آپ آف لائن ہیں
اتوار5؍رمضان المبارک 1442ھ 18؍اپریل2021ء
  • بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن
Jang Group

فنانشل ایکشن ٹاسک فورس (ایف اے ٹی ایف) کے پیرس میں 22سے 25فروری کے دوران پلینری ورچوئل اجلاس کے بعد پاکستان کو گرے لسٹ میں ہی برقرار رکھنے کا فیصلہ کرتے ہوئے شرائط پوری کرنے کیلئے رواں برس جون تک کی مہلت دے دی گئی ہے ۔صدر ایف اے ٹی ایف کاکہناہےکہ پاکستان نے تجاویز پر بھرپور پیش رفت کی،27میں سے 24نکات پر مکمل، 3پرجزوی عمل درآمد کیا، کچھ چیزیں مزید بہتر کرنے کی ضرورت، ٹیرر فنانسنگ کے ضمن میں خامیاں پائی گئیں، ʼاسلام آباداب بھی زیر نگرانی رہے گا،4ماہ بعد دیکھیں گے پاکستان کا ایکشن پلان پر عمل درآمد کتنا پائیدار ہے۔دوسری جانب وزارت خزانہ نےکہاہےکہ ایف اے ٹی ایف نے پاکستان کے ایکشن پلان پر مجموعی عملدرآمد پر پیش رفت کو سراہا۔ فنانشل ایکشن ٹاسک فورس آن منی لانڈرنگ ایک عالمی ادارہ ہے، اور اس کے قیام کا مقصد ان ممالک پر نظر رکھنا اور ان پر اقتصادی پابندیاں عائد کرنا ہے، جو دہشت گردی کے خلاف عالمی کوششوں میں تعاون نہیں کرتے، اس تنظیم کا دائرہ کار پوری دنیا ہے، یعنی یہ تنظیم دنیا بھر میں کہیں بھی سرگرمی کرسکتی ہے۔ گرے لسٹ دراصل فنانشل ایکشن ٹاسک فورس کی ایک وقتی یا عبوری فہرست ہوتی ہے، جس میں ان ممالک کو رکھا جاتا ہے، جن پرمنی لانڈرنگ نہ روکنے کا اندیشہ ہوتا ہے، جونہی یہ اندیشہ دور ہو جاتا ہے، اس ملک کا نام فہرست میں سے نکال دیا جاتا ہے۔ بصورت دیگرایسا ملک دنیا میں کہیںکاروبار نہیں کرسکتا اور بین الاقوامی مالیاتی ادارے ایسےملک کی امداد روک دیتے ہیں۔ معاشی عدم استحکام سے دوچار پاکستان ایک عرصہ سے گرے لسٹ میں ہےاور یہ صورتحال اس کی مشکلات بڑھا رہی ہے۔امید ہے کہ حکومت فیٹف کی تجاویز پرمکمل عملدرآمد کر کےملک کو گرے لسٹ سےنکالنے میں کوئی کسر نہ چھوڑے گی۔

اداریہ پر ایس ایم ایس اور واٹس ایپ رائے دیں00923004647998

تازہ ترین