آپ آف لائن ہیں
جمعرات19؍ رجب المرجب 1442ھ4؍مارچ 2021ء
  • بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن
Jang Group

اگر سوچا جائے تویہ ضمنی انتخاب سب کی آنکھیں کھولنے ، سب کو نیند سے جگانے اور سب کو جھنجھوڑنے کیلئے کافی۔سب سے پہلے حکومت اورتمام سیاسی جماعتوں کو شاباش، ہر الیکشن کے بعد رونا دھونا، لٹے گئے، مارے گئے، دھاندلی ہوگئی، ساڈا مینڈیٹ چوری ہوگیا، کان پک گئے یہ سن سن کر، مگر مجال ہے سب مل کر بیٹھیں، کوئی حل نکالیں، انتخابی اصلاحات کریں، فول پروف انتخابی نظا م بنائیں، ایسا میکنزم بنائیں کہ انتخابی عمل شفاف ہوسکے، کرنا کچھ نہیں، بس رونا دھونا ہے، اسی لئے اب یہ رونا دھونا سن کر رتی برابر دکھ نہیں ہوتا،اندازہ کریں، اڑھائی سال ہوگئے

تحریک انصاف کو، 2013کے انتخابات، تحریک انصاف سڑکوں پر تھی، دھاندلی ہوئی، چار حلقے کھولیں، جلسے، جلوس، احتجاج، لاک ڈاؤن، سول نافرمانی، لانگ مارچ، دھرنے، اقتدار ملا، تیس ماہ ہوگئے، ابھی تک ایک ایسا کام نہ کیا کہ اگلے الیکشن میں دھاندلی رک سکے، دوبارہ سڑکوں پر نہ آنا پڑے، اگراگلے اڑھائی برس اسی طرح گزارکر تحریک انصاف، اپوزیشن کسی دن پھر روئے دھوئے کہ دھاندلی ہوگئی،کون توجہ دے گا اس رونے دھونے پر۔

اپوزیشن جو اڑھائی سال سے کہہ رہی، دھاندلی ہوئی، یہ مینڈیٹ جعلی، یہ اسمبلیاں جعلی، 11جماعتی پی ڈی ایم بن چکا، مگرسب کی سب نہ صرف انہی جعلی اسمبلیوں میں بیٹھی ہوئیں، اسی جعلی نظام کا حصہ بلکہ اڑھائی سالوں میں ایک ایسا کام نہ کیا کہ اگلے الیکشن میں دھاندلی نہ ہو، لہٰذا حکومت، اپوزیشن دونوں بلکہ اس میں الیکشن کمیشن کو بھی شامل کرلیں، نتیجہ صفر بٹا صفر،یہ ضمنی الیکشن، گو کہ سچ، جھوٹ سامنے آنا باقی،لیکن جو خبریں، جیسے پریذئیڈانگ افسر غائب، ووٹوں کے بیگ آگے پیچھے، پولنگ اسٹیشن یرغمال، باقاعدہ منصوبہ بندی سے پولنگ سلو، نتائج میں تاخیر، جھگڑے، فسادات، مارپیٹ، فائرنگ، دوہلاک، 8زخمی، حکومت کہہ رہی ہم جیت چکے، نتیجہ دیا جائے

اپوزیشن کہہ رہی دھاندلی ہوئی، پولنگ دوبارہ کرائی جائے، حکومت کہہ رہی ہمارا صبر نہ آزمایا جائے، دھاندلی ن لیگ نے کی، اپوزیشن کہہ رہی پہلی بار الیکشن کمیشن کا عملہ بھی چوری ہوگیا، مینڈیٹ چوری ہوا، کوئی کہہ رہا ووٹ ڈالنے کی شرح 30چالیس فیصد تھی، اسے دھاندلی سے 80نوے فیصد بنا دیا گیا، مطلب حکومت، اپوزیشن دونوںدہائیاں دے رہے جبکہ الیکشن کمیشن بے بسی کی تصویر بنے بیٹھا کہہ رہا ہماری پولیس، انتظامیہ کسی نے سنی نہ مد دکی، یہ ڈسکہ کے ایک حلقے کا حال، اب اسی نظام، اسی الیکشن کمیشن نے پورے ملک میں بلدیاتی انتخابات بھی کرانے ہیں اور اڑھائی سال بعد پورے ملک میں قومی وصوبائی انتخابا ت بھی، خود ہی سوچئے، ایک حلقے میں دوہلاکتیں اور یہ حال، پورے ملک میں انتخابات ہوئے تو خدانخواستہ کیا کچھ نہیں ہوسکتا

لہٰذا حکومت، اپوزیشن، الیکشن کمیشن کو چاہیے ابھی بھی وقت، کچھ ایسا کر لیں کہ انتخابات شفاف ہوں، پرامن ہوں، یہاں جو دوافراد جان سے گئے، ان کے خاندانوں سے دلی تعزیت، اللہ مرحومین کی مغفرت کرے، ﷲ ان کے خاندانوں کو صبر عطا فرمائے۔

یہ ضمنی انتخابات، حکومت کی آنکھیں کھولنے کیلئے کافی، حکومت اپنے گھر نوشہرہ میں ہار گئی، خیبر پختونخواجہاں سے ساڑھے سات سال سے تحریک انصاف کا راج وہاں گروہ بندی بلکہ ایک خاندانی جھگڑے کی وجہ سے ہارجانا، یہ اس لیے تشویش کی بات کہ ایسی گروہ بندیاں، اختلافات تحریک انصاف کے ہر دوسرے حلقے میں موجود، نوشہرہ پرویز خٹک کا آبائی شہر، وہی پرویز خٹک جو کل ایک جلسے میں کہہ رہے تھے، میں تیلے کو بھی کھڑا کروں تو وہ بھی جیت جائے، اسی پرویز خٹک کا امیدوار ہار گیا، وہی پرویز خٹک جو کل کہہ رہے تھے، جسے چاہوں بنادوں، جسے چاہوں گرادوں، چاہوں تو عمران خان کی حکومت ایکدن میں گرادوں، وہی پرویز خٹک اپنے بھائی،بھتیجے کے ہاتھوں ہار گئے، بھائی لیاقت خٹک جنہیں سیٹ ہروانے کے بعد صوبائی وزارت سے ہاتھ دھونے پڑ گئے وہ اپنے بیٹے کو ایم پی اے کا ٹکٹ دلوانا چاہتے تھے جب بیٹے کو ٹکٹ نہ ملا تو باپ بیٹے نے مل کر حلقے میں ایسی چالیں چلیں کہ پی ٹی آئی کا امیدوار ہار گیا، خیر سے پرویز خٹک کے بھتیجے کو ٹکٹ مل جاتا تو وہ خاندان کا چھٹا فردہوتا، اس سے پہلے پرویز خٹک کے خاندان کے پانچ افراد اقتدار میں، بہرحال تحریک انصاف میں ابھی بھی بہت گروہ بندیاں، اختلافات ختم کرلیں، ورنہ نوشہرہ کی کہانی باقی حلقوں میں بھی دہرائی جا سکتی ہے ۔

یہ ضمنی انتخابات، مسلم لیگ ن کی آنکھیں کھولنے کیلئے کافی، بلاشبہ مسلم لیگ نے نوشہر ہ میں تحریک انصاف کی سیٹ جیت لی مگر مسلم لیگ کی طاقت پنجاب، سینٹرل پنجاب مسلم لیگ کا گڑھ، گوکہ مسلم لیگ نے وزیرآباد ایم پی اے کی اپنی سیٹ دوبارہ جیت لی مگر مسلم لیگ نے 2018ءکے انتخابات میں یہی سیٹ تقریباً 28ہزارووٹوں کی لیڈ سے جیتی، 2018کے انتخابات میں تحریک انصاف کے امیدوار نے اکیس ہزار 7سو بانوے جبکہ مسلم لیگ ن کے امیدوار نے 59ہزار دو سو 67ووٹ لئے، اس بار وہ سیٹ جو مسلم لیگ نے تقریباً 28ہزار ووٹوں کی لیڈ سے جیتی تھی، وہی سیٹ اس بار 4ہزار ووٹوں کی لیڈ سے جیتی، یہاں تحریک انصاف نے 2018ءکے انتخابات کے مقابلے میں دوگنا ووٹ لئے، جبکہ مسلم لیگ ن نے تقریباً 6ہزار ووٹ کم لیئے، اسی طرح ڈسکہ میں ہوا، گوکہ ڈسکہ میں دھاندلی کے الزامات پر نتیجہ رو ک دیا مگر یہاں بھی تحریک انصاف نے 2018کی نسبت زیادہ ووٹ لئے

2018میں یہ سیٹ مسلم لیگ نے 40ہزار ووٹوں کی لیڈ سے جیتی تھی، اس بار حالات یہ کہ پی ٹی آئی دعو یٰ کر رہی کہ وہ جیت چکی، جیت ہار کو ایک طرف رکھیں لیکن اپنی جگہ یہ اک حقیقت کہ تحریک انصاف کا ڈسکہ میں 2018ءکی نسبت ووٹ بینک بڑھا، یہ ضمنی انتخابات جمعیت علمائے اسلام ف کی آنکھیں کھولنے کیلئے بھی کافی، جمعیت خیبر پختونخوا کے ضلع کرم میں اپنی جیتی ہوئی سیٹ تحریک انصاف کے ہاتھوں ہار گئی

پی ڈی ایم کے صدر مولانا فضل الرحمٰن ڈھائی سال سے یہی کہہ رہے کہ 2018ء میں انہیں کے پی میں زبردستی ہروایا گیا، 2018ء کے انتخابات دھاندلی زدہ، مطلب انتخابات جعلی، مینڈیٹ جعلی، اسمبلیاں جعلی، وہ اس ضمنی انتخابات میں کے پی میں اپنی جیتی سیٹ ہا رگئے، کیا ا س بار بھی دھاندلی ہوئی، کیا یہ سیٹ بھی انہیں ہروائی گئی، کیا اس بار بھی کوئی داستاں ہے سنانے کیلئے، یہ سب کچھ سامنے ر کھ کر سوچا جائے تو یہ ضمنی انتخابات سب کی آنکھیں کھولنے کیلئے، سب کو نیند سے جگانے کیلئے، سب کو جھنجھوڑنے کیلئے کافی۔

تازہ ترین