• بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن

سرمایہ کاری کا قحط، میکسیکو کی معیشت کی وبائی مرض سے بحالی میں رکاوٹ

میکسیکوسٹی: جوڈ ویبر

2018 میں میکسیکو کے صدر آندرس مینوئل لوپیز اوبریڈور نے بھاری اکثریت سے کامیابی حاصل کی تھی، اس وقت ان کی حکومت نے ملکی معیشت کو درپیش دیرینہ مسائل سے نکالنے کیلئے عوامی اور نجی سرمایہ کاری کو جی ڈی پی کے 25 فیصد تک لانےکا وعدہ کیا تھا ۔

اس کی بجائے سرمایہ کاروں کے غیر فیض رساں اقدامات کی وجہ سے سرمایہ کاری میں کمی واقع ہوئی ہے۔سرمایہ کاروں نے متنبہ کیا ہے کہ گزشتہ ماہ صدر آندرس مینوئل لوپیز اوبریڈور کا بجلی کے شعبے کے قواعد میں تیزی سے تبدیلی لانے والے قانون پر زور دینے کا اقدام اس کی تازہ ترین مثال ہے۔

انہوں نے جزوی طور پر تعمیر شدہ ہوائی اڈے اور شراب خانوں کو ختم کردیا ہے، بجلی کی نیلامی منسوخ کردی ہے،گیس پائپ لائن معاہدے دوبارہ تحریر کیے، نئی لیبلنگ کی ضروریات کے ساتھ پروسیسڈ مینوفیکچروں کو پریشان کردیا اور ملازمتوں کے ضمنی معاہدوں پر پابندی عائد کرنے کے منصوبوں پر زور دیا۔

نجی شعبے کے تھنک ٹینک سی ای ای ایس پی نے بتایا کہ صدر آندرس مینوئل لوپیز اوبریڈور کی مورینا پارٹی یا حکومت کے گزشتہ اڑھائی برس میں سرمایہ کاروں کے اعتماد کو کم کرنے کے لئے سرکاری کمپنی کو ترجیح دینے کا حالیہ فیصلہ ان کا 15 واں اقدام ہے۔

میکسیکو اپنی حکومت کی محدود مدد سے ہی 1932 سے اب تک کی شدید مندی سے نکلنے کے لئے جدجہد کررہا ہے،جو برازیل جیسی دیگر بڑی علاقائی معیشتوں کی جانب سے ضمانت کے مالیاتی امدادی اقدامات کے آغاز سے پیچھے ہٹ گیا ہے۔

آئی ایم ایف کے مطابق اس کے نتیجے میں مزید پانچ برس تک وبائی مرض سے پہلے کی سطح پر بحالی کی توقع نہیں کی جارہی ہے۔

میکسیکو کی سب سے بڑی کاروباری لابی سی سی ای کے سربراہ کارلوس سلازار نے فنانشل ٹائمز کو بتایا کہ انہوں نے یہ بل پیش کرنے کے لئے ایک خراب وقت تلاش کرنے کی کوشش کی ہوگی،اس میں کوئی شک نہیں ہے کہ اس سے مزید مسائل ہوں گے۔کوئی سرمایہ کار سرمایہ کاری نہیں کرنا چاہے گا۔

صدر آندرس مینوئل لوپیز اوبریڈور کا خیال ہے کہ بدانتظامی کے خاتمے کے ذریعے میکسیکو کو تبدیل کرنے کے ان کے خودساختہ مشن کے ایک حصے کے طور پرنجی شعبہ کے ساتھ ہارڈ بال کھیلتے ہوئے بدعنوانی اور اور غیرمنصفانہ مسابقت کا الزام عائد کیا ہے

دوسرا ڈیٹا رکھنے کا دعویٰ کرکے معیشت مسائل کا شکار ہے وہ اکثرتجاویز کو نظرانداز کرتے ہیں۔انہوں نے گزشتہ سال صارفین کے اخراجات میں کلیدی امداد کے طور پر جی ڈی پی کا تقریباََ 3.8 فیصد 40.6 ارب ڈالر ریکارڈ ترسیلات زر کو اجاگر کیا۔

صدر آندرس مینوئل لوپیز اوبریڈور نے پیشن گوئی کی کہ میکسیکو کی معیشت اس سال 5 فیصد بڑھے گی، جو تمام ماہرین اقتصادیات کے اندازوں سے کہیں زیادہ ہے، لیکن پھر بھی یہ اضافہ 2020 میں 8.5 فیصد سکڑاؤ کا مقابلہ نہیں کرسکے گا۔

ترقی کو برقرار رکھنا مشکل ہوگا۔لیپیز اوبریڈور کے پہلے وزیر خزانہ کارلوس اورزیا نے 2018 میں ایف ٹی کو بتایا تھا کہ اگر کوئی آپ کو کہتا ہے کہ آپ جی ڈی پی کے 25 فیصد کل سرمایہ کاری کا 5 فیصد بڑھاسکتے ہیں تو وہ جھوٹ بول رہا ہے۔

وبائی مرض کی وجہ سے لاطینی امریکا کی دوسری سب سے بڑی معیشت میں لاکھوں ملازمتیں خمت ہوگئیں اور کاروبار بند ہوگئے اور 44 فیصد ملازمین اپنی تنخواہوں سے ضروریات پوری کرنے میں ناکام ہیں، ماہرین اقتصادیات کا کہنا ہے کہ لاکھوں افراد کو خط غربت سے نیچے جانے سے بچانے کے لئے صدر کو سرمایہ کاری کو فروغ دینے کی ضرورت ہے۔

بروکریج فائنیمیکس کی چیف ماہر اقتصادیات جیسیکا رولیڈن نے کہا کہ نقصان سے بحالی کیلئے ایک طویل عرصہ درکار ہوگا، سرمایہ کاری کا ماحول کافی تناؤ کا شکار ہے۔ اشارے اچھے نہیں ہیں۔سرمایہ کاری کے بغیر درمیانی اور طویل المدتی ترقی کرنا ممکن نہیں ہے۔

اس کے باوجود سرمایہ کاری کم سے کم ہوتی جارہی ہے۔ گزشتہ سال کی تیسری سہ ماہی میں پلانٹس اور مشینری پر سرکاری اور نجی اخراجات کی رقم مجموعی مقررہ سرمایہ کاری جی ڈی پی کے بمشکل 19 فیصد سے زائد تھی۔2009 کے عالمی مالیاتی بحران کے دوران کے بعد سے اب تک اس سطح تک نہیں پہنچی۔

سرکاری اعدادوشمار کے مطابق وبائی مرض کے دوران براہ راست غیرملکی سرمایہ کاری میں 10 ارب ڈالر کی کمی واقع ہوئی اور اس میں زیادہ تر گرین فیلڈ منصوبوں کی بجائے زیادہ تر منافع کی ازسرنو سرمایہ کاری ہے۔

تھنک ٹینک میکسیکو انسٹی ٹیوٹ برائے مسابقت (IMCO) کے مطابق نجی سرمایہ کاری اب جی ڈی پی میں صرف 16.6 فیصد ہوتی ہے جو 2018 میں ہونے والی سرمایہ کاری سے تقریباََ 20 فیصد کم ہے۔

سی ای ای ایس پی نے بتایا کہ اگرچہ لاپیز اوبراڈور نے ایک ریفائنری، ہوائی اڈہ اور ایک ٹرین لائن سمیت مٹھی بھر بڑے بنیادی ڈھانچے کے منصوبوں کو آزمایا ، تاہم عوامی سرمایہ کاری جی ڈی پی کے 2.5 فیصد پر آگئی جو ان کے اقتدار سنبھالنے کے وقت 2.9 فیصد سے کم ہے۔

سی ای ای ایس پی نے کہا کہ ایسا لگتا ہے کہ موجودہ وفاقی حکومت سرمایہ کاری کو محدود کرنے کے لئے پرعزم ہے ، اور اس کے نتیجے میں معاشی نمو ہوگی۔

انویسٹمنٹ بینکنگ کمپنی کریڈٹ سوئس میں ابھرتی ہوئی مارکیٹوں کے ریسرچ منیجنگ ڈائریکتر الونسو سیوریرا نے کہا کہ ایسا نہیں لگتا کہ میکسیکو کے پاس معاشی نمو کا واضح ماڈل ہے، بلکہ ایسا لگتا ہے کہ ترقی کا ماڈل یہ ہے کہ ریفائنری، ٹرین اور ہوائی اڈے جیسے متعدد نمایاں منصوبے بنائے جائیں اور امید کی جائے کہ لوگ نقد رقم کی منتقلی سے خوش ہوں گے۔

لاپیز اوبراڈور بزرگوں کو پنشن اور تعلیمی گرانٹ سمیت معاشرتی اخراجات پر فخر کرتے ہیں۔

تاہم ماہرین اقتصادیات نے متنبہ کیا ہے کہ سرمایہ کاری کی کمی مستقبل میں کم ترقی کے امکانات کی ترجمانی کرے گی۔میکسیکو کئی عشروںسے سالانہ اوسطاََ 2 فیصد سے زیادہ ترقی کرنے میں ناکام رہا ہے۔اب سییورا نے کہا کہ محض 1.5 سے 2 فیصد تک پہنچنے کیلئے ممکنہ نمو ضرور تھی۔

سیاستدان لوئس روولڈان نے کہا کہ ہم ممکنہ نمو میں کافی واضح زوال کا سامنا کررہے ہیں۔

بجلی کا بل، جس کو تیزی سے ٹریک کیا گیا ہے اور بڑے پیمانے پر اس کی منظوری کی امید ہے،نے صرف مایوسی کے نقطہ نظر کو مزید شدید کیا۔

امریکی چیمبر آف کامرس نے اسے میکسیکو کی حکومت کی جانب سے اٹھائے گئے پریشان کن فیصلوں کے پیٹرن میں تازہ ترین ہے، جس نے ملک میں غیرملکی سرمایہ کاروں کے اعتماد کو مجروح کیا ہے۔

اور اس وبائی مرض کی وجہ سے اب وہ وقت ہے جب میکسیکو میں براہ راست غیرملکی سرمایہ کاری میں اضافے کی پہلے سے کہیں زیادہ ضرورت ہے۔

فنانشل ٹائمز سے مزید