آپ آف لائن ہیں
اتوار5؍رمضان المبارک 1442ھ 18؍اپریل2021ء
  • بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن
Jang Group

یہاں سب کچھ پلان اے کے مطابق ہو رہا تھا۔ وفاق اور تین صوبوں میں پی ٹی آئی اور اس کے اتحادیوں کی حکومت اور ایک صوبے میں پیپلز پارٹی کی حکومت قائم ہے ۔اسٹیبلشمنٹ اور حکومت ایک صفحے پر موجود تھے، خارجہ پالیسی اور معاشی پالیسی پر مکمل اتفاق رائے ہے ،اپوزیشن میں سے مسلم لیگ ن قابل قبول نہیں، پیپلز پارٹی کے ساتھ ورکنگ ریلیشن شپ جاری ہے ۔

اگر یہ سب کچھ پلان اے کے مطابق ہو رہا تھا تو اس کا ’’پلان بی ‘‘ کیا ہے ؟؟پلان بی میں اسٹیبلشمنٹ نیوٹرل ہو گئی ہے اب حکومت کی غلطیاں حکومت کے کھاتے میں ڈالی جائیں گی، اسٹیبلشمنٹ کو اس کا ذمہ دار نہیں ٹھہرایا جائے گا۔

ضمنی انتخابات میں خاص طور پر یہ نظر آیا کہ اسٹیبلشمنٹ نیوٹرل رہی، چیف الیکشن کمشنر کے فیصلے میں بھی یہ صاف نظر آ رہا ہے کہ ان پر اسٹیبلشمنٹ کی طرف سے کوئی دبائو نہیں تھا اسی لئے انہوں نے آزادانہ، منصفانہ اور دلیرانہ فیصلہ کیا۔

پلان اے کی تجویز یہ تھی کہ حکومت اپنا 5سالہ مینڈیٹ پورا کرے کیونکہ بار بار الیکشن سے عدم استحکام پیدا ہوتا ہے، فلسفہ یہ ہے کہ حکومت کو اپنے منصوبے اور کاموں کی تکمیل کا بھرپور موقع ملنا چاہئے، وہ اپنے منشور کے مطابق عمل کرے اور لوگوں کیلئے فلاحی منصوبے بنائے ،اسٹیبلشمنٹ کی اس خواہش کہ حکومت 5سال پورے کرے کے برعکس حالات درپیش ہو جائیں تو پھر اس صورت میں پلان بی پر عملدرآمد شروع ہو جائے گا۔

پلان اے کے آغاز میں حکومت پر تنقید کو ریاست پر تنقید کے مترادف سمجھا جاتا تھا مگر اب پلان بی کے تحت حکومت اور ریاست الگ الگ ہیں، حکومت پر تنقید کی جا سکتی ہے ریاست پر نہیں۔ گویا اسٹیبلشمنٹ نے یہ واضح کر دیا ہے کہ حکومت پر تنقید کرنے کی اجازت ہے اور اس تنقید سے حکومت اور ریاست دونوں کو سبق سیکھنا چاہئے۔

پلان بی کا کچھ حصہ پلان اے سے ملتا جلتا ہے ابھی تک ن لیگ کے حوالے سے قبولیت پیدا نہیں ہوئی لیکن حمزہ شہباز شریف کی رہائی سے ایک بار پھر مصالحت اور مفاہمت کی سیاست زور پکڑے گی، حمزہ شہباز اور شہباز شریف جیل کاٹنے کے باوجود اپنے مفاہمانہ بیانیے پر قائم ہیں حکومت پر غصہ اور ناراضی کے باوجود وہ اسٹیبلشمنٹ سے لڑائی پر آمادہ نہیں ہوئے اس لئے پلان بی میں ن لیگ کے مفاہمانہ موقف کے لئے گنجائش موجود ہے ،ویسے بھی پلان اے کا پوسٹ مارٹم کرنے والوں کا کہنا ہے کہ پنجاب اور مرکز دونوں کا اقتدار پی ٹی آئی کو دے کر فاش غلطی کی گئی، اس سے نہ صرف سیاسی توازن ختم ہوا بلکہ وفاق اور صوبائی دونوں سطحوں پر نوآموز سیاست دانوں کو اقتدار دے کر ایک ناکام تجربہ کیا گیا۔

پلان اے پر جب بھی بحث مباحثہ ہوتا ہے اس کی غلطیوں اور خامیوں پر بات ہوتی ہے، خاص طور پر یہ نوٹ بھی کیا جاتا ہے کہ دو جماعتی نظام کی دونوں جماعتیں پیپلز پارٹی اور نون لیگ اتنی تجربہ کار ہو گئی تھیں کہ دونوں ملک کے پہیے کو کامیابی سے آگے دھکیل لیتی تھیں، ان کے پاس تجربہ کار لوگوں کی ٹیم اور ویژن تھا اپنے اپنے انداز میں وہ حکومت چلا لیتی تھیں اس بار پلان اے کے مطابق جن کو حکومت ملی ہے وہ ناتجربہ کار ہیں اور ان سے حکومت چل نہیں پا رہی ۔

جب پلان اے پر زور وشور سے عمل جاری تھا تو حکومت کی غلطیوں کی ذمہ داری بھی اسٹیبلشمنٹ پر ڈالی جا رہی تھی اور پھر اس پلان کی سب سے بڑی کمزوری اس وقت آشکار ہوئی جب جلسہ عام میں سابق وزیراعظم نواز شریف نے باقاعدہ جرنیلوں کے نام لیکر ان کو موجودہ سیاسی و معاشی حالات کا ذمہ دار ٹھہرایا۔

یہی وہ صورتحال تھی جس میں اس ضرورت کا احساس کیا گیا کہ اسٹیبلشمنٹ کو نیوٹرل رول ادا کرنا چاہئے وگرنہ وہ اسی طرح سیاسی طور پر مطعون ہوتی رہے گی چنانچہ پلان بی کے تحت آہستہ آہستہ اسٹیبلشمنٹ نے اپنے آپ کو نیوٹرل بنانا شروع کر دیا ۔ڈی جی آئی ایس پی آر نے اپنی ایک پریس بریفنگ میں فوج کے نیوٹرل ہونے پر نہ صرف زور دیا بلکہ اصرار کیا۔ تازہ حالات میں یوں محسوس ہو رہا ہے کہ واقعی آہستہ آہستہ یہ تبدیلی رونما ہو رہی ہے ۔

پلان اے اور پلان بی میں موجودہ حکومت کی میعاد کے حوالےسے مماثلت پائی جاتی ہے، دونوں پلانز کے مطابق موجودہ حکومت کو اپنی پانچ سالہ میعاد پوری کرنی چاہئے۔

پلان اے میں ناگزیر حالات کے حوالے سے کوئی قیاس آرائی یا منصوبہ بندی نہیں تھی، پلان بی میں ناگزیر صورتحال پر لازماً مکالمہ ہوا ہو گا اور اندازہ یہ ہے کہ اگر حکومت کے اندرونی اختلافات بڑھتے ہیں یا اندرونی بغاوت ہوتی ہے اپوزیشن کا دبائو بڑھتا ہے لانگ مارچ اور دھرنا اپنے عروج کو چھوتا ہے تو ایسے میں مصالحتی یا قومی حکومت بن سکتی ہے یہ قومی مصالحتی حکومت نا پائیدار ہو گی اور اس پر بہت اعتراض اٹھیں گے، عمران خان کے حامی ایک طاقتور اپوزیشن کے طور پر سامنے آسکتے ہیں مگر پلان بی کے حامیوں کا خیال ہے کہ صورتحال کا اصلی حل تو نئے انتخابات ہی ہوں گےالبتہ قومی مصالحتی حکومت ایک عارضی اقدام ہو گا اس حکومت میں PTIکا ناراض گروپ ن لیگ مفاہمتی گروپ، ق لیگ اور پیپلز پارٹی شامل ہو سکتے ہیں۔

پلان بی کے مفروضوں اور منصوبوں کی باتیں اس لئے بھی ہو رہی ہیں کہ باوجود کوششوں کے ہماری معاشی نمو، نواز شریف دور کے مقابلے میں آدھی بھی نہیں ہے۔ جی ایس پی پلس کے حوالے سے ایسے اشارے مل رہے ہیں کہ اگر پاکستان کے بین الاقوامی معاملات ٹھیک نہ ہوئے تو یہ سہولت ختم ہو سکتی ہے ۔فیٹف کے حوالے سے بھی سردست کوئی کامیابی نظر نہیں آ رہی ۔

خان صاحب کے 5سال پورے ہوں یا نہ ہوں صاف لگ رہا ہے کہ معاشی حوالے سے ان سے کوئی کارنامہ سرزد نہیں ہونے جا رہا ۔ملک معاشی طور پر قرضوں کا محتاج اور پسماندہ ہی رہے گا ۔بدقسمتی یہ ہے کہ خان صاحب اور ان کے وزیر خزانہ کے پاس کوئی ایسا خواب بھی نہیں ہے جسے دکھا کر لوگوں کو مطمئن کرسکیں ۔

پلان اے نے جتنا چلنا تھا چل لیا اب پلان بی کی باری ہے۔ اب اگر واقعی اسٹیبلشمنٹ سو فیصد نیوٹرل ہو جائے، حکومت اور اپوزیشن آمنے سامنے ہوں، دونوں میں سے کسی کو بھی کسی طاقت کی سپورٹ نہ ہو، ایسی محاذ آرائی ہو گئی تو لازماً حکومت کو دھچکے لگیں گے اور وہ ویسی مزاحمت نہیں کرسکے گی جیسی پلان اے کے زمانے میں کرتی رہی ہے۔

البتہ حکومت کے لئے اچھا شگون یہ ہے کہ پلان بی میں بھی حکومت کو اتارنے میں مدد دینے کا کوئی منصوبہ شامل نہیں بلکہ حکومت کو پورا وقت دینے کا عندیہ ہے اپوزیشن پلان بی پر خوش ہو سکتی ہے کہ اسی کی وجہ سے ضمنی انتخاب میں دھاندلی بے نقاب ہوئی، اسی وجہ سے پورے حلقے میں ری پولنگ کا اعلان ہوا ۔حمزہ شہباز شریف کی رہائی کو بھی اسی کھاتے میں ڈالا جاسکتا ہے، یوں ایک نیا دور شروع ہے دیکھنا یہ ہو گا کہ اس میں اپوزیشن اپنے کارڈز کیسے کھیلتی ہے ؟

(کالم نگار کے نام کیساتھ ایس ایم ایس اور واٹس ایپ رائےدیں00923004647998)

تازہ ترین