ دیا۔ اس موقع پر قاسم سوری کو اجلاس کچھ دیر کے لیے ملتوی کرنا پڑا۔

وقفے کے بعد قومی اسمبلی کے باوردی اہلکاروں نے اسپیکر ڈائس کو اپنے حصار میں لیے رکھا اور دوبارہ ایوان کی کارروائی شروع ہوئی۔

اسد عمر کے بعد راجا پرویز اشرف نے اپوزیشن کی جانب سے جوابی الزامات لگائے۔ راجا پرویز اشرف نے کہا کہ بل پر اپوزیشن نہیں بلکہ حکومت ایکسپوز ہوئی ہے۔ عوام کو پتہ چل گیا ہے کہ یہ پارلیمنٹ کو کیسے بلڈوز کرتے ہیں۔

اس موقع پر فواد چودھری نے کورم کی نشاندہی کر دی لیکن اپوزیشن کا کورم بھی پورا نکلا۔

راجا پرویز اشرف نے کہا کہ موجودہ وزیر اعظم نے عوام کو دھوکہ دینے کے لیے ترمیمی بل ایوان میں لائے۔ عمران خان اپنے ارکان کو سمجھائیں کہ گالیاں نہ دیں اور پارلیمنٹ کو عزت دیں۔ ایک موقع پر راجا پرویز اشرف کی زبان پھسل گئی اور خود کو راجا رینٹل کہہ دیا۔

بعد میں اکبر شہزاد کی گفتگو کے دوران کورم کی نشاندہی پر اسمبلی کا اجلاس غیر معینہ مدت کے لیے ملتوی کر دیا۔

قومی خبریں سے مزید