• بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن

دورِ جدید کے بہت سے دیگر خطرات میں سے ایک ’’کالا تیل‘‘ بھی ہے۔ لبریکینٹ ،موٹر یا انجن آئل ہو یا کھانا پکانے کا تیل ، مسلسل استعمال سے کالا پڑ جاتا ہے۔ ایسے تیل کو ’’کالا تیل‘‘ کہا جاتا ہے۔ ہمارے ملک میں کالے تیل کی خرید وفروخت بھی ملٹی ملین ڈالرز کاکاروبار ہے۔ اس تیل کا کاروبار کرنے والے چھوٹے بیوپاری تو دن بھر کی محنت اور جسم اور کپڑے میلے کرنے کے بعد دو تین سو روپے کما لیتے ہیں۔ لیکن بڑے بیوپاریوں کے جسم اور کپڑے تو میلے نہیں ہوتے البتہ ان کا من ضرور میلا ہو جاتا ہے۔ اور وہ لاکھوں روپے کماتے ہیں ۔

ایک اندازے کے مطابق دنیا بھر میں استعمال ہونے والے کل انجن آئل میں سے صرف پینتالیس فی صد مختلف طریقوں سے جمع کیا جاتا ہے۔ باقی پچپن فی صدآخری صارفین ماحول کے حوالے کر دیتے ہیں۔ ہمارے ملک میں گاڑیوں کی مرمت اور سروس کرنے والے اس کالے تیل کو غیر محفوظ طریقوں سے استعمال کرنے یا ٹھکانے لگانے کے ضمن میں سرفہرست ہیں۔ استعمال شدہ انجن یا لبریکینٹ آئل کا سفر موٹر میکینکس کی دکانوں، گیراج اور فٹ پاتھ پر بیٹھے موٹر آئل تبدیل کرنے والوں کے ٹھیوںسے شروع ہوتا ہے۔ یہ لوگ گاڑیوں کا پرانا تیل نکالنے کے بعد ٹین یا کنستر یا پلاسٹک کے ڈبوں میں جمع کرتے رہتے ہیں۔

اس مرحلے کے بعد اس کاروبار میں ایک اور کردار شامل ہو جاتا ہے۔ آپ نے گلی محلوں اور سڑکوں پر بھی اکثر ایسے افراد کو دیکھا ہو گا جن کی سائیکل یا موٹر سائیکل کے ساتھ دو گندے ڈبے لٹکے ہوتے ہیں۔ اور ان کے کپڑے اس تیل سے آٓلودہ ہوتے ہیں۔ یہ کالا تیل جمع کرنے والے لوگ ہیں۔ یہ لوگ موٹر مکینکس اور گیراجوں سے تیل خریدنے کے بعد اسے چھوٹے ڈیلر کے ہاتھوں فروخت کر دیتے ہیںجو اسے بڑے ڈیلر کو فروخت کرتے ہیں۔ بڑے ڈیلرز کالا تیل ری سائیکل کرنے والے قانونی طور پر قائم پلانٹ کو غیر قانونی طور پر مختلف علاقوں میں قائم بھٹیوں کو فروخت کرتے ہیں۔

پاکستان میں استعمال شدہ لبریکینٹ یا انجن آئل کو ری سائیکل کرنے کے بارہ تا چودہ یونٹس قانونی طور پر موجود ہیں۔ جن میں سے چارکراچی میں کورنگی، اورنگی اور سپر ہائی وے کے قریب موجود ہیں، ایک جیکب آباد میں اور سات ملتان میں قائم ہیں۔یہ پلانٹس ہائیڈرو کاربن ڈیولپمنٹ انسٹی ٹیوٹ، آئل اینڈ گیس ریگولیٹری اتھارٹی اور پیٹرولیم کی وزارت کی اجازت، ان کی جانب سے طے شدہ معیارات اور قاعدے قوانین کے مطابق کام کرتے ہیں۔ پاکستان میں قائم ان یونٹس کے بارے میں کہا جاتا ہے کہ ان میں سے ہر یونٹ یومیہ20ٹن کالے تیل کو ری سائیکل کر سکتا ہے۔ یہ پلانٹس الیکٹرک جنریٹرز، موٹر گاڑیوںاور ٹرانسفارمرز سے نکلنے والے تیل کو ری سائیکل کر سکتے ہیں۔ تاہم ان میں سے ہر تیل کی ری سائیکلنگ کے بعد حاصل ہونے والے تیل کا معیار مختلف ہوتا ہے۔

وسیع کاروبار

کالے تیل کا کاروبار کافی پھیلا ہوا ہے۔ اس پر گہری نگاہ رکھنے والوں کے مطابق اس کاروبار کے غیر قانونی حصے کی وجہ سے ملک میں کالے تیل کی قانونی طریقے سے ری سائیکلنگ کرنے اور اعلیٰ معیار کا لبریکینٹ تیار کرنے والے اداروں کو کافی نقصان اٹھاناپڑتاہے۔ کالے تیل کی نکاسی کے تین راستے بتائے جاتے ہیں۔ پہلا راستہ یہ ہے کہ کالا تیل قانونی طریقے سے ری سائیکل کرنے والے پلانٹس تک پہنچ جائے، دوسرا راستہ یہ ہے کہ غیر قانونی، گھٹیا اور انسانی صحت کے لیے سخت خطرناک طریقے سے ری سائیکلنگ کرنے والے مراکز تک پہنچ جائے اور تیسرا راستہ یہ ہے کہ کالے تیل کو مختلف طریقوں سے استعمال کرنے والے خرید کر لے جائیں۔ 

واضح رہے کہ کالا تیل شٹرنگ کے تختوں کو پانی اور سیمنٹ کے مضر اثرات سے بچانے کے لیے، کھڈّیوں اور مختلف مشینوں کو چکنائی فراہم کر کے پرزوں کو گِھسنے سے بچانے کے لیے اور گاڑیوں کی سروس کے دوران واٹر جیٹ کے ذریعے گاڑیوں کے نچلے حصے اور بسوں وغیرہ کے فرش پر دبائو کے ساتھ اسپرے کرنے کے لیے بھی استعمال کیا جاتا ہے۔

کالے تیل کے کاروبار سے وابستہ مختلف کرداروں سے مختلف طریقوں سے معلومات حاصل کی گئیں ، کہیں گاہک بن کر، کہیں شناخت ظاہر کر کے اور کہیں اپنے پاس موجود کالے تیل کا ذخیرہ فروخت کرنے میں دل چسپی رکھنے والے فرد کے طور پر گفتگو کی گئی۔ ایم اے جناح روڈ پر واقع اقبال پلازا کے عقب میں موٹر سائیکلز کی مرمت کرنے والے بہت سے مکینکس کی دکانیں ہیں۔ وہاں کالے تیل کا گاہک بن کر جانے پر بتایا گیا کہ استعمال شدہ انجن آئل کا 18لیٹر کا کنستر300سے400روپے میں فروخت ہوتا ہے۔ 

جٹ لائن کے علاقے میں کالے تیل کے ایک چھوٹے ڈیلر سے شناخت ظاہر کیے بغیر گفتگو کی گئی تو پتا چلا کہ وہ30روپے فی لیٹر کے حساب سے استعمال شدہ موٹر آئل خریدتے ہیں۔ اس ڈیلر کو بتایا گیا کہ عمدہ قسم کے کالے تیل کا ایک ڈرم موجود ہے، تو اس نے فوراً پیش کش کی کہ 210لیٹر کے ڈرم کے نرخ فی لیٹر 30روپے کے حساب سے6300روپے بنتے ہیں لیکن اگر ان کے معیار کے مطابق ہوا تو وہ پورا ڈرم 6800 روپے میں خرید لیں گے۔

رنچھوڑ لائن ،اکبر روڈ، لسبیلہ اور ملیر میں بائیسکلز اور موٹر سائیکلز کے ذریعے دکان دکان جا کر کالا تیل جمع کرنے والے افراد سے گفتگو کرنے پر معلوم ہوا کہ وہ موٹر مکینکس سے25تا 28روپے فی لیٹر کے حساب سے کالا تیل خریدتے ہیں ۔ گارڈن کے علاقے میں نئے اور پرانے موٹر آئل کا کاروبار کرنے والے چھوٹے بیو پاری نے معلومات میں مزید اضافہ کیا ۔بتایا گیا کہ کالے تیل کا کاروبار کرنے والے تیل کا نمونہ جانچنے کے بعد سودا کرتے ہیں ۔ گاڑیوں سے نکلنے والا تیل انگلیوں پر لگا کر جانچا جاتا ہے، جس نمونے میں جتنی زیادہ چپچپاہٹ ہوتی ہے، اس کے نرخ اتنے زیادہ ہوتے ہیں ۔ 

مختلف صنعتوں میں استعمال ہونے والا تیل موٹر گاڑیوں سے نکلنے والے تیل کی طرح کالا نہیں ہوتا ، اسے جانچنے کے لیے ٹیسٹ ٹیوب میں نمونہ لے کر اس کی رنگت اور بہنے کے انداز پر غور کیا جاتا ہے اور ضرورت پڑنے پر اسے بھی انگلیوں پر لگا کر چپچپاہٹ کا اندازہ لگایا جاتا ہے۔ کھانا پکانے کے لیے استعمال ہونے والا تیل مختلف کاروباری حضرات بار بار استعمال کرنے کے بعد جب وہ کالا پڑ جاتا ہے تو اسے فروخت کر دیتے ہیں۔ اس قسم کے عمدہ معیار کے کالے تیل کا 18لیٹر کا کنستر450روپے میں خریدا جاتا ہے۔ جسے صابن بنانے والے افراد یا ادارے خرید کر لے جاتے ہیں۔

گندا ہے، پر خوب دھندا ہے

بلال کالونی کورنگی میں کالے تیل کو غیر قانونی طریقہ سے ری سائیکل کرنے والے احسان نامی شخص کے مطابق وہ پانچ برس سے یہ کام کر رہے ہیں۔ ان کے مطابق اگر پولیس اور متعلقہ سرکاری اداروں سے ’’ اچھی سیٹنگ‘‘ ہو جائے تو یہ کاروبار بہت منافع دیتا ہے۔ اسے صرف 40مربع گز کی جگہ پر بھی شروع کیا جا سکتا ہے۔ ایک بڑے سے کڑھائو اور ایک دو افراد کی ضرورت ہوتی ہے ۔ 

کڑھائو میں کالا تیل ڈال کر اسے اچھی طرح آگ پر پکایا جاتا ہے، اس عمل کے نتیجے میں کالک (کاربن)تہ نشیں ہو جاتی ہے، پھر اسے دوسرے کڑھائو میں منتقل کر کے اس میں کاسٹک سوڈا وغیرہ ملایا جاتا ہے جو میل کو تیل سے علیحدہ کر کے تہہ نشیں کر دیتا ہے اور تیل کسی حد تک صاف ہو جاتا ہے۔ پھر اس میں کلر ڈائز(رنگ دینے والا کیمیکل) ملایا جاتا ہے اور اسے کنستر وغیرہ میں بند کر کے آگے سپلائی کر دیا جاتاہے۔ احسان کے مطابق کراچی میں شیر شاہ، لیاری، بلدیہ ٹائون ، کورنگی ، اورنگی، لانڈھی، بھینس کالونی، وغیرہ میں ایسی بہت سی بھٹیاں مصروفِ عمل ہیں۔ بتایا گیا کہ شیر شاہ کا علاقہ کالے تیل کی خریدو فروخت کا شہر میں سب سے بڑا مرکز ہے۔

ان بھٹیوں سے نکلنے والا تیل پتلا ہوتا ہے۔ اسے دو اسٹروک والی گاڑیوں میں استعمال کیا جاتا ہے۔ اور بعض عاقبت نا اندیش تازہ کھلے ہوئے اور بعض معروف اداروں کے ڈبوں میں ملا کر لوگوں کو فروخت کر دیتے ہیں۔ دو اسٹروک والے انجنز کو چلانے کے لیے پیٹرول کے لیے تھوڑا سا موبل آئل درکار ہوتا ہے۔ 

جو پرزوں کو تھوڑی سی چکناہٹ فراہم کر دیتا ہے۔ لہٰذا رکشے اور سوزوکی پک اپ والے یہ سستا تیل استعمال کرتے ہیں۔ لیکن چار اسٹروک والی گاڑیوں میں جب یہ سستا تیل ڈالا جاتا ہے۔ تو نتیجہ انجن کی تباہی کی صورت میں برآمد ہوتا ہے۔ جگہ جگہ فٹ پاتھس پر موٹر سائیکلز میں یہ کڑھائو کا تیل60-تا70روپے میں ڈالاجاتا ہے۔ اس کی جگہ ڈبہ بند تیل کم از کم 200روپے کے عوض ملتا ہے۔ لہٰذا بہت سے افراد مہنگائی کی وجہ سے یہ سستا تیل خریدنا ہی پسند کرتے ہیں۔

کالے تیل کی قانونی طریقے سے ری سائیکلنگ کرنے والے ایک سرمایہ کار کے مطابق انہوں نے جیکب آباد میں اس مقصد کے لیے پلانٹ لگایا ہے۔ ان کے مطابق تیل کی ری سائیکلنگ کی صنعت دنیا میں بہت ترقی کر چکی ہے۔ اور اگر جدید ترین ٹیکنالوجی استعمال کی جائے تو ری سائیکلنگ کے ذریعے ہائی گریڈ تک کا تیل حاصل کرنا ممکن ہوتا ہے۔ ان کے مطابق امریکا کی فضائیہ تین مرتبہ تک ری سائیکل کیے گئے تیل سے تیار ہونے والی مصنوعات بھی استعمال کرتی ہے۔ 

گاڑیوں سے نکلنے والے تیل میں25فیصد تک طاقت یا ایک مکمل Additive پیکیج موجود ہوتا ہے۔ ان کا پلانٹ ایسڈ ٹریٹمنٹ کے ذریعے تیل ری سائیکل کرتا ہے۔ اور حاصل شدہ تیل دو اسٹروک انجن والی گاڑیوں کے لیے ہوتا ہے۔ پاکستان میں پانچویں اور چھٹے درجے کے بھی موٹر آئل دست یاب ہیں جو تباہی پھیلا رہے ہیں۔ کڑھائو والے تیل میں ایڈیٹیو، ڈٹر جنٹس اور وسکوسٹی امپروور نہیں ملائے جاتے، لہٰذا وہ انجن کو سخت نقصان پہنچاتے ہیں۔

کالے تیل کے کاروبار کے ضمن میں یہ بھی پتا چلا کہ کڑھائو کے تیل میں صنعتوںسے نکلنے والا تیل اور ریفائنری سے نکلنے والا نان بلینڈیڈ آئل بھی ملایا جاتا ہے، جس میں ایڈیٹیو وغیرہ نہیں ہوتے۔ اس کاروبار میں بڑے بڑے لوگ ملوث ہوتے ہیں۔ ان لوگوں کی طاقت اور اثرو رسوخ کا یہ عالم ہے کہ انہوں نے ماضی میںمتعلقہ اداروں کی آنکھوں میں دھول جھونک کر کھانے کے اور گاڑیوں کے استعمال شدہ تیل سے بھرے ہوئے 2000کنٹینرز جن کی منزل کابل تھی، پاکستان میں اتروا کر کسٹم سے کلیئر بھی کروا لیےتھے۔

مارچ 2010میں سینیٹ کی قائمہ کمیٹی برائے تجارت کے اجلاس میں سینیٹر الیاس بلور نے یہ انکشاف کر کے بہتوں کو سوچنے پر مجبور کردیاتھا۔ اسی مجلس میں سینیٹر سیمیں صدیقی ،نے یہ انکشاف کیا تھا کہ ان دنوں کراچی سمیت ملک کے مختلف حصوں میں استعمال شدہ کھانے کے اور گاڑیوں کے تیل کی فروخت کا کاروبار خوب پھل پھول رہا ہے اور اسے مقامی حکام کی سرپرستی حاصل ہے۔

کالے تیل کے کاروبار میں بہت سے طاقت ور اور بااثر افراد کے من تک میلے ہو چکے ہیں پھر مسئلے کا حل کیا ہے؟ ماہرین کے مطابق ایک سادہ سا حل یہ ہے کہ ملک میں اعلیٰ معیار کا لبریکینٹ یا انجن آئل اور بہت موثر آئل فلٹرز تیار کیے جائیں اور لوگوں کو انہیں استعمال کرنے کی ترغیب دی جائے۔ اس طرح استعمال شدہ تیل(کالا تیل) گاڑیوں سے کم نکلے گا۔ اگلے مرحلے میںکالے تیل کو جمع کرنے کے یونٹس بنائے جائیں۔ مغرب میں ایسے یونٹس موجود ہیں جو کالے تیل کو محفوظ طریقے سے ٹھکانے لگانے یا قانونی طور پر ری سائیکل کرنے میں مدد دیتے ہیں۔ آخری تجویز یہ ہے کہ کالے تیل کو جمع، فروخت اور صاف کرنے کے غیر قانونی کاروبار پر فوراً پابندی لگا دینی چاہیے۔

ماحول اور انسانی صحت کے لیے خطرہ

استعمال شدہ موٹر آئل نہ صرف گاڑیوں بلکہ انسانی صحت اور ماحول کیلیے بھی خطرناک ہوتا ہے۔ کیوں اس میں بھاری دھاتوں کا کافی ارتکاز پایا جاتا ہے۔ جامعہ کراچی کی سینٹرالائزڈسائنس لیباریٹری کی جانب سے2009 ء میں کی جانے والی تحقیق کے مطابق شہر کے پندرہ مقامات سے استعمال شدہ موٹر آئل کے حاصل کیے گئے نمونوں میں مختلف دھاتوں کی اوسط شرح کچھ یوں پائی گئی:سیسہ 110ذرّات فی ملین (پی پی ایم)، زنک685پی پی ایم، بیریم 18.1پی پی ایم، سنکھیا 5پی پی ایم، کیڈمیم 2.5پی پی ایم اور کرومیم 3.2پی پی ایم۔ 

اسی طرح جن مقامات پر یہ تیل استعمال کرنے کے دوران زمین پر گرتا ہے۔ وہاں سے حاصل کیے گئے مٹی کے نمونوں میں سنکھیا 100پی پی ایم ، کیڈمیم 20پی پی ایم، سیسہ 1800پی پی ایم اور بیریم 285پی پی ایم کی شرح سے پایا گیا۔ تحقیق کے مطابق یہ تمام دھاتیں جان داروں کی صحت کے لیے بہت خطرناک ہوتی ہیں اور ان سے سرطان لاحق ہونے کا خطرہ ہوتا ہے۔ لہٰذا اس قسم کا تیل اگر جِلد پر لگتا رہے تو صحت کو شدید نقصان پہنچا سکتا ہے۔ واضح رہے کہ کراچی میں گاڑیوں کی سروس کرنے والے زیادہ تر مراکز میں اس تیل کو پانی کے ساتھ ملا کر ہوا کے دبائو کے ذریعے گاڑیوں پر اسپرے کیا جاتا ہے جس کی وجہ سے اس کے ذرّات سانس کے ساتھ جسم میں داخل ہو جاتے ہیں۔ 

افسوسناک امر یہ ہے کہ اس تیل کو مختلف طریقوں سے استعمال کرنے یا اسے غیر قانونی طور پر ری سائیکل کرنے والے اکثر افراد حفاظتی لباس یا ماسک نہیں پہنتے ہیں۔ ماہرین ماحولیات کے مطابق یہ تیل زمین میں جذب ہونے کے بعد فطری عمل کے ذریعے کسی حد تک اجزاء میں ٹوٹ کر مٹی کا حصہ بن جاتا ہے۔ لیکن یہ عمل پوری طرح نہیں ہوتا اور اگر اس قسم کے تیل کو محفوظ طریقے سے ٹھکانے نہ لگایا جائے تو مٹی اور زیر زمین پانی کو آلودہ کر دیتا ہے۔

کراچی میں واقع جِلدی امراض کے علاج کے ایک اسپتال کے ڈاکٹر کے مطابق ان کے پاس ہر ہفتے تقریباً بارہ مریض ایسے آتے ہیں جو آٹو سروس اسیٹشنز میں کام کرتے ہیں۔ وہ عموماً جِلد کی الرجی کی وجہ سے خارش کی شکایات کے ساتھ اسپتال آتے ہیں۔ ان میں سے بعض کی جِلد سرخ ہو جاتی ہے پھٹ جاتی ہے اور اس پر چھالے پڑ جاتے ہیں۔ 

مذکورہ ڈاکٹر کے مطابق بغیر حفاظتی تدابیر اختیار کیے واٹر جیٹ کے ذریعے اس تیل کا اسپرے کرنے والے افراد جلد ہی سرطان کا شکار بھی ہو سکتے ہیں۔ ماہرینِ صحت کے مطابق اس تیل سے مستقل واسطہ رکھنے والوں کی آنکھوں کو بھی سخت نقصان پہنچنے کا خطرہ ہوتا ہے۔ پیٹرو کیمیکلز مرکبات میں بینزین بھی پائی جاتی ہے اور اگر اس سے زیادہ عرصے تک واسطہ پڑتا رہے تو مثانے کا سرطان ہو سکتا ہے۔

پاکستان نے اگرچہ خطرناک فضلے کی نقل و حمل سے متعلق عالمی معاہدے باسل کنونشن پر دست خط کیے ہیں اور فضلے کو ٹھکانے لگانے کے بارے میں، ملک کے اپنے نیشنل انوائرنمنٹ کوالٹی اسٹینڈرڈز ہیں، لیکن ان پر عمل ہوتا نظر نہیں آتا۔